استنبول

ترکی کا سب سے بڑا شہر


استنبول (انگریزی: Istanbul) (تلفظ: /ˌɪstænˈbʊl/،[8][9]ترکی: İstanbul [isˈtanbuɫ] ( سنیے)) جسے سابقہ طور پر بازنطیوم اور قسطنطنیہ کے نام سے بھی جابا جاتا تھا ترکی کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر اور ملک کا معاشی ، ثقافتی اور تاریخی مرکز ہے۔ استنبول یوریشیا کا بین براعظمی شہر ہے جو بحیرہ مرمرہ اور بحیرہ اسود کے درمیان میں آبنائےباسفورس کر دونوں کناروں پر واقع ہے جو ایشیا کو یورپ سے جدا کرتی ہے۔ اس کا تجارتی اور تاریخی مرکز یوروپی طرف ہے اور اس کی آبادی کا ایک تہائی حصہ آبنائے باسفورس کے ایشیائی کنارے کے مضافاتی علاقوں میں رہتا ہے۔ [10] اس کے میٹروپولیٹن علاقہ کی تقریباْ 15 ملین کی مجموعی آبادی کے ساتھ [3] استنبول کا شمار دنیا کے سب سے بڑے شہروں میں ہوتا ہے۔ عالمی طور پر یہ دنیا کا پانچوں سب سے بڑا شہر جبکہ یہ یورپ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ شہر استنبول میٹروپولیٹن بلدیہ کا انتظامی مرکز ہے۔

استنبول
Istanbul
İstanbul
میٹروپولیٹن بلدیہ
See caption
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
استنبول
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
استنبول
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
استنبول
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
Turkey, with Istanbul pinpointed at the northwest along a thin strip of land bounded by water
استنبول
Location within Turkey##Location within Europe
متناسقات: 41°00′49″N 28°57′18″E / 41.01361°N 28.95500°E / 41.01361; 28.95500متناسقات: 41°00′49″N 28°57′18″E / 41.01361°N 28.95500°E / 41.01361; 28.95500
ملکترکی
ترکی کے علاقےمرمرہ علاقہ
ترکی کے صوبےاستنبول
صوبائی نشست[ا]Cağaloğlu, Fatih
اضلاع39
حکومت
 • ناظم شہراکرم امام اوغلو (ریپبلکن پیپلز پارٹی)
 • والیAli Yerlikaya
رقبہ[1][2][ب]
 • شہری2,576.85 کلو میٹر2 (994.93 مربع میل)
 • میٹرو5,343.22 کلو میٹر2 (2,063.03 مربع میل)
بلندی39 میل (128 فٹ)
آبادی (31 دسمبر 2019)[3]
 • میٹروپولیٹن بلدیہ15,519,267
 • درجہترکی کے شہر
 • شہری15,214,177
 • شہری کثافت5,904/کلو میٹر2 (15,290/مربع میل)
 • میٹرو کثافت2,904/کلو میٹر2 (7,520/مربع میل)
نام آبادیIstanbulite
(ترکی: İstanbullu)
منطقۂ وقتترکی میں وقت (UTC+3)
رمزِ ڈاک34000 to 34990
ٹیلی فون کوڈ212 (یورپی حصہ)
216 (ایشیائی حصہ)
گاڑی کی نمبر پلیٹ34
خام ملکی پیداوار2018 [4][5]
 - کلامریکی ڈالر 244.757 بلین [6]
- 31.02 % ترکی کا –
 - فی کسامریکی ڈالر 16,265
انسانی ترقیاتی اشاریہ (2017)0.812[7]انتہائی اعلیٰ
جغرافیائی اعلیٰ ترین ڈومین نیم۔ist، ۔istanbul
ویب سائٹibb.istanbul
www.istanbul.gov.tr
یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ
باضابطہ ناماستنبول کے تاریخی علاقے
معیارثقافتی: (i)(ii)(iii)(iv)
حوالہ356bis
کندہ کاری1985 (9th اجلاس)
توسیع2017
علاقہ765.5 ha (1,892 acre)

سرائے بورنو کے مقام پر 600 ق م [11] بازنطیوم کے نام سے آباد ہوانے والے شہر کا اثر و رسوخ، آبادی اور رقبہ میں اضافہ ہوا اور یہ تاریخ کا سب سے اہم شہر بن گیا۔ 330ء [12] میں قسطنطنیہ کے نام سے از سر نو آباد ہونے کے بعد یہ تقریباْ 16 صدیوں تک دار الحکومت کی حیثیت سے قائم رہا جس میں رومی سلطنت/بازنطینی سلطنت (330ء–1204ء)، لاطینی سلطنت (1204ء–1261ء)، فالیولوجی بازنطین (1261ء–1453ء) اور سلطنت عثمانیہ (1453ء–1922ء) شامل ہیں۔ رومی سلطنت اور بازنطینی دور میں شہر نے مسیحیت کی ترقی میں اہم کردار تھا تاہم 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے بعد یہ ایک اسلامی گڑھ اور خلافت عثمانیہ کا دارالخلافہ بنا۔ [13]قسطنطنیہ کے نام سے یہ 1923ء تک یہ سلطنت عثمانیہ دار الحکومت رہا۔ اس کے بعد دار الحکومت کو انقرہ منتقل کر دیا گیا اور اس شہر کا نام استنبول رکھ دیا گیا۔

شہر کو بحیرہ اسود اور بحیرہ روم کے درمیان میں تزویراتی مقام حاصل ہے۔ یہ تاریخی شاہراہ ریشم پر بھی موجود تھا۔ [14] اس سے بلقان اور مشرق وسطی کے درمیان میں ریل نیٹ ورک کو کنٹرول کیا جاتا تھا اور یہ بحیرہ اسود اور بحیرہ روم کے درمیان میں واحد سمندری راستہ تھا۔ 1923ء میں ترک جنگ آزادی کے بعد انقرہ کو جمہوریہ ترکی کا نیا دار الحکومت بنانے کا فیصلہ ہوا اور تب ہی شہر کا نام قسطنطنیہ سے تبدیل کر کے استنبول رکھا گیا۔ تاہم شہر نے جغرافیائی، سیاسی اور ثقافتی امور میں اپنی اہمیت کو برقرار رکھا۔ 1950ء کی دہائی سے اس شہر کی آبادی دس گنا بڑھ چکی ہے کیونکہ اناطولیہ سے آنے والے تارکین وطن بڑی تعداد میں یہاں نقل مکانی کر چکے ہیں اور ان کی رہائش کے لئے شہر کی حدود میں اضافہ ہوا ہے۔ [15][16]بیسویں صدی کے اواخر میں فن، موسیقی، فلم اور ثقافتی میلوں کا انعقاد شروع ہوا اور آج بھی اس شہر ان کی میزبانی کر رہا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی بہتری نے شہر میں نقل و حمل کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک تیار کیا ہے۔

