قوت القلوبمشہور زمانہ صوفی شیخ ابو طالب مکی (محمد بن علی بن عطا الحارثی) کی تصوف میں ایک بہت ہی جامع تصنیف ہے۔

مکمل نامترميم

اس کا پورا نام قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب ووصف طریق المرید الی مقام التوحید ہے قوت القلوب في معاملتہ المحبوب المعروف بہ "قوت القلوب“ ہے۔

تصوف کی پہلی کتابترميم

تاریخ تصوف میں سب سے پہلی، لازوال اور مستند کتاب تمام تصوف کی کتابیں اسی سے ماخوذ ہیں جس کے مصنف شیخ ابو طالب مکی ہیں اس سے امام غزالی شاہ ولی اللہ اور دوسرے اہل تصوف نے استفادہ کیا مولانا جامی «نفحات الانس“ میں اس کتاب کے بارے میں فرماتے ہیں، طریقت اور سلوک کے دقیق مسائل، اسلام میں کسی نے اس سے قبل پیش نہیں کیے ہیں۔ یہ کتاب بھی عربی زبان میں ہے اور 1310ھ میں کسی معتبر مخطوطہ سے اس کو مصر میں شائع کیا گیا ہے

کتاب کا موضوعترميم

تصوف کو عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں زبردستی داخل کیا گیاجو صحیح نہیں یہ سارے کا سارا کتاب وسنت سے ثابت ہے۔ البتہ اسے فنی حیثیت میں بعد میں تدوین کیا گیا۔ کتاب قوت القلوب انہی اعتراضات کا مدلل جواب ہے۔ اس کتاب میں ہر عنوان پر قرآن و حدیث اقوال صحابہ و تابعین شامل ہیں یہی وہ کتاب ہے جسے پڑھ کر امام غزالی نے مدرسہ نظامیہ بغداد کی صدارت چھوڑکر تصوف کی دنیا میں قدم رکھا تصوف میں بے مثال خدمات کے حامل ہیں۔[1]

اہمیتترميم

متوسلین اور متاثرین صوفیہ کرام کی تصانیف میں اس کے متعدد جگہ حوالے دیے گئے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ارباب تصوف اور اکابرین صوفیہ کی نظر میں یہ کتاب بہت مقبول تھی۔ داتا گنج بخش اور شیخ شہاب الدین سہروردی نے کشف المحجوب اور عوارف المعارف میں متعدد جگہ آپ کے اقوال اور قوت القلوب کے حوالے دیے ہیں۔ شریعت کی اتباع کو صوفیہ کے مسلک کا جزو لاینفک قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ اتباع سنت کے بغیر یہ راستہ طے کرنا ناممکن ہے۔ عوارف المعارف میں آپ شیخ ابو طالب کی کے متعدد ارشادات ملاحظہ کریں گے شیخ ابو طالب مکی کا سال وفات 386ھ ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. قوت القلوب، شیخ ابو طالب مکی، تعارف کتاب شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور