مرکزی مینیو کھولیں

قومی دیہی ملازمت گارنٹی قانون 2005ء

قومی دیہی ملازمت گارنٹی قانون 2005ء (یا نَرے گا No 42)، جس کی بعد ازاں مہاتما گاندھی قومی دیہی ملازمت گارنٹی قانون 2005ء (ایم جی نرے گا) کے طور بازتسمیہ کی گئی تھی، ایک بھارتی مزدوری قانون ہے اور سماجی حفاظت کا ذریعہ ہے جو کام کے حق کی گارنٹی دیتا ہے۔ اس کا مقصد دیہی علاقوں میں روزگار کی طمانیت میں اضافہ جس کے ذریعے کم ازکم سال بھر میں 100 دنوں کی اجرت ہر اس گھر میں ملازمت یقینی بنانا جہاں بالغ ارکان آگے آکر غیر کاریگر کام کرنے تیار ہیں۔[1][2]

قومی دیہی ملازمت گارنٹی قانون 2005ء
NREGA2 page 1.png
مہاتما گاندھی قومی دیہی ملازمت گارنٹی قانون 2005ء کا پہلا صفحہ
صورت حال: نافذ
قومی دیہی ملازمت گارنٹی قانون 2005ء
ملک India
وزیر اعظم منموہن سنگھ
آغاز 2 Feb 2006

2 فروری 2006ء میں 200 ضلعوں سے شروع ہو کر نرے گا 1 اپریل 2008ء بھارت کے سبھی ضلعوں تک پھیل چکا تھا۔[3] یہ حکومت کی جانب سے "دنیا کے سب سے بڑا اور باعزم سماجی حفاظتی اور عوام کاموں کے پروگرام" کے طور پر دنیا بھر میں حکومت کی جانب سے شہرت دی گئی ہے۔[4] عالمی ترقیاتی رپورٹ 2014ء میں عالمی بنک نے اسے "ستارہ نما دیہی ترقی کی مثال" قرار دیا۔[5]

ایم جی نرے گا کے شروع کرنے کا مقصد "دیہی علاقوں کے روزگار میں اضافہ کرنا جس کے ذریعے کم ازکم کسی بھی مالی سال 100 دنوں کی ملازمت کی طمانیت رہے جہاں بالغ ارکان آگے آکر غیر کاریگر کام کرنے تیار ہیں۔[6] ایم جی نرے گا کا ایک اور مقصد د یرپا قائم اثاثہ جات کی تخلیق ہے جیسے کہ سڑکیں، نہریں اور کنویں بنانا۔ روزگار درخواست گزار کی رہائش سے پانچ کیلومیٹر کے فاصلے کے اندر ہونا چاہیے۔ اگر کام درخواست کے 15 دنوں کے اندر فراہم نہیں کیا گیا تو درخواست گزار بے روزگاری بھتا کا اہل ہو جائے گا۔ لہذا ایم جی نرے گا ایک قانونی حق ہے۔[حوالہ درکار]

ایم جی نرے گا گرام پنچایتوں کے توسط عمل پزیر ہے۔ ٹھیکے داروں کی وابستگی پر پابندی ہے۔ کثیرمزدوری والے کام جیسے کہ بارش کے پانی کا تحفظ (water harvesting)، قحط میں راحت فراہمی اور سیلابوں پر گرفت کو ترجیح دی جاتی ہے۔[حوالہ درکار]

معاشی حفاظت کی فراہمی اور دیہی اثاثہ جات کی تخلیق کے علاوہ ایم جی نرے گا ماحولیاتی تحفظ، خواتین کو بااختیار بنانے، شہری دیہی نقل مقام اور سماجی عدل پھیلانے کا کام کرتا ہے۔[7]

قانون اس کے مؤثر انتظام اور عمل آوری کے لیے کئی اقدامات کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ قانون ان اصولوں اور ایجنسیوں کی وضاحت کرتا ہے جو عمل آوری کرسکتے ہیں، وہ کام جو دیے جا سکتے ہیں، نگرانی اور جائزے اور سب سے اہم شفافیت اور جوادہی کو یقینی بنانے کا عمل۔[حوالہ درکار]

قانون کی عمل آوریترميم

آزادانہ مطالعاتی تحقیقترميم

مطالعاتی تحقیق ایم جی نرے گا کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے: معاشی حفاظت، خودمرکوز نشانے بازی، (self-targeting)، خواتین کو بااختیار بنانا، اثاثہ جات کی تخلیق، رشوت، اس اسکیم کا زرعی اجرت پر اثر، وغیرہ۔ شمالی بھارت کے ایک ابتدائی جائزے سے پتہ چلا ہے کہ یہ منصوبہ "غریبوں کی زندگی میں دھیرے دھیرے مگر یقینی طور پر تبدیلی لا رہا ہے۔"[8]

نرے گا کے مقاصد میں سے ایک یہ تھا کہ مزدوری کی اجرت سے متعلق قوت طے شدگی میں اضافہ جو اکثر استحصالی بازاری حالات کا شکار ہوتے ہیں۔ کئی مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ زرعی اجرت میں قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے، شروع سے بطور خاص خواتین کے لیے۔[9][10] اس سے پتہ چلتا ہے کہ بحیثیت مجموعی اجرت کی سطح بڑھی ہے، جس کی اصل وجہ اس سکیم کے تحت کھیتوں میں کام کرنے والوں کو کمائی کا متبادل ذریعہ ملنا۔[11]

تنازعاتترميم

اس اسکیم پر سب سے بڑی تنقید یہ ہے کہ یہ زراعت کو غیر منفعت بخش بناتی ہے۔ زراعت میں یومیہ 80 روپیے اجرت دی جاتی ہے، مگر اس اسکیم سے زیادہ پیسے ملتے ہیں۔ اسی وجہ سے کئی نجی کھیت مالکوں کو اجرت زیادہ دینا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ رشوت کے بھی الزامات اس اسکیم کی عمل آوری میں لگے ہیں۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Ministry of Rural Development 2005، صفحہ۔ 1
  2. Nationwide review of rural job scheme NREGS ordered by government
  3. Ministry of Rural Development 2005، صفحہ۔ 10
  4. Ministry of Rural Development 2012، صفحہ۔ ix
  5. Economic Times, retrieved from http://articles.economictimes.indiatimes.com/2013-10-10/news/42902947_1_world-bank-world-development-report-safety-net
  6. Comptroller and Auditor General of India 2013، صفحہ۔ i
  7. Ministry of Rural Development 2005، صفحات۔ 1–2
  8. Dreze and Khera (2000), Battle for Employment Guarantee, retrieved from http://www.frontline.in/static/html/fl2601/stories/20090116260100400.htm
  9. Zimmermann (2012) , L. (2012). Labor market impacts of a large-scale public works program: evidence from the Indian Employment Guarantee Scheme. mimeo. Retrieved from ftp://ftp.iza.org/RePEc/Discussionpaper/dp6858.pdf
  10. Berg, E., Bhattacharyya, S., Durgam, R., & Ramachandra, M. (2012). Can Rural Public Works Affect Agricultural Wages? Evidence from India. CSAE Working Paper.
  11. Fetzer, T. (2013). Can Workfare Programs Moderate Violence? Evidence from India. mimeo, 1–42. Retrieved from http://www.trfetzer.com/wp-content/uploads/nrega.pdf