عبد العزیز خاں (عبرتؔ بہرائچی ) : کی پیدائش یکم جنوری 1927ء کو شہر بہرائچ میں ہوئی تھی۔ والد صاحب عبد الشکور خاں تھے۔ ان کی تعلیم ایم۔ بی۔ بی۔ ایس۔(ہومیو) ہے۔

Ibrat Behraich profile pic.jpeg
پیدائش01 جنوری 1927ء
بہرائچ، یوپی، انڈیا
وفات25 اپریل 2021ء
محلہ ناظر پورہ شہر بہرائچ، یوپی، انڈیا
وجۂ وفاتبیماری
اقامتبہرائچ، اتر پردیش
دیگر نامڈاکٹر عبرت بہرائچی
پیشہادب سے وابستگی،
وجۂ شہرتشاعری
مذہباسلام
بچے2
والدین
  • عبد الشکور خاں (باپ)
عبرت بہرائچی کی موجودہ تصویر

پیشہ ورانہ سفرترميم

محکمہ تعمیر اتر پردیش میں ملازم رہے۔ وظیفہ یابی کے بعد ہومیو پتھ ڈاکٹری علاج و معالجہ میں مصروف تھے۔

 
عبرت بہرائچی ۔

ادبی سفرترميم

آپ کے پردادا حضرت انیقؔ بہرائچی صاحب دیوان شاعر حضرت انیسؔ لکھنوی کے ساتھیوں میں تھے۔ انیق صاحب شاعر اور بیسوں کتابوں کے مصنف تھے۔ عبرت ؔ صاحب اردو ،عربی،فارسی،ہندی اور انگریزی زبانوں کا بہترین علم تھا۔ ڈاکٹر عبرت ؔصاحب حضرت نشورؔواحدی کے شاگرد تھے۔

اہم شخصیات سے رابطہترميم

ڈ اکٹر عبرت ؔصاحب کافی عرصے تک حضرت جگرؔ مرادآبادی کے ساتھ رہے اور ان کے ساتھ ہندوستان کے درجنوں مشاعروں میں شرکت بھی کی اور اپنے معیاری کلام سے سامعین کا دل جیتا۔

ادبی خدماتترميم

عبرت ؔ ؔ بہرائچی نظم اور غزل دونوں میں حاکمانہ قدرت رکھتے تھے، ان کی غزلوں کی خاص پہچان الفاظ و محاورات کا بخوبی استعمال تھا جو ان کے تخلیقی ذہن کی غمازی کرتا ہے۔ عبرتؔ صاحب نشر کے میدان میں بھی پیچھے نہیں ہیں۔ آپ نے سیکڑوں مضامین لکھے ہیں۔ اب تک پچاس کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں دو درجن کتابیں دینی اور ادبی نشری کتابیں ہیں اور دو درجن سے زائید آپکے شعری مجموعے ہیں عبرت ؔ ؔ صاحب نے صرف غزل ہی اپنے اظہار کا وسیلہ نہیں بنایا بلکہ نظم،حمد و نعت و منقبت،رباعی،قطعات بھی کہے،بچوں پر بھی بہت عمدہ نظمیں کہی ،حبّ الوطنی پر آپکی معیاری نظمیں ہندوستان کے کئی معیاری رسائل و جراید میں شایع ہوچکی ہیں، آپ کی نظم ـ"باپو" ریڈیو تاشقند سے نشر ہو چکی ہے جو بین الاقوامی سطح پر پسند کی گئی تھی۔ آل انڈیا ریڈیوپر بھی کئی نظمیں پڑھی جا چکی ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو سے آپ کا تاحیات اگریمنٹ تھا۔

تصانیف وتخلیقاتترميم

 
دیگر تصانیف کی فہرست
  1. متاع زیست
  2. تحقیق وجستجو
  3. لگن
  4. وجہہ لوح و قلم اور دیگر کتابیں ہیں

نمونہ کلامترميم

میت کو میری دوستو آہستہ لے چلو

میں موت سے لڑا ہوں ،بدن چور چور ہے

نفرتیں آپے سے باہر ہوگیئں

جب سے پھیلا ہے نظریاتی بخار

اعزازاتترميم

  • ڈ اکٹر عبرت ؔ بہرائچی کو ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے لیے اترپردیس اردو اکادمی نے انعامات سے نوازا،اور دیگر تنظمیوں نے انعامات اور ایواڈ سے سرفراز کیا تھا

ساتھ ہی جشن عبرت ؔ بہرائچی بھی منایا گیا تھا۔

دیگر باتیںترميم

ڈ اکٹر عبرت ؔ ؔ بہرائچی کی معیاری شاعری پر ملک کے ممتاز ادیبوں نے مضامین لکھے ہیں۔ آپ کے شاگردو کی بھی تعداد کم نہیں ہے،ملک کے مختلف حصّو میں آپکے شاگرد آج بھی خط و فون کے ذریعہ آپ سے اصلاح لیتے تھے ۔ عبرت ؔ بہرائچی کی رگ رگ میں ،ان کے خون میں شاعری رچی بسی تھی۔ شعر و ادب کی آبیاری میں مصروف رہے۔

وفاتترميم

عبرت بہرائچی 25 اپریل 2021ء مطابق 12 رمضان المبارک 1442ھ کو وفات پا گئے۔آپ کی تدفین مقامی قبرستان چھڑے شاہ تکیہ شہر بہرائچ میں ہوئی۔

مزید دیکھےترميم

حوالہ جاتترميم

بیرونی روابطترميم