اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے مجموعہ قوانین کو شریعت یا شرعی قوانین کہتے ہیں۔

اس بارے میں بحث جاری ہے کہ آیا شریعت جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی فکر، خواتین کے حقوق، ایل جی بی ٹی کے حقوق اور بینکنگ سے مطابقت رکھتی ہے۔[1][2][3]

شریعت کی اقسامترميم

اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو شرعی احکام ہمارے سامنے ہیں وہ

  1. شریعت موسوی
  2. شریعت عیسوی
  3. شریعت محمدی

کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔

شریعت کا نفاذترميم

کسی بھی شریعت یا قوانین کو نافذ کرنے کا عمل اس شریعت کا نفاذ کہلاتا ہے۔

اسلامی شریعت کا نفاذترميم

اسلامی شریعت کے نفاذ کے حوالے سے دیکھا جائے تو صدر اسلام میں دور نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علاوہ خلافت راشدہ میں اسلامی قوانین نافذ تھے نیز عہد اسلامی کے کئی درخشاں ادوار میں شریعت کا نفاذ دنیا کے بہت وسیع علاقوں میں رہا ہے۔ موجودہ دور میں کئی ممالک شرعی قوانین کے نفاذ کے دعویدار ہیں۔ جیسے سعودی حکومت یا اسلامی جمہوریہ ایران نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بعض اسوار میں یہ دعوی رہا ہے اسی طرح افغانستان کی سابقہ طالبان حکومت نے اپنے ملک میں اسلامی شرعی قوانین نافذ کرنے کے دعوے کیے۔ اس وقت نائجیریا اور ملائیشیا کے کچھ صوبوں میں شرعی قوانین رائج کرنے کے دعویدار ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کے علاقے سوات میں ہونے والا سوات معاہدہ عدل بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

مزید دیکھیےترميم

 
13ویں صدی کا غلام بازار، یمن۔ غلاموں اور لونڈیوں کو شریعت میں جائیداد سمجھا جاتا ہے۔ اسے خریدا، بیچا، کرایہ پر دیا، تحفے میں دیا، شیئر کیا، اور وراثت میں دیا جا سکتا ہے۔
خاص
قوانین بمطابق

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم

  1. An-Na'im، Abdullahi A (1996). &pg=PA337 "Islamic Foundations of Religious Human Rights" تحقق من قيمة |chapter-url= (معاونت). In Witte، John؛ van der Vyver، Johan D. Religious Human Rights in Global Perspective: Religious Perspectives. صفحات 337–59. ISBN 978-9041101792. 
  2. Hajjar، Lisa (2004). "Religion, State Power, and Domestic Violence in Muslim Societies: A Framework for Comparative Analysis". Law & Social Inquiry. 29 (1): 1–38. JSTOR 4092696. doi:10.1111/j.1747-4469.2004.tb00329.x. 
  3. Al-Suwaidi, J. (1995). Arab and western conceptions of democracy; in Democracy, war, and peace in the Middle East (Editors: David Garnham, Mark A. Tessler), Indiana University Press, see Chapters 5 and 6; آئی ایس بی این 978-0253209399[صفحہ درکار]