فاطمہ اسماعیل مصر کے علوی حکمراں خاندان کی شہزادی تھیں، خیر اور رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے میں دیگر بہنوں سے ممتاز تھیں۔[1] شاہی خانوادہ کے سرایا خانے میں اعلی علمی، فنی اور ثقافتی ذوق پر تربیت و پرورش ہوئی، لیکن اس زمانے میں لڑکیوں کے جامعات و یونیورسٹیوں میں داخلہ پر پابندی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم رہیں۔ والد اسماعیل پاشا تھے اور والدہ شہرت فزا ہانم تھیں۔[2] ان کی پہلی شادی طوسون بن محمد سعید پاشا سے ہوئی جو مصر کے گورنر تھے، [1][3] شادی میں شہزادی نے چالیس ہزار مصری پاؤنڈ کا ہیرے کا تاج پہنا تھا اور لباس فرانس کے سفید ریشم سے بنا ہوا اور قیمتی موتی اور ہیرے سے بُنا ہوا تھا، اس کا دامن 15 میٹر کا تھا۔[2] پہلے شوہر سے دو اولاد (1) شہزادہ جمیل اور (2) شہزادی عصمت پیدا ہوئی۔[4] پھر پہلے شوہر کی وفات کے بعد سنہ 1876ء میں محمود سری پاشا سے شادی کی، ان سے تین لڑکے اور ایک لڑکی ہوئی۔ شہزادی فاطمہ کی وفات 18 نومبر 1920ء میں ہوئی۔[5]

فاطمہ اسماعیل
Princess Fatma Ismail.jpg
 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1853  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 18 نومبر 1920 (66–67 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد نسل
والد اسماعیل پاشا  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان آل محمد علی  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کارنامےترميم

یوں تو شہزادی فاطمہ رفاہی اور خیراتی کاموں میں خوب حصہ لیتی تھیں، خاص طور سے علم اور تعلیم کے میدان میں ہر تعاون و امداد کرتی تھیں۔ مصر میں بہر حال علم و تعلیم کا چرچا اور شوق تھا، گرچہ لڑکیاں اس سے محروم تھیں۔ مصر کے طلبہ یورپ کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں اور جامعات سے تعلیم حاصل کر کے واپس آتے اور وہاں کی شاندار عمارتوں، خصوصیات اور فوائد کو بیان کرتے۔ مصر کی ترقی کے لیے وہاں ایک قومی یونیورسٹی اور جامعہ کا قیام ناگزیر تھا، لیکن بہر حال یہ ایک خواب تھا، جس کو شہزادی فاطمہ نے جامعہ قاہرہ کی شکل میں شرمندۂ تعبیر کیا۔[6]

جامعہ قاہرہ کا قیامترميم

21 دسمبر 1908ء میں جامعہ کا باقاعدہ پہلی نجی یونیورسٹی کے طور پر پارلیمنٹ ہال کی ایک خصوصی تقریب میں افتتاح عمل میں آیا، اس کا پہلا نام جامعہ فواد تھا، اس تقریب میں عباس حلمی پاشا اور حکومت کے دوسرے عمائدین اور ذمہ داران شریک ہوئے۔ اور افتتاح کے دن کی شام سے محاضرات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یومیہ اخبارات نے محاضرات کے ہال، اسکول کلب اور اخبار ہاؤس کا اعلان کر دیا تھا، حالانکہ اس وقت تک کوئی خاص جگہ متعین نہیں ہو سکی تھی۔[7] اگر یہ اسماعیل پاشا کی شہزادی فاطمہ کی خواہش اور منصوبہ نہ ہوتا تو یونیورسٹی کی عمارت کا منصوبہ روک دیا جاتا، اس لیے کہ یونیورسٹی جس جگہ قائم کی گئی تھی وہ شہزادی کی ملکیت نہیں تھی بلکہ اس کے مالک خواجہ نیسٹر جناکلیس تھے جن سے 400 مصری پاؤنڈ کے سالانہ کرایہ پر لیا گیا تھا،[8] حالانکہ وہ اس زمین کو فروخت کرنا چاہتے تھے۔ بہر حال احمد فؤاد نے اس جگہ کے اجارہ میں چار سال توسیع کرا دی اور جناکلیس اس شرط پر راضی ہو گئے کہ آئندہ مدت میں وہ اس کو اجرت اور کرایہ پر نہیں دیں گے۔ یونیورسٹی کا موجودہ مقام تحریر اسکوائر میں امریکی یونیورسٹی کے ہیڈ کوارٹر میں تھا، یہی وہ وجوہات تھیں جس کی وجہ سے جامعہ قاہرہ اس کو مستقل جگہ نہیں بنا سکا اور کرایہ کے اخراجات بھی بہت زیادہ تھے۔[9][10]