یورپی دار الحکومت ثقافت نامزد ہونے کے پانچ سال بعد 2015ء میں 12 ملین سے زیادہ غیر ملکی زائرین استنبول آئے، جو کہ شہر کو دنیا کا پانچواں مقبول ترین سیاحتی مقام بناتا ہے۔ [17] شہر کا سب سے بڑا کشش مقام اس کا تاریخی مرکز ہے جو کہ جزوی طور پر یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ مقامات کے طور پر درج ہے۔ اس کا ثقافتی اور تفریحی مرکز ضلع بےاوغلو میں شہر کی قدرتی بندرگاہ شاخ زریں ہے۔ عالمی شہر [18] تصور ہونے کی وجہ سے اس میں متعدد ترک کمپنیوں اور میڈیا آؤٹ لیٹس کا صدر مقام ہے۔ یہ ملک کی مجموعی خام ملکی پیداوار کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ بنتا ہے۔ [19] اس کی ترقی اور تیزی سے توسیع کا فائدہ اٹھانے کے لئے استنبول نے گرمائی اولمپک کھیلوں کے لئے بیس سالوں میں پانچ بار بولی لگائی ہے۔ [20]

تسمیہ مقامترميم

شہر کا پہلا معلوم نام بازنطیوم ہے (یونانی: Βυζάντιον، Byzántion) جو کہ اسے میگارا کے آباد کاروں نے اندازاْ 600 ق م میں دیا تھا۔ [21] خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نام ذاتی نام بیزاس سے ماخوذ ہے جو کہ یونانی اساطیر میں ایک کردار ہے۔

تاریخترميم

قبل از تاریخترميم

قسطنطنیہ کا عروج و زوال اور بازنطینی سلطنتترميم

سلطنت عثمانیہ اور ترک جمہوریہ کا دورترميم

عثمانی دور میں شہر کی تین پینٹنگز
برج غلطہ سے عثمانی دور کے استنبول کا نظارہ، انیسویں صدی (نوٹس کے ساتھ تصویر)

جغرافیہترميم

آب و ہواترميم

آب ہوا معلومات برائے استنبول(سارییر)، 1929–2017
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
بلند ترین °س (°ف) 22.0
(71.6)
24.7
(76.5)
29.3
(84.7)
33.6
(92.5)
34.5
(94.1)
40.2
(104.4)
41.5
(106.7)
40.5
(104.9)
39.5
(103.1)
34.2
(93.6)
27.8
(82)
25.5
(77.9)
41.5
(106.7)
اوسط بلند °س (°ف) 8.4
(47.1)
9.0
(48.2)
10.9
(51.6)
15.4
(59.7)
20.0
(68)
24.6
(76.3)
26.6
(79.9)
26.8
(80.2)
23.7
(74.7)
19.1
(66.4)
14.8
(58.6)
10.8
(51.4)
17.5
(63.5)
یومیہ اوسط °س (°ف) 6.0
(42.8)
6.1
(43)
7.7
(45.9)
12.0
(53.6)
16.7
(62.1)
21.4
(70.5)
23.8
(74.8)
23.8
(74.8)
20.1
(68.2)
15.7
(60.3)
11.7
(53.1)
8.3
(46.9)
14.4
(57.9)
اوسط کم °س (°ف) 3.1
(37.6)
3.1
(37.6)
4.2
(39.6)
7.6
(45.7)
12.1
(53.8)
16.5
(61.7)
19.4
(66.9)
20.1
(68.2)
16.8
(62.2)
12.9
(55.2)
8.9
(48)
5.5
(41.9)
10.8
(51.4)
ریکارڈ کم °س (°ف) −13.9
(7)
−16.1
(3)
−11.1
(12)
−2.0
(28.4)
1.4
(34.5)
7.1
(44.8)
10.5
(50.9)
10.2
(50.4)
6.0
(42.8)
0.6
(33.1)
−7.2
(19)
−11.5
(11.3)
−16.1
(3)
اوسط عمل ترسیب مم (انچ) 106.0
(4.173)
77.7
(3.059)
71.4
(2.811)
45.9
(1.807)
34.4
(1.354)
36.0
(1.417)
33.3
(1.311)
39.9
(1.571)
61.7
(2.429)
88.0
(3.465)
100.9
(3.972)
122.2
(4.811)
817.4
(32.181)
اوسط عمل ترسیب ایام (≥ 0.1 mm) 17.3 15.2 13.8 10.3 8.0 6.2 4.3 5.0 7.6 11.2 13.0 17.1 129.0
ماہانہ اوسط دھوپ ساعات 89.9 101.7 142.6 195.0 272.8 318.0 356.5 328.6 246.0 176.7 120.0 83.7 2,431.5
اوسط روزانہ دھوپ ساعات 2.9 3.6 4.6 6.5 8.8 10.6 11.5 10.6 8.2 5.7 4.0 2.7 6.64
ماخذ: ترکی ریاستی موسمیاتی خدمت[22] and Weather Atlas[23]
استنبول کے آب و ہوا کے اعداد و شمار
مہینا Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec Year
اوسط سمندری درجہ حرارت °س (°ف) 8.4
(47.1)
7.7
(45.9)
8.3
(46.9)
10.2
(50.4)
15.5
(59.9)
21.3
(70.3)
24.6
(76.3)
24.9
(76.8)
22.8
(73.0)
18.4
(65.1)
13.8
(56.8)
10.5
(50.9)
15.5
(60.0)
مطلب روزانہ کی روشنی کے اوقات 10.0 11.0 12.0 13.0 14.0 15.0 15.0 14.0 12.0 11.0 10.0 9.0 12.2
Source: Weather Atlas [23]

