محمد یوسف دہلوی (4 ستمبر، 1894ء تا 11 مارچ ،1977ء) خط نستعلیق کے معروف خطاط اور دہلوی طرز نستعلیق کے موجد تھے۔ محمد یوسف کی پیدائش دہلی میں ہوئی، لیکن تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ ان کا آبائی علاقہ جنڈیالہ ڈھاب والا نزد وزیر آباد ہے، ان کے والد منشی محمد الدین جنڈیالوی اپنے زمانے کے معروف خطاط تھے۔ انھوں نے 1932ء میں غلاف کعبہ کی خطاطی کی تھی۔

محمد یوسف دہلوی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1894 (عمر 126–127 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص عبدالمجید دہلوی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ خطاط  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

خطاطیترميم

یوسف دہلوی نے عہد شاہجہانی کے مشہور خطاط عبد الرشید دیلمی کے فن خطاطی کا دقت نظر سے مطالعہ کیا اور اپنی اجتہادی صلاحیتوں کو کام میں لاکر ایک نئی اور خوب صورت روش ایجاد کی، جسے دہلوی طرز نستعلیق کہا جاتا ہے۔ دہلی کی بہت سی عمارتوں میں یوسف کی خطاطی کے نمونے کندہ ہیں۔ انھوں نے خط نستعلیق میں جدید روش اختیار کرکے حروف کے قدیم پیمانوں میں خوبصورتی پیدا کی۔ ان کی اس طرز جدید کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان ہجرت کر گئے۔ پاکستان میں بھی انھوں نے بہت سے کا رہائے نمایاں انجام دیے اور خاصی مقبولیت حاصل کی۔[1]قیام پاکستان کے بعد انھوں نے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے اصرار اور ڈاکٹر ذاکر حسین کی کوششوں سے پاکستان کے کرنسی نوٹوں پر خطاطی کی اور پاکستان کے سکوں پر حکومت پاکستان کے خوب صورت طغریٰ کی تخلیق اور خطاطی کا کام سر انجام دیا۔ ریڈیو پاکستان کے مونوگرام پر قرآنی آیت قُولُوا للناس حُسناً کی خطاطی بھی ان کا کام ہے۔[2]

وفاتترميم

محمد یوسف دہلوی نے کراچی میں ایک ٹریفک حادثے میں 11مارچ1977ء کو بعمر 83برس وفات پائی،

حوالہ جاتترميم