مساکیت یا ایذا پرستی (انگریزی: Masochism) ایک نفسیاتی مرض ہے۔

وضاحتترميم

مساکیت ایک نفسیاتی مرض ہے جس کا مریض اپنے آپ کو یعنی خود کو ہی ایذا یا تکلیف دے کر آسودگی محسوس کرتا ہے۔ ماہرین نفسیات کا دعویٰ ہے کہ اِس کجروی کی جڑیں ایسے مریض کی جنسی زندگی میں موجود ہوتی ہیں ۔ بعض مریض جنسی آسودگی سے اُس وقت تک ہمکنار نہیں ہوتے جب تک کہ وہ خود جسمانی اذیت سے دوچار نہ ہوجائیں۔ جنسی نفسیات کے محدود معنوں میں یہی کجروی مساکیت کہلاتی ہے۔ اردو ادب میں غزل کے پیرائیے میں عاشق کا جو روایتی کردار ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے، وہ بھی کسی نہ کسی حد تک ذرا وسیع معنوں میں ملکیت کے نفسیاتی رجحان کا حامل ہے۔[1]

حوالہ جاتترميم

  1. ابوالاعجاز حفیظ صدیقی: کشاف تنقیدی اصطلاحات، صفحہ 172، مطبوعہ مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، 1985ء