موسمیاتی تبدیلیترميم

شہر کا نظارہترميم

فن تعمیرترميم

انتظامیہترميم

آبادیاتترميم

 
Two maps comparing the size of urban areas in Istanbul (indicated as the grey zones) in 1975 and 2011
سالآبادی.
10036,000
361300,000
500400,000
ساتویں صدی150–350,000
آٹھویں صدی125–500,000
نویں صدی50–250,000
1000150–300,000
1100200,000
1200150,000
لاطینی سلطنت100,000
135080,000
فتح قسطنطنیہ45,000
1500200,000
1550660,000
1700700,000
1815500,000
1860715,000
1890874,000
1900942,900
سالآبادی.±% پی.اے.
1925881,000—    
1927691,000−11.44%
1935740,800+0.87%
1940793,900+1.39%
1945845,300+1.26%
1950983,000+3.06%
19601,459,500+4.03%
19651,743,000+3.61%
19702,132,400+4.12%
19752,547,400+3.62%
19802,853,500+2.30%
19855,494,900+14.00%
19906,620,200+3.80%
19947,615,500+3.56%
19978,260,400+2.75%
20008,831,800+2.25%
200711,174,200+3.42%
201514,657,434+3.45%

مذہبی اور نسلی گروہترميم

سیاستترميم

معیشتترميم

ثقافتترميم

تفریحترميم

کھیلترميم

میڈیاترميم

تعلیمترميم

عوامی خدماتترميم

مواصلاتترميم

صحتترميم

 
استنبول میں ایک ہسپتال

2000ء میں استنبول میں 137 اسپتال تھے جن میں سے 100 نجی تھے۔ [26] ترک شہری سرکاری سطح پر چلائے جانے والے اسپتالوں میں امدادی صحت کی دیکھ بھال کے حقدار ہیں۔ [27] چونکہ سرکاری اسپتالوں میں بھیڑ ہوتی ہے یا زیادہ وقت لگتا ہے اس لیے نجی اسپتال ان لوگوں کے لئے افضل ہیں جو ان کی استطاعت رکھتے ہیں۔ پچھلی دہائی کے دوران ان کے پھیلاؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، چونکہ 2005ء سے 2009ء کے درمیان نجی اسپتالوں میں علاج کروانے والے مریضوں کی شرح 6 فیصد سے بڑھ کر 23 فیصد ہو گئی ہے۔ [27][28]

نقل و حملترميم

بریترميم

استنبول ترکی کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی مرکز ہے۔ یہ ترکی کی شاہراہوں سے ملک کے دیگر علاقوں سے منسلک ہے۔ موٹر وے او-1 شہر کے گرد رنگ روڈ بناتی ہے۔ یورپی روٹ ای 80 ترکی کو یورپ کے دیگر ملکوں سے منسلک کرتی ہے۔ [29]

سڑکیں / شاہراہیںترميم

استنبول کی بنیادی موٹر وے (اوتویول) او-1، او-2، او-3 اور او-4 ہیں۔ او-1 شہر کی اندرونی رنگ روڈ جبکہ او-2 فاتح سلطان محمد پل سے ہوتے ہوئے بیرونی رنگ روڈ بناتی ہے۔ او-2 مغرب میں ادرنہ سے ملتی ہے جبکہ او-4 مشرق میں شہر کو انقرہ سے ملاتی ہے۔ او-2، او-3 اور او-4 یورپی روٹ ای 80 کا حصہ بھی ہیں۔ [29][30]

پلترميم

استنبول ایک بین براعظمی شہر ہے اور آبنائے باسفورس شہر کو ایشیائی اور پورپی حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ یہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والی دنیا کی سب سے تنگ آبنائے ہے جو بحیرہ اسود کو بحیرہ مرمرہ سے ملاتی ہے۔ بری نقل و حمل کے لیے آبنائے پر پل بنائے گئے ہیں۔ اسی طرح شاخ زریں آبنائے باسفورس کی ایک قدرتی خلیج ہے جو شہر کے یورپی حصے کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ایک قدرتی بندرگاہ بناتی ہے۔ آبنائے باسفورس کی طرح شاخ زریں پر بھی بری نقل حمل کے لیے پل موجود ہیں۔ استنبول کی بری نقل و حمل میں یہ پل انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

باسفورس پلترميم

باسفورس پل استنبول، ترکی میں آبنائے باسفورس پر قائم ایک پل ہے۔ یہ شہر کے یورپی علاقے اورتاکوئے اور ایشیائی حصے بےلربئی کو ملاتا ہے اور باسفورس پر قائم ہونے والا پہلا پل ہے۔ یہ پل 1510 میٹر طویل ہے جبکہ اس کی عرصے کا عرض 39 میٹر ہے۔ اس کے دونوں برجوں کے درمیان میں فاصلہ 1074 میٹر ہے اور سڑک کی سطح سے بلندی 105 میٹر ہے۔ یہ سطح سمندر سے 64 میٹر بلند ہے اور 1973ء میں تکمیل کے بعد دنیا کا چوتھا سب سے بڑا سسپنشن پل بن گیا تاہم یہ ریاستہائے متحدہ امریکا سے باہر دنیا کا سب سے بڑا سسپنشن پل ہے۔

آبنائے باسفورس پر پل کی تعمیر کا فیصلہ پہلی بار 1957ء میں عدنان میندریس کے دور حکومت میں کیا گیا۔ اس کے نقشے کے لیے برطانیہ کے ادارے فری مین فاکس اینڈ پارٹنرز کے ساتھ 1968ء میں معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ پل کا نقشہ معروف برطانوی ماہر تعمیرات سر گلبرٹ رابرٹس نے تیار کیا۔ تعمیر کا آغاز فروری 1970ء میں ہوا جس میں اُس وقت کے صدر جودت سونے اور وزیر اعظم سلیمان ڈیمرل نے بھی شرکت کی۔ تعمیراتی کام ترک ادارے انکا انسات و صناعی نے انجام دیا۔ اس کام میں برطانیہ اور جرمنی کے دو ادارے میں شامل تھے۔ منصوبے پر 35 مہندسین اور 400 افراد نے کام کیا۔ پل کی تعمیر جمہوریہ ترکی کے قیام کی 50 ویں سالگرہ کے صرف ایک روز بعد 30 اکتوبر 1973ء کو مکمل ہوئی۔ اس کا افتتاح صدر فہری کوروترک اور وزیر اعظم نعیم تولو نے کیا۔ باسفورس پل کی تعمیر پر 200 ملین امریکی ڈالر کی لاگت آئی۔

