قلعۂ تلاجہہ ضلع خوشاب کی تحصیل نوشہرہ میں ایک بڑی چٹان پر واقع ہے۔ اس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 5000 سال پرانا قلعہ ہے۔[1]

سالٹ رینج میں ایسے تاریخی مقامات موجود ہیں جو عام لوگوں کی پہنچ سے دور اور پوشیدہ ہیں۔ ان میں سے ایسی ہی ایک جگہ ضلع خوشاب میں واقع تلارجہ قلعہ ہے جو دشوار گزار اور دور افتادہ پہاڑی پر رکھ کھوڑو کے مشرق میں دربار بابا کچھی والا کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔[2]

اس وقت اس قلعے کی تمام دفاعی دیواریں تباہ شدہ حالت میں ادھر ادھر بکھری ہوئی ہیں۔ مکانات اور دیگر ڈھانچے بھی کھنڈرات ہیں البتہ ایک عمارت کے ڈھانچے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کبھی مسجد رہی ہو گی۔ عمارتوں کی تعمیر میں بڑے بڑے پتھر تراش کر استعمال کیے گئے ہیں۔ یہاں کی سب سے دلچسپ چیز پانی کا ایک ٹینک ہے جو پنج گوشہ پتھروں سے بنا ہے۔ تاحال یہ معلوم نہیں کیا جا سکا کہ یہ قلعہ ترک سلاطین ، لودھیوں یا مغلوں کے عہد میں آباد تھا۔[3]

مقامی روایات کے مطابق اس قلعہ کی تعمیر پانچ ہزار سال قبل ہوئی تھی، تاریخی طور پر اپنی طرز کے اس قلعے کو جلال الدین خوارزمی کے ساتھ بھی منسلک کیا جاتا ہے جس نے چنگیزخان سے بچنے کیلیے اس وادی میں پناہ لی، قلعے پر موجود آبادی کے آثار اس روایت کی حمایت نہیں کرتے۔

ماہرین آثار قدیمہ کی ابتدائی تحقیق کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس قلعے کی تعمیر کو کسی بھی صورت پانچ ہزار سال قبل سے نہیں جوڑا جاسکتا مکانوں کے طرز تعمیر، استعمال ہونے والے پتھروں کا سائز،آبادی کی مختلف حصوں کی تقسیم اور سطح پر بکھرے انسانی استعمال میں رہنے والی چیزیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہاں مسلمان آباد تھے جو جلال الدین خوارزمی کے آنے سے پہلے اس جگہ کو اپنے مسکن کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔[4]

حوالہ جاتترميم

  1. "Tulaja Fort: Relics of ancient site going to waste". 
  2. http://reportersdiary.com/urdu/5485/%D8%AA%D9%84%D8%A7%D8%AC%DB%81-%D9%82%D9%84%D8%B9%DB%81-%DA%A9%DB%81%D8%A7%DA%BA-%DB%81%DB%92%D8%9F-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%A2%D9%BE-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA%D8%9F/
  3. [http://khushabvision.blogspot.com/2012/02/tulaja-fort-khushab.html khushab vision: Tulaja fort Khushab
  4. https://www.express.pk/story/2204212/1