مجموعہ کلام سے مراد تحریروں پہ مبنی ذخیرہ ہے اس سے زیادہ تر مراد شعراء کے کلام کا ذخیرہ لیا جاتا ہے جس میں شاعر اپنی مختلف تخلیقات کو ذخیرہ کر کے ایک کت اب کی شکل دیتا ہے۔ مجموعہ کلام کو کئی بار دیوان بھی کہا گیا ہے، جیسے کہ دیوان غالب۔ اسے کبھی کبھی کلیات کا نام بھی دیا گیا، جیسے کہ فیض احمد فیض کے مجموعہ کلام کو کلیات فیض کہا گیا ہے۔ انگریزی اور کچھ دیگر زبانوں میں مجموعہ کلام کی اصطلاح اپنے معانی اور مطالب میں کافی وسعت دی گئی ہے۔ اس میں انشائیوں، افسانوں، کہانیوں، خطوط اور ہر تحریری اور تخلیقی کام کو شامل کیا گیا ہے جو ادب سے متعلق ہو اور جسے سپرد قلم کیا جا سکتا ہے۔ اردو میں غالب کی اگرچیکہ زیادہ شہرت شاعری کی وجہ سے ہے، مگر غالب کے خطوط کو بھی اردو ادب میں خاص درجہ حاصل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں غالب کی زبان اپنے دور میں معیاری رہی ہے، وہ آج رواں اور زبان عام طور سے زبان زد مستعملات پر مشتمل ہے۔ اس زبان میں متروک الاستعمال محاورے اور ترکیبات شاذ و نادر ہی دیکھے گئے ہیں۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم