محمد کاسب الرقاد ایک اردنی طبیب جو اردن کی شاہی میڈیکل سروسز[1] میں بریگیڈیر جنرل اور شعبہ کلینکی جینیات میں مشیر ہیں۔ وہ الرقاد سینڈروم کی دریافت کے لیے مشہور ہیں جو انہی کے نام پر ہے۔[2][3][4]

محمد الرقاد
الدكتور محمد الرقاد.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1967 (عمر 54–55 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Jordan.svg اردن  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ طبیب  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں الرقاد سینڈروم  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Mohammed Al-Raqad signature.jpg
 

اسنادترميم

  • ایم بی بی ایس۔ طب اور سرجری کی سند 9 جون 1991ء: اردن یونیوسٹی، اسکول آف میڈیسن، عمان، اردن[5]
  • کلینکی جینیات میں ڈاکٹریٹ کی سند 11 جنوری 2011ء۔ نیو کیسل اپون ٹائن یونیورسٹی، مملکت متحدہ
  • گلاسگو یونیورسٹی، مملکت متحدہ سے طبی جینیات میں ایم ایس سی 3 دسمبر 2014ء
  • جورڈنین بورڈ آف پیڈی ایٹرکس ستمبر 1997ء، جورڈنین میڈیکل کونسل نے جاری کیا۔
  • 1997ء میں مستقل طور پر پیڈی ایٹرکس (طب اطفال) پریکٹس کرنے اجازت نامہ ملا۔
  • 1992ء میں کلینک کھولنے کا مستقل اجازت نامہ ملا۔[6]

عہدے اور سماجی خدماتترميم

  • کنگ حسیں طبی مرکز کے ملکہ رانیا العبداللہ بچوں کے ہسپتال میں صلاحکار ہیں۔
  • رانیا ال عبد اللہ بچوں کے ہسپتال میں طبی جینیات کے شعبے کے سربراھ ہیں۔
  • 2011ء سے اردن یونیورسٹی آف سائنس اور ٹیکنالاجی میں لیکچرار کے طور پر خدمتیں سر انجام دے رہے ہیں۔
  • رملہ میں مئی سے جون 2002ء تک بچوں کے فیلڈ ہسپتال میں خدمتیں سر انجام دیں۔
  • غزہ پٹی میں اردنی فیلڈ ہسپتال میں اپریل سے جون 2013 تک ڈائریکٹر رہے۔
  • اردنی طبی ایسوسیئشں کے رکن ہیں
  • اردن میں بچوں کے ڈاکٹروں کی ایسوسیئشں کے رکن ہیں۔

اعزازاتترميم

  • سائنسی خدمتوں کے عوض عبداللہ دوم نے 10 جون 2015ء کو ملیٹری آرڈر آف میرٹ کے اعزاز سے نوازا۔
  • کوسووہ میں قائم بچوں کے ہسپتال میں 1999ء سے 2000ء تک خدمتیں سر انجام دینے پر نیٹو میڈل سے نوازا گیا۔

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم

  1. أحداث اليوم.
  2. صحيفة الغد الأردني.
  3. الجزيرة دوت نت آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ aljazeera.net [Error: unknown archive URL].
  4. صحيفة الرأي الأردنية.
  5. صحيفة سواليف.
  6. آية نيوز آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ ayanews.net [Error: unknown archive URL].