دنیاکے تمام مذاہب میں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ نظریاتی یا علاقائی اختلافات کے باعث فرقے بن جاتے ہیں۔ مذاہب عالم میں فرقوں کچھ اس طرح سے ہیں۔

مسیحیتترميم

مسیحیت کے فرقہ کچھ اس طرح سے ہیں۔

اسلامترميم

  • اباضیہ
  • خارجیہ۔ ان کا بیج اسی دن پڑ گیا تھا جب لاکھوں لوگوں نے اسلام قبول کرلیا لیکن صحابہ کرام کی طرح ان کی تربیت نہ ہوسکی۔ چنانچہ وہ شدت پسندی کا شکار ہوگئے اور جب حکومت انتہائی یوٹوپیائی اسلامی معیار پر پوری نہ اتری تو بغاوت اور قتل و غارت پر اتر آئے۔ سیدّنا عثمان رضی اللٰہ عنہ کے دور میں بغاوت کرنے والے لوگ بھی بنیادی طور پر یہی تھے، اگرچہ ان کو نام اور شناخت سیدّنا علی رضی اللٰہ عنہ کے لشکر سے خارج ہونے پر ملی۔
  • امامیہ۔ یہ بھی ملوکیت کی ناانصافیوں اور گناہوں کے ردعمل میں ابھرے لیکن ان میں اور خارجیہ میں بنیادی فرق یہ تھا کہ خارجی سیدّنا علی رضی اللٰہ عنہ سے سرکشی کرگئے اور یہ بظاہر ان سے وابستہ رہے بلکہ انتہاء پسندی کا شکار ہوکر ان کو خدا کی طرف سے مامور امام اور انبیاء کی طرح معصوم عن الخطاء قرار دے دیا۔
  • مرجیہ۔ یہ وہ لوگ تھے جو پہلے فتنے (شہادتِ عثمان سے صلح حسن و معاویہ) اور دوسرے فتنے (شہادتِ حسین سے شہادتِ عبداللٰہ بن زبیر تک) کے خون خرابے سے اس قدر بددل ہوئے کہ تقدیر کے عقیدے میں انتہاء پسندی کا شکار ہوگئے اور بنوامیہ کے ظلم کو خدا کی رضا اور اپنی تقدیر قرار دے کر برداشت کرنے اور خارجیہ یا امامیہ یا راسخ العقیدہ اہلسنت کی طرح سیاسی و سماجی حالات کی ابتری پر بے چین ہوکر اقدامات اٹھانے سے منع کرنے لگے۔
  • معتزلہ ۔ مرجئہ کے برعکس دوسری انتہاء پر نکل گئے اور تقدیر کا تقریباً مکمل انکار ہی کر بیٹھے اور یہیں سے ان کا ہر شئے پر سوال کرنے کا رویہ پیدا ہوا جس سے ان کی ٹریڈ مارک عقل پرستی نے جنم لیا۔ خارجیہ کی طرح متشدد عسکری یا امامیہ کی طرح انڈرگراؤنڈ سیاسی شکل اختیار کرنے کی بجائے معتزلہ علمی مکتب فکر اور فلسفیانہ تحریک کی شکل اختیار کرگئے۔

دیگرترميم

یہودیتترميم

یہودیت کے فرقے اس طرح سے ہیں۔

دیگرترميم

مزید دیکھیےترميم