مستانی مراٹھا سلطنت کے پیشوا باجیراؤ اول کی محبوبہ تھی۔ باجی راؤ نے اسے اپنی دوسری بیوی کا درجہ دیا تھا۔ مستانی بہت ہی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ گھڑ سوار، تلوار باز، جنگی پالیسیوں سے واقف، مذہبی مطالعہ اور شاعری سے دلچسپی رکھنے والی، رقاصہ اور گلوکارہ تھیں۔

مستانی
An artist's impression of Mastani
An artist's impression of Mastani
مستانی سے منسوب پینٹنگ

معلومات شخصیت
پیدائش 29 اگست 1699ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بندیل کھنڈ
وفات 1740ء
پابل، پونہ
شریک حیات باجیراؤ اول
اولاد شمشیر بہادر اول
والد راجہ چھترسال   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ارستقراطی   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مستانی باجی راؤ اول کی دوسری بیوی تھی۔ وہ مسلمان تھی اور بندیل کھنڈ سے تعلق رکھتی تھی۔ مستانی کو بندیل کھنڈ کے راجہ چھترسال کی بیٹی بھی سمجھا جاتا ہے، جبکہ بعض مورخین اس کو چھترسال کی ریاست کی ایک رقاصہ لکھتے ہیں۔ باجی راؤ اول کو محض 20 سال کی عمر میں مراٹھا سلطنت کا پیشوا مقرر کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور آنے والے 20 برسوں میں تقریبا 41 سے زیادہ جنگیں لڑیں اور فتح کا پرچم لیے آگے بڑھتا رہا۔

دسمبر 1728ء میں الہ آباد کے مغل سپہ سالار محمد خان بنگش نے بندیل کھنڈ پر حملہ کیا۔ راجا چھترسال نے مدد مانگنے کے لیے باجی راؤ اول کو ایک خط لکھا۔ خط ملنے کے فورا بعد باجی راؤ اپنی فوج کے ساتھ راجا چھترسال کی مدد کے لیے روانہ ہو گیا۔ بنگش کو جنگ میں شکست ہوئی اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔ جنگ میں باجی راؤ کی دی گئی امداد سے چھترسال باجی راؤ کے بہت شکر گزار تھے اور اسے اپنے بیٹے کے طور پر ماننے لگے تھے۔ چھترسال نے اپنی بیٹی مستانی اور باجی راؤ کی شادی کی تجویز بھی باجی راؤ کے سامنے رکھی۔

مستانی سے باجی راؤ کے یہاں ایک بیٹا بھی ہوا۔ مقامی برہمن برادری اور ہندوؤں نے مستانی کے بیٹے کو پوری طرح سے برہمن ماننے سے انکار کر دیا، کیونکہ مستانی مسلمان تھی۔ اس برادری نے باجی راؤ اور مستانی کی شادی کو بھی ماننے سے انکار کر دی۔ باجی راؤ اول کی پہلی بیوی کا نام کاشی بائی تھا۔ باجی راؤ سے شادی کے بعد کاشی بائی مراٹھا سلطنت کی ملکہ بن گئی۔ کچھ وقت بعد کاشی بائی اور مستانی نے اپنے اپنے بیٹوں کو جنم دیا، لیکن کاشی بائی کے بیٹے کی موت کم عمر میں ہو گئی۔ کاشی بائی اپنے بیٹے کے کھونے کا ماتم منا رہی تھی جبکہ مستانی کا دبدبہ بڑھتا جا رہا تھا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ کاشی بائی کو مستانی کے بیٹے سے حسد تھا۔ باجی راؤ کے خاندان کی مستانی کے ساتھ بدسلوکی کی وجہ سے باجی راؤ نے مستانی کے لیے 1734ء میں كوتھرڈ میں ایک مختلف محل کی تعمیر کرائی۔ یہ مقام آج بھی كروے روڈ پر، مرتین جے مندر کے نزدیک واقع ہے۔[1]

28 اپریل، 1740ء کو باجی راؤ کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی۔ باجی راؤ کے انتقال کے کچھ دنوں بعد مستانی کی بھی موت ہو گئی۔ روایتوں کے مطابق باجی راؤ اول کی موت کی خبر سنتے ہی مستانی نے اپنی انگوٹی میں رکھا زہر پی کر خود کشی کر لی۔[2]

حوالہ جات

ترمیم
  1. "THE MASTANI MYSTERY By MITALI PAREKH, Ahmedabad Mirror, 13 September 2015"۔ 05 اگست 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 اکتوبر 2016 
  2. Jaswant Lal Mehta (1 January 2005)۔ Advanced Study in the History of Modern India 1707-1813۔ Sterling Publishers Pvt. Ltd۔ صفحہ: 125۔ ISBN 978-1-932705-54-6۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 اکتوبر 2016