عالیہ بخشل (پیدائش: 3 جون 1978ء) ایک پاکستانی نسوانیت پسند اور سیاسی کارکن ہیں۔ وہ ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی جنرل سیکریٹری اور عوامی ورکرز پارٹی سندھ کی خواتین سیکریٹری ہیں۔[1]

عالیہ بخشل
عالیہ بخشل
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش جون 3, 1978
قومیت سندھ، پاکستان
عملی زندگی
پیشہ سیاسی کارکن، فیمینسٹ
کارہائے نمایاں جنرل سیکریٹری ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ، خواتین سیکریٹری عوامی ورکرز پارٹی سندھ

سیاست

ترمیم

عالیہ بخشل، سماجی ملنساری کے حلقوں سے تعلق رکھنے والی ایک نسوانیت پسند خاتون ہیں جو خیرپور میرس، سندھ سے تعلق رکھتی ہیں اور حیدرآباد میں مقیم ہیں۔

عوامی ورکرز پارٹی

عالیہ بخشل عوامی ورکرز پارٹی کی ایک سرگرم کارکن کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں اور سندھ اکائی کی خاتون معتمد کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔[2]

حقوق نسواں

ترمیم

ویمین ایکشن فورم

عالیہ بخشل کی سیاسی جدوجہد کا آغاز حقوق نسواں کی ترجمانی کرنے والی تنظیم ویمن ایکشن فورم میں شمولیت کے ساتھ شروع ہوا۔ بعد ازاں انھوں نے عوامی ورکرز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ ان کا شمار سندھی خواتین کے حقوق کی ترجمان تنظیم، "ناری جمہوری محاذ" کے بنانے والوں میں ہوتا ہے۔ ناری جمہوری محاذ کو بعد ازاں ملک بھر کی محنت کش خواتین کی مدد سے ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی صورت میں باقاعدہ شکل دے دی گئی۔ عالیہ نے خواتین کے مسائل اور ان کی جدوجہد پہ مبنی رسالہ "ناریواد" نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔[3][4][5]

ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ

عالیہ بخشل ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی جنرل سیکریٹری کے عہدے پہ فائز ہیں۔[6][7] ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی رکن ہونے کی حیثیت سے انھوں نے سندھ کے مختلف اضلاع میں محنت کش اور مزدور طبقے کی خواتین کو ان کے حقوق[8] سے آگاہ کرنے کے لیے اور سیاسی شعورو تربیت کی غرض سے علمی بیٹھکیں منعقد کروائیں۔ کورونا وباء کے دوران انھوں نے صحت عامہ کے کارکنان کو درپیش مسائل[9] اور ان کی حفاظت کے لیے آواز بلند کی۔[10][11]

عورت مارچ

عالیہ بخشل نے ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی دیگر کارکنان کی مدد سے سندھ میں عورت مارچ کے منعقد کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔[12][13][14][15]

حوالہ جات

ترمیم
  1. The Newspaper's Staff Reporter (15 April 2020)۔ "Concerns raised over healthcare workers contracting infection"۔ DAWN.COM (بزبان انگریزی) 
  2. ""Aurat Jagi": The Left Way"۔ The Friday Times۔ 13 March 2015۔ 23 مارچ 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 08 نومبر 2020 
  3. "WDF inaugurated to give women's movement a new impetus | Pakistan Today"۔ www.pakistantoday.com.pk 
  4. "Women's Democratic Front launched to build a vibrant, socialist and a feminist movement"۔ Daily Times۔ 9 March 2018 
  5. "World marks Women's Day hot on heels of rights demands – The High Asia Herald"۔ 25 فروری 2023 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 08 نومبر 2020 
  6. "Justice demanded for girls killed in name of 'honour' in Waziristan"۔ Daily Times۔ 18 May 2020۔ 25 فروری 2023 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 08 نومبر 2020 
  7. The Newspaper's Staff Reporter (2 May 2020)۔ "'Neoliberal economic system has failed, structural changes are only way forward'"۔ DAWN.COM (بزبان انگریزی) 
  8. https://jang.com.pk/news/696429-sindh
  9. https://jang.com.pk/news/759203
  10. "WDF voices concern over growing vulnerability of healthcare workers to COVID-19"۔ www.thenews.com.pk (بزبان انگریزی)۔ April 15, 2020 
  11. "'Pandemic lays bare world order's failure'"۔ The Express Tribune (بزبان انگریزی)۔ 30 April 2020 
  12. "What made Aurat March possible? | Dialogue | thenews.com.pk"۔ www.thenews.com.pk (بزبان انگریزی)۔ March 17, 2019 
  13. "Aurat Azadi March for emancipation today – The High Asia Herald"۔ 11 اکتوبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 08 نومبر 2020 
  14. https://urdu.nayadaur.tv/22817/[مردہ ربط]
  15. "آرکائیو کاپی"۔ 21 مارچ 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 08 نومبر 2020