فاتح سلطان محمد پلترميم

فاتح سلطان محمد پل استنبول، ترکی میں آبنائے باسفورس پر واقع ایک پل ہے۔ یہ پل پندرہویں صدی کے عثمانی سلطان محمد ثانی المعروف محمد فاتح سے موسوم ہے جنہوں نے 1453ء میں استنبول فتح کیا تھا۔ یہ پل استنبول کے یورپی علاقے حصارشتو اور ایشیائی علاقے کاواجک کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ پل 1510 میٹر طویل ہے اور اس کے عرشے کا عرض 39 میٹر ہے۔ برجوں کے درمیان میں فاصلہ 1090 میٹر ہے اور سڑک کی سطح سے اس کی بلندی 105 میٹر ہے۔ یہ پل سطح سمندر سے 64 میٹر بلند ہے۔ فاتح پل کو 1988ء میں اپنی تکمیل کے بعد دنیا کے چھٹے طویل ترین سسپنشن پل کا اعزاز ملا۔

تین جاپانی، ایک اطالوی اور ایک ترک ادارے کے مشترکہ بین الاقوامی منصوبے سے اس پل کی تعمیرات کا کام انجام دیا۔ اس کا نقشہ فری مین فاکس اینڈ پارٹنرز نے بنایا۔ پل 3 جولائی 1988ء کو مکمل ہوا اور اس کا افتتاح اس وقت کے ترک وزیر اعظم ترغت اوزال نے کیا جو اپنی گاڑی کے ذریعے اس پل کو پار کرنے والے پہلے شخص بھی تھے۔ پل پر 130 ملین امریکی ڈالر کی لآگت آئی۔

یاووز سلطان سلیم پلترميم
 
یاووز سلطان سلیم پل

یاووز سلطان سلیم پل آبنائے باسفورس پر ریل اور گاڑیوں کی نقل و حمل کے لیے استنبول، ترکی میں ایک پل ہے جو کہ پہلے سے موجود دو پلوں کے شمال میں واقع ہے۔ ابتدا میں اس کا نام تیسرا باسفورس پل تھا، پہلا پل باسفورس پل اور دوسرا فاتح سلطان محمد پل تھا تاہم بعد میں اس کا نام تبدیل کر دیا گیا۔ یہ آبنائے باسفورس کے بحیرہ اسود میں داخلے کے قریب ہے۔ یورپی طرف یہ سارییر میں غریبچے اور ایشیائی طرف میں یہ بیکوز میں پویرازکوئے کے مقام پر ہے۔ [31]

یوریشیا سرنگترميم

یوریشیا سرنگ استنبول، ترکی میں ایک زمین دوز سرنگ ہے جو آبنائے باسفورس کے نیچے بنائی گئی ہے۔ سرنگ کا باضابطہ افتتاح 20 دسمبر 2016ء کو ہوا [32][33][34] اور 22 دسمبر 2016ء کو اسے ٹریفک کے لئے کھولا گیا۔ 5.4 کلومیٹر (3.4 ملی میٹر) دو منزلہ سرنگ استنبول کے یورپی حصے قوم قاپی کو ایشیائی حصے قاضی کوئے سے جوڑتی ہے [35] کل راستہ 14.6 کلومیٹر (9.1 میل) ہے جس میں سرنگ تک جانے والی سڑکیں بھی شامل ہیں۔ [36] یہ سمندری فرش کے نیچے باسفورس کو 106 میٹر کی زیادہ سے زیادہ گہرائی میں پار کرتا ہے۔ [37][38][39] دونوں براعظموں کے مابین سفر میں 5 منٹ لگتے ہیں۔ [34][36][38][40]

غلطہ پلترميم

غلطہ پل شاخ زریں، استنبول، ترکی میں واقع ایک پُل ہے۔ جو زمانۂ قدیم سے مختلف صورتوں میں اس کھاڑی پر مختلف صورتوں میں موجود رہا ہے اور آج جو پل اس مقام پر قائم ہے وہ پانچواں پل ہے۔ غلطہ پل خصوصاً انیسویں صدی کے اواخر سے ترک ادب، تھیٹر، شاعری اور ناولوں کا حصہ بنتا رہا ہے۔ شاخ زریں پر قائم قدیم ترین پل کے شواہد چھٹی صدی عیسوی میں ملتے ہیں جب جسٹینین اعظم نے شہر کے مغربی کنارے پر تھیوڈیسیائی دیواروں کے قریب ایک پل تعمیر کیا تھا۔ 1453ء میں فتح قسطنطنیہ کے موقع پر ترکوں نے کشتیوں سے ایک متحرک پل قائم کیا تاکہ افواج کو شاخ زریں کے دوسرے کنارے پر پہنچایا جا سکے۔

سلطان بایزید ثانی کے عہد میں 1502ء میں موجودہ مقام پر ایک پل کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا اور اس امر کے لیے معروف اطالوی مصور لیونارڈو ڈا ونچی نے 240 میٹر طویل اور 24 میٹر عریض پل کا نقشہ پیش کیا۔ جو تعمیر کی صورت میں اپنے وقت کا دنیا کا سب سے طویل پل ہوتا۔ اور ایک اطالوی مصور مائیکل اینجلو کو بھی پل کی تعمیر کے لیے نقشہ بنانے کے لیے مدعو کیا گیا تھا لیکن انہوں نے یہ پیشکش ٹھکرادی اور اس طرح انیسویں صدی تک شاخ زریں پر پل کی تعمیر کا خیال شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔

اتاترک پلترميم

اتاترک پل جسے آنکاپانی پل بھی کہا جاتا ہے استنبول، ترکی میں شاخ زریں پر ایک ہائی وے پل ہے۔ یہ جمہوریہ ترکی کے بانی اور پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک کے نام پر ہے۔

شاخ زریں میٹرو پلترميم

شاخ زریں میٹرو پل استنبول، ترکی میں استنبول میٹرو کی ایم2 لائن کے لیے شاخ زریں پر ایک پل ہے۔ یہ استنبول کے یورپی حصے میں اضلاع بےاوغلو اور فاتح کو آپس میں ملاتا ہے۔ یہ غلطہ پل اور اتاترک پل کے درمیان میں اتاترک پل سے تقریباْ 200 میٹر (660 فٹ) مشرق میں واقع ہے۔ [38][41][42] یہ شاخ زریں پر چوتھا پل ہے۔ [42][43] اس کا افتتاح 15 فروری 2014ء کو ہوا۔ [36]

