قلندریہ (فارسی: قلندریہ‎، ہندی: क़लन्दरिय्या، بنگالی: ক়লন্দরিয়্য়া) صوفیاء کا ایک سلسلہ ہے۔ ہندوستان میں یہ سلسلہ وحدت الوجود کے لیے بحر زخار کی حیثیت رکھتا ہے۔ سلسلہ چشتیہ کے بعد افکار ابن عربی کی شرح و توضیحات میں اس سلسلہ کو خاص مقام حاصل ہے بلکہ سلسلہ چشتیہ کے دور زوال میں اس سلسلہ نے اس خدمت کو اپنے ذمہ لے لیا تھا۔

بانی سلسلہترميم

اس سلسلہ کے بانی عبد العزیز عبد اللہ علمبردار مکی کو مانا جاتا ہے ان سے خضر رومی نے استفادہ کیایہ جب ہندوستان آئے تو قطب الدین بختیار کاکی کو یہ سلسلہ دیا اور خود چشتیہ سلسلہ حاصل کیا[1][2]خانقاہ کاکوری نے اس سلسلہ کے افکار کی جو کتابیں شائع کی ہیں وہ وحدت الوجود کی مکمل تصویر ہیں۔ اس سلسلہ نے شاہ محب اللہ الہ آبادی کے رسالہ تسویہ کی مفصل شرح بھی شائع کی تھی۔ شاہ مجتبی قلندر اور شاہ فتح علی قلندر کے مابین جو مراسلت ہوئی اس سے بھی عیاں ہے کہ وہ کن افکار کے حامل تھے۔ یعنی ان کے محبوب موضوع نفی خودی اور توحید وجودی ہیں۔[3]

حوالہ جاتترميم

  1. اخبار الاخیار صفحہ 118 شیخ عبد الحق محدث دہلوی اکبر بک سیلر لاہور
  2. سلسلہ قلندریہ ،عبید اللہ کوٹی ندوی،صفحہ 20،فرید بکڈپو نیودہلی
  3. تعلیمات قلندریہ، تقی حیدر قلندر، لکھنؤ ص37۔ تعلیمات قلندریہ سلسلہ قلندریہ کے بزرگان کے مکتوبات کا مجموعہ ہے۔