مجسمہ آزادی ایک بہت بڑا مجسمہ ہے جو امریکہ میں نیو یارک شہر کی بندرگاہ پر نصب ہے۔ یہ دنیا بھر میں امریکہ کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسے امریکہ کی آزادی کی 100 سالہ تقاریب کے موقع پر فرانس کی طرف سے فرانس-امریکہ دوستی کے اظہار کے طور پر تحفتاً امریکی عوام کو پیش کیا گیا۔

مجسمہ آزادی

تانبے کا بنا ہوا یہ مجسمہ 1886ء میں امریکا کے حوالے کیا گیا۔ یہ مجسمہ تمام امریکا آنے والوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے دریائے ہڈسن کے دہانے پر جزیرہ آزادی پر لگایا گیا ہے۔

اس کا ڈیزائن آئفل نے بنایا۔ یہ مجسمہ ایک عورت کا ہے جس نے ڈھیلا سا لباس پہنا ہوا ہے اس کے سر پر سات نوکوں والا تاج ہے جو سات سمندروں اور سات براعظموں کو ظاہر کرتا ہے۔ اپنے بائيں ہاتھ میں جسم کے ساتھ ایک تختی لگائی ہوئی ہے۔ اور دوسرے ہاتھ میں اونچا کر کے ایک جلتی ہوئی مشعل پکڑی ہوئی ہے۔ مجسمے کا ڈھانچا لوہے کا ہے اور اس پر تانبے کا مجسمہ ہے۔ مشعل سونے کے پترے کی ہے۔ مجسمہ 151 فٹ اور 1 انچ لمبا ہے۔ تختی کے اوپر چار جولائی 1776ء لکھا ہوا ہے جو امریکہ کی سلطنت برطانیہ سے آزادی کے اعلان کی تاریخ ہے۔

ایوان تصویر

ترمیم