خلیج پلترميم

خلیج پل شاخ زریں (ترکی: Haliç خلیج) پر استنبول، ترکی میں ہائی وے پل ہے۔ یہ جنوب مغرب میں ایوان سرائے کو شمال مغرب میں ہاسکوئے سے ملاتا ہے۔ یہ 1971ء اور 1974ء کے درمیان میں تعمیر کیا گیا۔ پل کی لمبائی 995 میٹر (3،264 فٹ)، چوڑائی 32 میٹر (105 فٹ)اور سطح سمندر سے بلندی 22 میٹر (72 فٹ) ہے۔

بحریترميم

استنبول میں بحری کے کیے دو بندرگاہیں موجود ہیں۔ حیدر پاشا بندرگاہ ایک عمومی کارگو بندرگاہ ہے جو حیدر پاشا، استنبول، ترکی میں واقع ہے جبکہ دوسری استنبول بندرگاہ استنبول، ترکی کے ضلع بےاوغلو کے محلے قرہ کوئے میں واقع یک مسافر بندرگاہ ہے۔

فیری بوٹترميم

 
آبنائے باسفورس پر ایک فیری بوٹ

فیری بوٹس کی 15 لائنیں استنبول میں خدمت فراہم کر رہی ہیں جو آبنائے باسفورس اور بحیرہ مرمرہ کی 27 بندرگاہوں پر خدمات فراہم کرتی ہیں۔

بحری بسترميم

16 اپریل 1987ء کو بلدیہ استنبول نے تیزرفتار سمندری نقل و حمل کی فراہمی کے لئے ایک کمپنی قائم کی۔ پہلی دس بحری بسیں ناروے سے خریدی گئیں جس سے استنبول کی سمندری نقل و حمل کو جدید بنا دیا گیا۔ آج کمپنی آئی ڈی او کے 29 ٹرمینلز میں 28 بحری بسوں کا بیڑا خدمات انجام دے رہا ہے، جس میں چھ تیز کار فیری بھی شامل ہیں۔

فضائیترميم

استنبول ساری دنیا کے سیاحوں کے لیے ایک مقبول مقام ہے اور زیادہ تر سیاح فضائی راستے سے استنبول آتے ہیں۔ اس کے علاوہ سامان اور تجارت کے لیے بھی فضائی راستہ مقبول ہے خاص طور پر جب وقتی طور پر شہر ریل کے نظام سے منسلک نہیں۔

استنبول ہوائی اڈاترميم

 
استنبول ہوائی اڈا

استنبول ہوائی اڈا [44] استنبول، ترکی کا بنیادی بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ یہ ضلع ارناوتکوئے شہر کے یورپی حصے میں واقع ہے۔ تمام شیڈول تجارتی مسافر پروازیں 6 اپریل، 2019ء کو استنبول اتاترک ہوائی اڈا سے استنبول ہوائی اڈے پر منتقل کردی گئیں۔ [45]

استنبول اتاترک ہوائی اڈاترميم

 
اتاترک ہوائی اڈا

استنبول اتاترک ہوائی اڈا استنبول، ترکی کا اہم بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ یہ ترکی کا سب سے بڑا ہوائی اڈا اور ترکش ایئر لائنز کا صدر دفتر بھی ہے۔

استنبول صبیحہ گوکچن بین الاقوامی ہوائی اڈاترميم

 
صبیحہ گوکچن ہوائی اڈا

استنبول صبیحہ گوکچن بین الاقوامی ہوائی اڈا ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول کے دو بین الاقوامی ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر کے وسط سے 32 کلومیٹر (20 میل) جنوب مشرق میں واقع ہے۔ صبیحہ گوکچن ترکی کی پہلی خاتون ہوا باز تھیں۔ وہ دنیا کی پہلی خاتون ہوا باز تھیں جنہوں نے کسی جنگ میں حصہ لیا۔ وہ ترکی کے پہلے صدر مصطفٰی کمال اتاترک کے گود لیے گئے آٹھ بچوں میں سے ایک تھیں۔

استنبول ہزارفن ایئرفیلڈترميم

استنبول ہزارفن ایئرفیلڈ استنبول، ترکی کے ضلع چاتالجا میں ایک نجی ملکیت کا ہوائی اڈا ہے۔

استنبول سماندرا فوجی ایئر بیسترميم

استنبول سماندرا فوجی ایئر بیس استنبول، ترکی کے ضلع کارتال میں ایک فوجی ہوائی اڈا ہے۔

ریلترميم

سلطنت عثمانیہ کے دور سے ہی ترکی میں ریل کا اعلیٰ نظام موجود تھا۔ بغداد ریلوے برلن کو اس وقت کے سلطنت عثمانیہ کے شہر بغداد سے مربوط کرنے کے لئے 1903ء سے 1940ء کے درمیان میں تعمیر کی گئی۔ اس کے راستے جرمن خلیج فارس میں ایک بندرگاہ قائم کرنا چاہتے تھے۔ یہ جدید دور کے ممالک ترکی، سوریہ اور عراق سے گزرتی تھی اور اس کی لمبائی 1،600 کلومیٹر (1000 میل) تھی۔ حیدر پاشا ریلوے اسٹیشن استنبول میں ایک ریلوے اسٹیشن ہے۔ یہ بغداد ریلوے اور حجاز ریلوے کا ایک اسٹیشن تھا۔ حجاز ریلوے دمشق سے مدینہ تک جاتی تھی۔ اصل منصوبہ میں لائن کو مکہ تک جانا تھا لیکن پہلی جنگ عظیم کے شروع ہونے کی وجہ سے یہ مدینہ منورہ سے آگے نہ جا سکی۔ یہ عثمانی ریلوے نیٹ ورک کا ایک حصہ تھی جس کا مقصد استنبول سے دمشق کی لائن کو آگے تک پھیلانا تھا۔ منصوبہ کا مقصد سلطنت عثمانیہ سے حجاج کرام کو سفری سہولت فراہم کرنا تھا۔ تاہم بغداد ریلوے اور حجاز ریلوے دونوں اب غیر فعال ہیں۔ [46][47][48] استنبول سے بین الاقوامی ریل سروس کا آغاز 1889ء میں ہوا جب بخارسٹ اور استنبول کے سیرکیجی ریلوے اسٹیشن مابین ایک ریلوے لائن بچھائی گئی۔ جو بالآخر پیرس سے اورینٹ ایکسپریس کا مشرقی ٹرمنس کے نام سے مشہور ہوا۔ [49] نئے اسٹیشنوں نے دونوں حیدر پاشا ریلوے اسٹیشن اور سیرکیجی ریلوے اسٹیشن کی جگہ لی ہے اور شہر کے غیر مربعط ریلوے نیٹ ورک کو ملایا ہے امید کی جارہی ہے مرمرائی منصوبے کی تکمیل کے بعد ریلوے خدمات بحال ہوں گی تاہم ابھی استنبول بین شہر ریل سروس کے بغیر ہے۔ [50]

ترک ریاستی ریلوےترميم

ترک ریاستی ریلوے مخفف ٹی سی ڈی ڈی حکومتی ملکیت کی قومی ریلوے کمپنی ہے جو ترکی میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی ملکیت اور دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ نئی لائنوں کی منصوبہ بندی اور تعمیر کی بھی ذمہ دار ہے۔ ترکی میں ریلوے کو قومیائے کے عمل کے طور پر 4 جون 1929ء کو ٹی سی ڈی ڈی تشکیل دی گئی۔ [51] ترکی کی ریاستی ریلوے ترکی میں تمام عوامی ریلوے کی مالک اور ان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ اس میں ریلوے اسٹیشن ، بندرگاہیں ، پل اور سرنگیں ، یارڈ اور دیکھ بحال کی سہولیات شامل ہیں۔ 2016ء میںء ٹی سی ڈی ڈی کے زیر انتظام 12،532 کلومیٹر (7،787 میل) ریلوے کا ایک فعال نیٹ ورک تھا جو اسے دنیا کا بائیسواں سب سے بڑا ریلوے نظام بناتا ہے۔ انقرہ اور ترکی کے دیگر مقامات کو خدمت عام طور پر ترک ریاستی ریلوے کے ذریعہ پیش کی جاتی ہے لیکن مرمرائی اور انقرہ-استنبول تیز رفتار لائن کی تعمیر نے اس اسٹیشن کو 2012ء میں بند کرنے پر مجبور کر دیا۔ [50]

مرمرائیترميم

مرمرائی استنبول، ترکی میں 76.6 کلومیٹر (47.6 میل) لمبی بین براعظمی مسافر ریل ہے۔

استنبول میٹروترميم

استنبول میٹرو استنبول، ترکی میں عاجلانہ نقل و حمل ایک ریلوے نیٹ ورک ہے۔ یہ میٹرو استنبول کے زیر انتظام ہے۔ میٹرو کا سب سے قدیم سیکشن ایم ون لائن ہے جو 1989 میں کھولی تھی، اب اس میں 89 اسٹیشن شامل ہیں اور 64 مزید زیر تعمیر ہیں۔ [52][53]

لائن روٹ افتتاح لمبائی اسٹیشن نوٹس[54]
ینی قاپی ↔ اتاترک ایرپورٹ / کیرازلی 1989[55] 26.1 کلومیٹر[55] 23[55] 0.7 کلومیٹر ینی قاپی کو توسیع افتتاح 9 نومبر 2014.[56] اوقات 06:00 صبح تا 00.00 آدھی رات
ینی قاپی ↔ حاجی عثمان 2000[57] 23.5 کلومیٹر[57] 16[57] جنوبی توسیع (3.5 کلومیٹر ینی قاپی تک بڑھاو، مع 3 اسٹیشن) تکمیل فروری 2014. اوقات 06:15 صبح تا 00.00 آدھی رات
کیرازلی ↔ میٹروکینٹ–اولیمپیات 2013[58] 15.9 کلومیٹر[58] 11[58] ایک جنوبی توسیع (9.0 کلومیٹر باقر کوئے کو، مع 7 اسٹیشن) زیر تعمیر۔ اوقات 06:00 صبح تا 00.00 آدھی رات
قاضی کوئے ↔ تاوشان تپہ 2012[59] 26.5 کلومیٹر[59] 19[59] ایک توسیع 7.4 کلومیٹر استنبول صبیحہ گوکچن بین الاقوامی ہوائی اڈا کو مع 4 مزید اسٹیشن زیر تعمیر ہیں۔ اوقات 06:00 صبح تا 00.00 آدھی رات
اسکودار ↔ چکمہ کوئے 2017[60] 20 کلومیٹر[60] 16[60] افتتاح 15 دسمبر 2017. اوقات 06:00 صبح تا 00.00 آدھی رات وقت از اسکودار تا چکمہ کوئے 27 منٹ ہے۔
لیوینٹ↔ بوغازچی یونیورسٹی/حصار اوستو 2015[61] 3.3 کلومیٹر[61] 4[61] منی میٹرو دراصل ایک ہلکی میٹرو لائن ہے۔
کل: 115.3 کلومیٹر[52] 89[52]

ٹرامترميم

استنبول یاد ماضی ٹراموے استنبول، ترکی میں دو ثقافتی ورثہ ٹرام کے راستے ہیں، اس کا بنیادی مقصد شہر کے قدیم ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنا ہے۔ جدید استنبول ٹرام استنبول کے یورپی حصے ٹرام کا ایک جدید نظام ہے۔ پہلا سیکشن "ٹی 1" 1992ء میں کھولا گیا اس کے بعد "ٹی 2" کا افتتاح 2006ء میں ہوا۔ "ٹی 4" 2007ء میں کھولا گیا۔ [62][63]

بس نظامترميم

بس کے بیڑے میں کل 4،012 مختلف انوع کی بسیں موجود ہیں۔ [64][65] 2012ء میں روزانہ سواریوں کی تعداد 3،621،908 تھی، جو شہر کی کل یومیہ نقل و حمل کا 30٪ کی نمائندگی کرتی ہے۔ [66][67]

میٹروبسترميم

میٹروبس استنبول، ترکی میں 50 کلومیٹر (31.1 میل) کا بس ریپڈ ٹرانزٹ راستہ ہے جس کے 45 اسٹیشن ہیں۔ اوجیلار کو استنبول یونیورسٹی سے ملانے والے پہلے حصے کی تعمیر کا آغاز 2005ء میں ہوا۔ بس وے کا افتتاح 17 ستمبر 2007ء کو ہوا۔

