عشق کے لغوی معنی تو پھٹ جانے کے ہیں مگر متصوفانہ اصطلاح میں عشق کی تعریف دراصل تیقن کے انتہائی مقام کی صورت میں کی جاتی ہے، عشق کے مفہوم کو واضح کرنے کے لیے تصوف کا علاقہ اس لیے مستعار لیا گیا کہ عشق کی وضاحت پر سب سے زیادہ علمی کام اب تک صوفیا ہی کر سکے ہیں، ایک صوفی عشق کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں، "عشق اُس آگ کا نام ہے جو عاشقوں کے دل اور سینے میں جلتی رہتی ہے اور خدا کے سوا جو کچھ ہے اُسے جلا کر خاکستر کر دیتی ہے" بالکل یہی کیفیت ایک انسان کی دوسرے انسان کے لیے بھی بیدار ہو سکتی ہے جسے صوفیانہ اصطلاح میں عشق مجازی کہتے ہیں[1] عرفِ عام میں عشق کی دو ہی صورتیں ہیں یعنی

عشق مجازی اور عشق حقیقی، عشقِ مجازی دراصل ایک انسان کے مکمل وجود یا کسی ایک حصے سے شدید پیار کرنا اور اپنی طلب کو وجودِ محبوب کے دائرے تک محدود رکھنا، دوسرے لفظوں میں کسی ایک بنی نوع انسان کے لیے اپنے آپ کو اس کی خواہشات کے مطابق ڈھال لینا یا وقف کر دینا عشق مجازی ہے جبکہ عشقِ حقیقی میں محبوب کے وجود سے ماوراء ہو کر اُس کی ذات کا طالب بن جانا، اس صورت میں محبوب کا وجود موجود ہونا لازم نہیں کیونکہ یہاں وجود کی حیثیت ہی باقی نہیں رہتی[2].

حوالہ جاتترميم

  1. نعمان نیئر کلاچوی (2020). صراطِ دانش. مرشد پبلیکیشنز کلاچی. صفحہ 77. ISBN 9789692228008. 
  2. نعمان نیئر کلاچوی (2014). عشق کی سائنس. فیکٹ پبلیکیشنز لاہور. صفحات 76،70. ISBN 9789696320067.