محمد جمال الدین ملتانی

خواجہ حافظ محمد جمال الدین ملتانی ملتان کے اکابر مشائخ میں شمار ہوتے ہیں۔

دربار خواجہ محمد جمال الدین ملتانی

ولادتترميم

حافظ محمد جمال الدین بن محمد یوسف ابن حافظ عبد الرشید تقریباً 1160ھ / 1747ء میں ملتان میں پیدا ہوئے۔[1]

نام و نسبترميم

ان کا نام محمد جمال الدین ہے اور آپ کے والد کا نام محمد یوسف اور آپ کے دادا کا نام حافظ عبد الرشید تھا۔ آپ کا اصلی وطن "آوان قار" تھا اور آپ کی ذات آوان (المشہور اعوان) تھی۔ آپ کے دادا "آوان قار" کے علاقے سے ہجرت کر کے ملتان آئے اور قلعہ کہنہ ملتان کی شرقی جانب قیام فرمایا۔

تعلیمترميم

آپ نے قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد علومِ دینیہ کی تحصیل کی طرف توجہ کی اور درجۂ کمال کو پہنچے، انتہائی ذہین اور ذکی الطبع تھے، چنانچہ آپ سے اگلی کلاس کے طلبہ کو بھی آپ سے مباحثہ کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔

القابترميم

شیخ المشائخ، غیاث العاشقین، سند الکاملین، محبّ اللہ بالکمال، خواجۂ خواجگان، مرجع الفضلاء و الاکابر، تاج الاصفیاء امام الاولیاء

بیعت و خلافتترميم

شیخ الاسلام و المسلمین شاہ رکن الدین و العالم سہروردی کے مزار پر حاضری دیتے اور ساری رات اعتکاف میں گزارتے، زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ شیخ الاسلام شاہ رکن عالم نے خواجہ نور محمد مہاوری کی شبیہِ مبارک خواب میں دکھاتے ہوئے فرمایا کہ: "یہ "نور محمد" ہیں اور مہار شریف میں قیام پزیر ہیں، اِن کی خدمت میں حاضری دو اور انہیں کے ہاتھ پر بیعت کرلو"۔

جونہی آپ نیند سے بیدار ہوئے فورا ً مہار شریف کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب آپ قبلۂ عالم کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے کچھ قدم آگے چل کر قبلۂ عالم کا استقبال فرمایا اور پوچھا آپ کہاں سے آئے ہیں؟ اور آپ کا وطن کہاں ہے؟ آپ نے عرض کی حضور! میرا وطن ملتان ہے اور میں آپ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہونے کی غرض سے آیا ہوں، چنانچہ حضور قبلۂ عالم نے آپ کو بیعت سے سرفراز فرمایا۔

حافظ صاحب سلاسل اربعہ میں مجاز تھے لیکن سلسلۂ عالیہ چشتیہ سے زیادہ انس رکھتے تھے اس لیے اکثر و بیشتر اسی سلسلہ میں مرید کیا کرتے تھے۔[2]

آپ کے خلفاء کے اسمائے گرامی

خلیفہ اول۔ حضرت مولانا خواجہ خدابخش رحمتہ اللہ علیہ

خلیفہ دوم۔ حضرت خواجہ مولوی عبدالرزاق رحمتہ اللہ علیہ

خلیفہ سوم۔ حاجی الحرمین شریفین حضرت خواجہ مولوی حامد اللہ رحمتہ اللہ علیہ

خلیفہ چہارم۔ حضرت خواجہ منشی غلام حسن شھید رحمتہ اللہ علیہ

خلیفہ پنجم۔ حضرت خواجہ قاضی محمد عیسی رحمتہ اللہ علیہ

خلیفہ ششم۔ حضرت خواجہ سید بلند شاہ رحمتہ اللہ علیہ

خلیفہ ہفتم۔ حضرت خواجہ سید زاہد شاہ رحمتہ اللہ علیہ

خلیفہ ہشتم۔ حضرت خواجہ مولانا حافظ عبدالعزیز پرہاڑوی رحمتہ اللہ علیہ

خلیفہ نہم۔ حضرت خواجہ محمد موسی صدیقی رحمتہ اللہ علیہ

خلیفہ دھم۔ حضرت خواجہ مولانا محمد بخشا رحمتہ اللہ علیہ

وفاتترميم

حافظ جمال الدین کا وصال 5 جمادی الاول 1226ھ بمطابق 1811ء میں ملتان میں ہوا، نمازِ جنازہ کی امامت آپ کے خلیفہ محبوب اللہ خواجہ محمد خدا بخش ملتانی خیر پوری نے فرمائی، اس کے بعد آپ کے حجرۂ خاص میں دفن کیا گیا۔[3][4]

حوالہ جاتترميم

  1. نور جمال، ڈاکٹر عبد الحق مہر، سرائیکی ادبی بورڈ ملتان ص 17۔
  2. گلزار جمالیہ، صفحہ 18 عبد العزیز پرہاروی۔
  3. "مخزنِ چشت" مطبوعہ چشتیہ اکیڈمی فیصل آباد
  4. تذکرہ اکابرِ اہل سنت، صفحہ 121، محمد عبد الحکیم شرف قادری، نوری کتب خانہ لاہور