ٹریفک سے فضائی آلودگیترميم

ترکی میں فضائی آلودگی استنبول میں کاروں، بسوں اور ٹیکسیوں کی وجہ سے شدید ہے جس کی وجہ سے اکثر شہر کو اسموگ [68] کا سامنا ہوتا ہے، یہ کم اخراج زون والے یوروپی شہروں میں سے ایک ہے۔ 2019ء میں شہر کی فضائی کوالٹی ایک سطح پر رہی ہے اور ٹریفک کے اوقات کے دوران میں صحتمند لوگوں کے دل اور پھیپھڑوں کو متاثر کیا۔ [69]

جڑواں شہرترميم

استنبول[70] کے جڑواں شہر مندرجہ ذیل ہیں۔

مشاہیرترميم

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم

  1. "YETKİ ALANI". Istanbul Buyuksehir Belediyesi. اخذ شدہ بتاریخ 4 فروری 2020. 
  2. İstanbul Province = 5,460.85 km²
    Land area = 5,343.22 km²
    Lake/Dam = 117.63 km²
    Europe (25 districts) = 3,474.35 km²
    Asia (14 districts) = 1,868.87 km²
    Urban (36 districts) = 2,576.85 کلومیٹر² [Metro (39 اضلاع) – (Çatalca+Silivri+Şile)]
  3. ^ ا ب "The Results of Address Based Population Registration System (2019)". Turkish Statistical Institute. 31 دسمبر 2019. اخذ شدہ بتاریخ 4 فروری 2020. 
  4. "Gross Domestic Product by Provinces 2018". Turkstat.gov.tr. 
  5. "Turkey (GDP-Nominal)". Turkstat.gov.tr. 
  6. According to the Turkstat.gov.tr:
    -> US$ / TL = 4.72 (2018)
    -> Turkey = 3,724.388 billion TL (GDP Nominal)
    -> İstanbul = 1,155.254 billion TL (GDP Nominal)
    -> İstanbul = 76,769 TL (GDP Nominal per capita)
  7. "Sub-national HDI – Area Database – Global Data Lab". hdi.globaldatalab.org. 
  8. Wells، John C. (2008). Longman Pronunciation Dictionary (اشاعت 3rd۔). Longman. ISBN 978-1-4058-8118-0. 
  9. Upton، Clive؛ Kretzschmar, Jr.، William A. (2017). The Routledge Dictionary of Pronunciation for Current English (اشاعت 2nd۔). Routledge. صفحہ 704. ISBN 978-1-138-12566-7. 
  10. WCTR Society; Unʼyu Seisaku Kenkyū Kikō 2004، صفحہ۔ 281
  11. Isaac 1986، صفحہ۔ 218
  12. سانچہ:ODB
  13. Masters & Ágoston 2009، صفحات۔ 114–15
  14. Dumper & Stanley 2007، صفحہ۔ 320
  15. Turan 2010، صفحہ۔ 224
  16. "Population and Demographic Structure". Istanbul 2010: European Capital of Culture. Istanbul Metropolitan Municipality. 2008. اخذ شدہ بتاریخ 27 مارچ 2012. 
  17. "London Retains Crown in 2015 MasterCard Global Destinations Cities Index". MasterCard Social Newsroom. 
  18. "The World According to GaWC 2010". Globalization and World Cities (GaWC) Study Group and Network. Loughborough University. اخذ شدہ بتاریخ 8 مئی 2012. 
  19. OECD Territorial Reviews: Istanbul, Turkey. Policy Briefs. The Organisation for Economic Co-operation and Development. مارچ 2008. ISBN 978-92-64-04383-1.  Check date values in: |date= (معاونت)
  20. "IOC selects three cities as Candidates for the 2020 Olympic Games". The International Olympic Committee. 24 مئی 2012. اخذ شدہ بتاریخ 18 جون 2012. 
  21. Room 2006، صفحہ۔ 177
  22. "Resmi İstatistikler (İl ve İlçelerimize Ait İstatistiki Veriler)" [Official Statistics (Statistical Data of Provinces and Districts) – Istanbul] (باللغة التركية). ترکی ریاستی موسمیاتی خدمت. مؤرشف من الأصل في 22 اپریل 2018. اخذ شدہ بتاریخ 22 اپریل 2018. 
  23. ^ ا ب "Istanbul, Turkey – Climate data". Weather Atlas. اخذ شدہ بتاریخ 29 مارچ 2017. 
  24. "The Yearly Measurements by Kirecburnu Station Between 1990–1999" (PDF). 
  25. "The Yearly Measurements by Bahcekoy Station Between 1990–1999" (PDF). 
  26. Sanal 2011، صفحہ۔ 85
  27. ^ ا ب
  28. Oxford Business Group 2009، صفحہ۔ 197
  29. ^ ا ب گوگل (1 اپریل 2012). "Istanbul Overview" (Map). گوگل نقشہ جات. گوگل. اخذ شدہ بتاریخ 1 اپریل 2012.  Check date values in: |access-date=, |date= (معاونت)
  30. Efe & Cürebal 2011، صفحہ۔ 720
  31. "Turkey Unveils Route for Istanbul's Third Bridge". Anatolian Agency. 29 اپریل 2010. مؤرشف من الأصل في 19 جون 2010. 
  32. "Istanbul's $1.3BN Eurasia Tunnel prepares to open". Anadolu Agency. 19 دسمبر 2016. 
  33. "Eurasia Tunnel opens, linking Europe and Asia in 15 minutes". Daily Sabah. 20 دسمبر 2016. 
  34. ^ ا ب "Eurasia Tunnel Project" (PDF). Unicredit – Yapı Merkezi, SK EC Joint Venture. مؤرشف من الأصل (PDF) في 20 جنوری 2016. اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2014. 
  35. While, for both directions, the mouth openings of the tunnel on the Asian side are situated in the Haydarpaşa quarter, the access roads begin or end in the adjacent Koşuyolu quarter.
  36. ^ ا ب پ "Çift katlı Avrasya Tüneli'nde kazı işlemi devam ediyor". حریت (ترکی اخبار) (باللغة التركية). 2013-09-03. اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2014. 
  37. "Avrasya tüneli'nin temeli atıldı". Zaman (باللغة التركية). 2011-02-26. مؤرشف من الأصل في 03 نومبر 2013. اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2014. 
