عائشہ عصمت تیمور ( عربی: عائشة عصمت تيمور‎ یا عائشة التيمورية‎‎ ؛ 1840–1902) عثمانی دور میں ایک مصری سماجی کارکن، شاعرہ، ناول نگارہ اور نسائیت پسند تھیں۔ وہ 19 ویں صدی کے اوائل میں خواتین کے حقوق کے میدان میں سرگرم عمل تھیں۔ ان کی تحریریں ایک ایسے دور میں سامنے آئیں جہاں مصر میں خواتین کو یہ احساس ہورہا تھا کہ اسلام کے انہیں عطا کردہ کچھ حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔ عاؤہ ان ابتدائی عرب خواتین میں سے ایک تھی جن کی شاعری اور دیگر تصانیف کو جدید دور میں پہچانا اور شائع کیا گیا تھا۔

عائشہ تیمور
(عربی میں: عائشة التيمورية ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Ayesha Al-Taymuriyya.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1840[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1902 (61–62 سال)[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Egypt.svg مصر[1]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
احمد تیمور  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنفہ[1]،  شاعرہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ذاتی زندگیترميم

ابتدائی زندگیترميم

اگرچہ عائشہ تیمور عراقی کردستان ایک شاہی گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں، لیکن انھوں نے ان لوگوں کے لیے تندہی سے کام کیا جن کے لیے کوئی آواز بلند نہیں کر رہا تھا۔ مصر میں خواتین کے حقوق کے لیے ان کا جنون تھا اسی وجہ سے وہ اپنے میدان اور ثقافت میں ایک سرخیل کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔ [4]

خاندانترميم

عائشہ تیمور ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے بھائی احمد پاشا تیمور ایک محقق اور ناول نگار تھے۔ ان کے دو بھانجے بھی تھے: ایک ڈراما نگار محمد تیمور اور دوسرے ناول نگار محمود تیمور تھے۔

عائشہ تیمور کا عقیدہ تھا کہ فارسی ادب اور تطہیر کی زبان ہے، جبکہ عربی زبان مذہب اور لوگوں کے لیے مستعمل ہے۔[5]

عائشہ تیمور کے والد ہمیشہ اپنی بیٹی کو مناسب تعلیم مہیا کرنا چاہتے تھے۔[6] عائشہ نے 1854ء میں ترکی کے نامور شہر محمود بیہ السلامبولی سےاس وقت شادی کی جب وہ محض 14 سال کی تھیں اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ استنبول چلی گئیں۔ 1873ء میں، تیمور کی بیٹی توحیدہ کا نامعلوم بیماری سے انتقال ہو گیا۔[7] اس کے بعد عائشہ کے والد کی وفات 1882ء میں ہوئی، اس کے قریب ہی ان کے شوہر کی وفات 1885ء میں ہوئی، جس کی وجہ سے وہ مصر واپس چلی گئیں، جہاں انہوں نے اپنا تحریری کام دوبارہ شروع کیا۔ ان کی نظموں میں بیٹی کے لیے نوحہ گری جدید دور میں اس صنف میں بہترین کام سمجھا جاتا ہے۔[6]

فعالیت پسندیترميم

اپنے شوہر اور بیٹی کی موت کے بعد، عائشہ نے اپنی تحریروں سے خواتین کے حقوق کی وکالت کی شروعات کی۔ ان کی تخلیقات مصر میں ایک سماجی و اقتصادی تبدیلی کے وقت سامنے آئیں جہاں خواتین کو احساس ہوا کہ انہیں ان حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے جو اسلام نے انہیں دیے ہیں۔ عائشہ کا حوالہ "مصری نسائيت کی ماں" کے طور پر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے تعلیم کے لیے مہم چلانے، خیراتی کام کرنے اور نوآبادیات کو چیلنج کرنے کے لیے دیگر خواتین دانشوروں اور کارکنوں کے ساتھ کام کیا۔ یہ مصری نسائیت کے لیے ابتدائی نمو کا آغاز تھا۔ [8]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ت مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://www.oxfordreference.com/view/10.1093/acref/9780195382075.001.0001/acref-9780195382075 — مدیر: ایمائنول کواکو اور ہینری لوئس گیٹس — عنوان : Dictionary of African Biography — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریسISBN 978-0-19-538207-5
  2. ^ ا ب WomenWriters ID: http://resources.huygens.knaw.nl/womenwriters/vre/persons/80eed0ae-0e40-4f87-9d89-8d47f288d210 — بنام: 'Aisha 'Esmat al-Taymuriyya — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب General Diamond Catalogue ID: https://opac.diamond-ils.org/agent/66153 — بنام: عائشة عصمت بنت إسماعيل التيمورية، 1840‒1902
  4. Ghazoul، Ferial J. (2013). "Literature, Gender, and Nation-Building in Nineteenth-Century Egypt: The Life and Works of 'A'isha Taymur by Mervat F. Hatem" (en میں). Journal of Middle East Women's Studies 9 (2): 108–110. doi:10.2979/jmiddeastwomstud.9.2.108. آئی ایس ایس این 1552-5864. 
  5. "Circassians"، Wikipedia (انگریزی میں)، 2019-10-15، اخذ شدہ بتاریخ 2019-10-20 
  6. ^ ا ب
  7. Dahduli، Tasneem. "Aisha Taymur- Ottoman Era Poet and Feminist". Mosaic of Muslim Women (بزبان انگریزی). 05 مئی 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 اپریل 2018. 

بیرونی روابطترميم