شاہ محمد اسحاق (1200ھ-1262ھ) شاہ ولی اللہ دہلوی کے نواسے اور شاہ عبد العزیز دہلوی کے بھانجے تھے۔ درس حدیث، اجازت و اسناد اور علوم دینیہ کی اشاعت میں شاہ عبد العزیز کے جانشیں ہوئے، شاہ عبد العزیز نے ان کو اپنا جانشین بنایا اور اپنی تمام کتابیں اور گھر وغیرہ ہبہ کر دیا، ان کے وفات کے بعد ان کی مسند درس پر بیٹھے اور 1239ھ سے لے کر 1258ھ تک دہلی میں اور 1258 سے 1262ھ تک حجازشریف میں حدیث کی تدریس و خدمت میں سرتا پا غر و منہمک رہے، ہندوستان کے صدہا علما نے ان سے حدیث کا درس لیا۔ دوشنبہ 27/رجب 1262ھ کو مکہ معظمہ میں وفات پائی۔[1]

محمد اسحاق دہلوی
معلومات شخصیت
پیدائش 4 نومبر 1783  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 20 جولا‎ئی 1846 (63 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت المعلیٰ  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص سید نذیر حسین دہلوی،  احمد علی سہارن پوری  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حوالہ جاتترميم

  1. ابو الحسن علی ندوی: تاریخ دعوت و عزیمت، حصہ پنجم، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ، صفحہ 379-380۔