  38. ^ ا ب پ ""Haliç Metro Geçiş Köprüsü" açılışa hazır". Hürriyet (باللغة التركية). 2014-01-17. اخذ شدہ بتاریخ 03 فروری 2014. 
  39. "Environmental and Social Impact Assessment for the Eurasia Tunnel Project Istanbul, Turkey" (PDF). ERM Group, Germany and UK & ELC-Group, Istanbul. جنوری 2011. صفحة 42. اخذ شدہ بتاریخ 15 اپریل 2014. 
  40. "Haliç metro Hattı" (باللغة التركية). İstanbul Büyükşehir Belediyesi. مؤرشف من الأصل في 13 دسمبر 2013. اخذ شدہ بتاریخ 03 فروری 2014. 
  41. ^ ا ب "Low profile". Bridge Design & Engineering. 2013-05-14. مؤرشف من الأصل في 22 فروری 2014. اخذ شدہ بتاریخ 03 فروری 2014. 
  42. "Haliç Metro Crossing Bridge". halicmetrokoprusu.com. مؤرشف من الأصل في 26 جنوری 2014. اخذ شدہ بتاریخ 04 فروری 2014. 
  43. "Yeni havalimanının adı belli oldu (İstanbul Havalimanı tabelaları asıldı)". NTV. 
  44. "Last flight leaves Ataturk as Istanbul switches airports". Reuters. 
  45. "Haydarpasa Train Station". Emporis. اخذ شدہ بتاریخ 3 اپریل 2012. 
  46. Head، Jonathan (16 فروری 2010). "Iraq – Turkey railway link re-opens". BBC. اخذ شدہ بتاریخ 3 اپریل 2012. 
  47. "Transports to Middle-Eastern Countries". Turkish National Railways. مؤرشف من الأصل في 15 اپریل 2012. اخذ شدہ بتاریخ 3 اپریل 2012. 
  48. Harter 2005، صفحہ۔ 251
  49. ^ ا ب Akay، Latifa (5 فروری 2012). "2012 Sees End of Line for Haydarpaşa Station". Today's Zaman. مؤرشف من الأصل في 16 ستمبر 2013. اخذ شدہ بتاریخ 3 اپریل 2012. 
  50. TCDD History – Trains and Railways of Turkey
  51. ^ ا ب پ "Raylı Sistemler" [Rail Systems] (باللغة انگریزی). Metro İstanbul. 2019. اخذ شدہ بتاریخ 05 اکتوبر 2019. 
  52. https://www.trtworld.com/turkey/where-is-the-istanbul-subway-system-headed-21715
  53. "Istanbul Railway Network Map (complete, including under construction sections)". Istanbul-ulasim.com.tr. İstanbul Ulaşim A.Ş. 2014. اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2014. 
  54. ^ ا ب پ "M1 Yenikapı – Atatürk Havalimanı / Kirazlı Metro Hattı" [M1 Yenikapı – Atatürk Airport / Kirazlı Metro Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (باللغة التركية). İstanbul Ulaşim A.Ş. مؤرشف من الأصل في 04 مارچ 2016. اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2015. 
  55. "PM Davutoğlu inaugurates İstanbul's Aksaray-Yenikapı metro". Today's Zaman. 9 نومبر 2014. اخذ شدہ بتاریخ 9 نومبر 2014. 
  56. ^ ا ب پ "M2 Yenikapı- Hacıosman Metro Hattı" [M2 Yenikapı- Hacıosman Metro Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (باللغة التركية). İstanbul Ulaşım. مؤرشف من الأصل في 18 اکتوبر 2015. اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2015. 
  57. ^ ا ب پ "M3 Başakşehir Metro Hattı" [M3 Başakşehir Metro Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (باللغة التركية). İstanbul Ulaşım. اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2015. 
  58. ^ ا ب پ "M4 Kadıköy-Kartal Metro Hattı" [M4 Kadikoy-Kartal Metro Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (باللغة التركية). İstanbul Ulaşım. مؤرشف من الأصل في 23 اپریل 2015. اخذ شدہ بتاریخ 14 اپریل 2015. 
  59. ^ ا ب پ "M5 Üsküdar-Çekmeköy Metro Hattı" [M5 Üsküdar – Çekmeköy Metro Line]. www.metro.istanbul (باللغة التركية). Metro Istanbul. اخذ شدہ بتاریخ 21 اکتوبر 2018. 
  60. ^ ا ب پ "M6 Levent – Boğaziçi Üniversitesi/Hisarüstü Metro Hattı" [M6 Levent – Boğaziçi Üniversitesi/Hisarüstü Metro Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (باللغة التركية). İstanbul Ulaşım. اخذ شدہ بتاریخ 20 اپریل 2015. 
  61. "T1 Kabataş-Bağcılar Tramvay Hattı" [T1 Kabataş-Bağcılar Tramway Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (باللغة التركية). İstanbul Ulaşim A.Ş. مؤرشف من الأصل في 18 اپریل 2014. اخذ شدہ بتاریخ 17 اپریل 2014. 
  62. "T4 Topkapı Habibler Tramvay Hattı" [T4 Topkapi-Habib Tramway Line]. Istanbul-ulasim.com.tr (باللغة التركية). İstanbul Ulaşim A.Ş. اخذ شدہ بتاریخ 17 اپریل 2014. 
  63. http://www.iett.gov.tr/tr/main/pages/otobus-filosu/85
  64. http://www.otobus.istanbul/toplu-ta%C5%9Fima/otobues-filosu.aspx
  65. http://www.iett.gov.tr/tr/main/pages/istanbulda-toplu-tasima/95
  66. "Archived copy". مؤرشف من الأصل في 15 جون 2012. اخذ شدہ بتاریخ 30 جون 2012. 
  67. "Fed up with Istanbul traffic". اخذ شدہ بتاریخ 28 ستمبر 2018. 
  68. "Understanding Vehicular Pollution – AQI, Harmful Effects and How to Reduce It?". News18. 1 مارچ 2019. 
  69. "Sister Cities of Istanbul". greatistanbul.com. Istanbul. اخذ شدہ بتاریخ 17 جنوری 2020. 

کتابیاتترميم


  1. TÜİK's address-based calculation from December, 2017.
  2. "December 2013 address-based calculation of the Turkish Statistical Institute as presented by citypopulation.de".