فومیکو ہیاشی (جاپانی: 林 芙美؛ ہیاشی فومیکو؛ 31 دسمبر 1903ء یا 1904ء[ا] – 28 جون 1951ء) جاپانی ناول نگار اور شاعر تھی۔

فومیکو ہیاشی
(جاپانی میں: 林芙美子 ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Fumiko Hayashi.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 31 دسمبر 1903[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شیمونوسیکی، یاماگوچی[2]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 29 جون 1951 (48 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ٹوکیو  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Japan.svg جاپان[3]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ناول نگار،  شاعرہ،  مصنفہ،  منظر نویس  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان جاپانی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان جاپانی[4]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل شاعری  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

سوانحترميم

ہیاشی کا جنم جاپان کے شہر شیمو نوسیکی میں ہوا۔ جب وہ سات برس کی تھی اس کی ماں اپنے قانونی شوہر کی دکان کے منیجر کے ساتھ بھاگ گئی۔ بعد ازاں تینوں نے کیوشو میں خانہ بدوش تاجر کے طور پر کام کیا۔ سنہ 1922ء میں ہائی اسکول سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد، ہیاشی اپنے عاشق کے ساتھ توکیو منتقل ہو گئی۔ وہ کئی اور مردوں کے ساتھ بھی رہی۔ سنہ 1926ء میں روکوبِن تیزوکا (手塚 緑敏) نام کے مصور سے شادی کر لی۔

اس کی اکثر تخلیقات آزاد حوصلہ افزا خواتین اور مسائل سے دوچار رشتوں کے گرد گھومتی ہیں۔ ان کی تخلیقات میں سے شاہکار "ہوروکی" (放浪記،‏ 1927ء یعنی سیلانی کی ڈائری) ہے۔ اس کا آخری ناول اوکیگومو (بہتے بادل، 1951ء) تھا، جس پر میکیو ناریوس نے سنہ 1955ء میں ایک فلم بنائی تھی۔ ناریوس نے اس کی کتابوں پر مزید فلمیں بھی بنائیں اور اس کے متعلق سنہ 1962ء میں ایک سوانحی فلم، ہوروکی (خانہ بدوش کا بیاض) کی ہدایت کاری بھی کی۔

ہیاشی کا کام زیادہ تر نسوانی پسند موضوع کے لیے مشہور ہوا۔ اس نے جاپانی فوجی حکومت کی طرف سے مقبوضہ چین جانے کے لیے دورے قبول کیے، اس کی وجہ سے بعد میں اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ سنہ 1942ء و1943ء میں وہ مصنفات کے بڑے حلقے کا حصہ بن گئی، اس نے جنوب مشرقی ایشیا کا سفر بھی کیا، لگ بھگ آدھا سال وہاں رہی بالخصوص جاوا اور سماٹرا میں۔ ان کی کچھ سرگرمیوں کو مقامی انڈونیشیائی کے ساتھ ساتھ جاپان کے پریسوں میں بھی رپورٹ کیا گیا۔[5][6]

جنگ عظیم دوم کے بعد اس نے خوب شہرت کمائی، جب اس نے داون تاون (ڈاؤن ٹاؤن، 1948ء) اور اوکیگومو (بہتے بادل، 1949ء) لکھے۔ ہیاشی کی موت حد سے زیادہ کام سے دل پر تناؤ کی وجہ سے ہوئی تھی۔[7]

حواشیترميم

  1. جاپان ماخذات میں سنہ پیدائش میں اختلاف ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب ربط : https://d-nb.info/gnd/118954563  — اخذ شدہ بتاریخ: 28 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. http://www.britannica.com/EBchecked/topic/257686/Hayashi-Fumiko
  3. http://www.yelp.com/biz/%E6%9E%97%E8%8A%99%E7%BE%8E%E5%AD%90%E8%A8%98%E5%BF%B5%E9%A4%A8-%E6%96%B0%E5%AE%BF%E5%8C%BA
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13475571t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. Ericson, Joan E. (1997). Be a Woman: Hayashi Fumiko and Modern Japanese Women's Literature. Honolulu: University of Hawaii Press.
  6. Horton, William Bradley. (2014). 'Tales of a Wartime Vagabond: Hayashi Fumiko and the Travels of Japanese Writers in Early Wartime Southeast Asia', in Under Fire: Women and World War II. Verloren Publishers.
  7. https://www.britannica.com/biography/Hayashi-Fumiko