شہزادی فاطمہ کے اہل خانہ کے خصوصی معالج اور مصر کے مشہور نفسیاتی عالم، ڈاکٹر محمد علوی پاشا نے یونیورسٹی کے منصوبہ کے بجٹ میں عدم توازن اور اس منصوبے کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ امداد کی ضرورت سمیت مشکل حالات سے آگاہ کیا۔[11] شہزادی نے اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔[12] لہذا اس نے یونیورسٹی کی نئی جگہ کے لیے 6 ایکڑ زمین مختص کی، اس کے علاوہ 2 جولائی 1913ء کو داکلیہ میں 661 ایکڑ بہترین زرعی اراضی کو یونیورسٹی کے لیے وقف کر دیا۔ شہزادی نے موجودہ وزارت زراعت کے صدر دفتر بلق دکرور میں چھ ایکڑ زمین دی، تاکہ ان پر یونیورسٹی قائم ہو سکے۔[13][14]

آرٹس فیکلٹی کا قیامترميم

شہزادی فاطمہ اپنی زندگی میں فنڈ کی کمی کی وجہ سے شعبہ فنون (آرٹس فیکلٹی) نہیں بنا سکی، تاہم انھوں نے اس شعبہ کی تعمیر کے لیے اپنے زیورات کو عطیہ کر دیا تھا۔ ابھی تک اس شعبہ میں ایک تختی آویزاں ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ "شہزادی فاطمہ اسماعیل کی ایک خوشبودار یاد، جنھوں نے اس کالج کی تعمیر میں حصہ لیا تھا۔"[15]

جامعہ کو عطیاتترميم

شہزادی فاطمہ نے یونیورسٹی کی تعمیرات کے تمام اخراجات اٹھانے کا پورا ذمہ لیا اور اس کے لیے 26 ہزار پاؤنڈ دیا جو 1983ء میں 1 کروڑ پاؤنڈ کی لاگت کا تھا۔[16] اس کے لیے انھوں نے اپنے زیورات وغیرہ کو ہدیہ کر دیا اور یونیورسٹی میں فروخت کرنے کے لیے پیش کیا، بعد میں انتظامیہ نے اسے بیرون ملک فروخت کیا۔[17][18] وہ زیورات یہ تھے:

  • زمرد کا ہار: جس میں ہر ٹکرے کے چاروں طرف شاندار قیمتی ہیرے جڑے تھے۔
  • چار کڑے: جو سعید پاشا سے وراثت میں ملے تھے۔
  • ہیرے کا ایک کڑا: جس کے بیچ میں 20 قیراط کا ایک قیمتی پتھر نصب تھا۔
  • ہیرے کا پتھر: جس پر مختلف حجم کے قیمتی پتھر نصب تھے، اس کی شکل تیر نما دل کی تھی۔
  • سونے کی زنجیر کا ہار: جس میں ایک 20 قیراط کا بڑا پتھر اور دو 12 قیراط کے چھوٹے پتھر لٹکے ہوئے تھے اور وہ پتھر شاندار قیمتی ہیروں سے بنے ہوئے تھے۔

یونیورسٹی نے ان زیورات کو فروخت کرنے کی ذمہ داری ڈاکٹر محمد علوی پاشا کو دی، جنھوں نے تقریباً 70 ہزار پاؤنڈ کی مناسب قیمت پر فروخت کیا۔[9][19][20][21]

یونیورسٹی کی سنگ بنیادترميم

جامعہ قاہرہ کی سنگ بنیاد تقریب کا پورا خرچ شہزادی فاطمہ نے اٹھایا۔ بروز پیر 3 جمادی الاولی 1322ھ مطابق 31 مارچ 1914ء کو بوقت؛ ساڑھے چار بجے، عباس حلمی پاشا کے بدست سنگ بنیاد رکھا گیا۔ سنگ بنیاد کی تقریب میں شہزادے، مصر کے جج، جامعہ الازہر کے شیخ، علما و اسکالرز، ممالک کے سفرا، صدر اور مقننہ کے ارکان اور مصر کے صحافی اور مصنفین کی بڑی تعداد شرکت کی۔[21]

