مرزا محمود سرحدی (1913ء-1967ء) اردو شاعر تھے۔ محمود سرحدی کا اصل نام عبد الطیف تھا۔ اان کی پیدائش مردان کے ایک متوسط گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی طور فوج میں ملازمت کی، پھر جب فوج کی ملازمت چھوڑی تو شعبہ تعلیم سے منسلک ہوئے اور گورنمنٹ ہائی اسکول پشاور میں تدریس کے فرائض سر انجام دیے۔ اس کے بعد وہ علامہ مشرقی اسکول پشاور گئے اور کچھ عرصے بعد وہاں ہیڈماسٹر مقرر ہوئے۔ اسکول میں طالب علمی کے زمانے سے ہی اردو اشعار لکھا کرتے تھے۔ اردو شاعری میں محمود سرحدی اردو طنزیہ اور مزاح میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ محمود اپنے ارد گرد کے صورت حال کی مضحک تصویر نہایت مہارت کے ساتھ نمایا کرتے جن میں طنزیہ عنصر گہرا پایا جاتا ہے۔

محمود سرحدی
معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1913  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مردان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 نومبر 1968 (55 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پشاور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نمونہ کلامترميم

محمود سرحدی کی زیادہ تر شاعر ارد گرد کے ماحول کو درپیش مسائل پر مبنی تھی، وہ ان مسائل کو طنزیہ انداز میں بھی بیان کرتے تھے اور مزاحیہ میں بھی۔ ان کے چند اشعار یہ ہیں:

کبھی تو ان کی حسینوں سے شکل ملتی ہے
کبھی پناه گزینوں سے شکل ملتی ہے
خدا کی شان ہے، وه ہیں مرے وطن کے جواں
کہ جن کی پرده نشینوں سے شکل ملتی ہے

کالے چشمے بھی ایک نعمت ہے
دھوپ میں خوب کام دیتے ہیں
جو نگاہیں ملا نہیں سکتے
رات دن ان سے کام لیتے ہیں

محتسب سے کہوں تو کیا جا کر
میری مانند وه بھی روتا ہے
پہلے ہوتا تھا دودھ میں پانی
آج پانی میں دودھ ہوتا ہے

مزید دیکھیےترميم