یونیورسٹی کی جانب سے اعزازترميم

7 دسمبر 1996ء کو یونیورسٹی کے قیام کی 90 ویں سالگرہ کے جشن میں شہزادی فاطمہ کے عطیات کو اعزاز سے نوازا گیا اور اس کے ورثاء عہدیداروں نے اس وقت تبادلہ خیال کیا۔ اس جشن میں شہزادی کی اور ان کے زیورات کی تصاویر شامل بھی شامل تھیں جو انھوں نے فنون فیکلٹی کو بنانے کے لیے دی تھی، کیونکہ وہ اس وقت قومی یونیورسٹی کی تعمیر کے سلسلے میں پرجوش تھیں۔[15] یونیورسٹی میوزیم میں اس کی تصاویر، سامان اور زیورات پر مشتمل ایک خصوصی شعبہ اور گوشہ بنایا گیا۔[15]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب الأميرة فاطمة إسماعيل. موقع جامعة القاهرة.
  2. ^ ا ب نشوى الحوفى، دوشنبہ 07 ربيـع الثانـى 1429 هـ 14 اپریل 2008 ، مجوهرات أميرة كانت السبب في ظهور أول جامعة عربية، جريدة الشرق الأوسط، العدد 10730 آرکائیو شدہ 13 اگست 2016 بذریعہ وے بیک مشین
  3. الأميرة فاطمة إسماعيل، الإثنين, 08 تشرين1/أكتوير 2012 21:35، موقع المجلس القومى للمرأة آرکائیو شدہ 27 اگست 2016 بذریعہ وے بیک مشین
  4. الأميرة فاطمة إسماعيل.. تبني حضارة وطن، الخميس 18 سبتمبر 2014 - 09:52 مساءً، بوابة أخبار اليوم الالكترونية
  5. فكرة إنشاء جامعة مصرية. موقع جامعة القاهرة.
  6. حفل تأبين الأميرة فاطمة. موقع جامعة القاهرة.
  7. 9 يوليو 2004، جريدة روز اليوسف، عدد 3969 آرکائیو شدہ 26 اگست 2016 بذریعہ وے بیک مشین
  8. ^ ا ب الأميرة فاطمة إسماعيل.. باعت مجوهراتها لإنشاء جامعة القاهرة (بروفايل)، الثلاثاء, 05 مايو, 2015, 11:02 ص، موقع مصراوى
  9. الأميرة فاطمة و مشروع الجامعة. موقع جامعة القاهرة.
  10. محمد زهران، العظمة فى العلم و العمل، 7 اگست 2016، أخبارك. نت
  11. جنوری 1946، نبذة عن جامعة فؤاد الأول آرکائیو شدہ 26 اگست 2016 بذریعہ وے بیک مشین
  12. ""الأميرة فاطمة إسماعيل و تاريخ الجامعة".موقع جامعة القاهرة.". 11 مئی 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2020. 
  13. ^ ا ب پ جامعة القاهرة تبحث عن ورثة الأميرة فاطمة، 14 ستمبر 1998، جريدة الأخبار آرکائیو شدہ 26 اگست 2016 بذریعہ وے بیک مشین
  14. إسماعيل منتصر،الأحد 25 ديسمبر 1983، قراءة جديدة فى وثائق قديمة، مجلة اکتوبر، العدد 374 آرکائیو شدہ 26 اگست 2016 بذریعہ وے بیک مشین
  15. "الأميرة فاطمة إسماعيل و تاريخ الجامعة، موقع جامعة القاهرة.". 11 مئی 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2020. 
  16. "لانا أحمد، 2015-12-03 19:29 ، التحرير يرصد أهم الشخصيات التى كانت تقوم بالتبرع للدولة، موقع التحرير الأخبارى.". 13 ستمبر 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 مارچ 2020. 
  17. جامعتنا الأولى تحتفل بعيدها: هذه المجوهرات أنقذت الجامعة، جريدة المصور، 2 نوفمبر 1953. آرکائیو شدہ 26 اگست 2016 بذریعہ وے بیک مشین
  18. الأحد 25 دسمبر 1983، مجلة اکتوبر ، العدد 374 آرکائیو شدہ 26 اگست 2016[Date mismatch] بذریعہ وے بیک مشین
  19. ^ ا ب "الأميرة فاطمة إسماعيل و تاريخ الجامعة.موقع جامعة القاهرة.". 11 مئی 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2020.