اسلوب نامہ
گنجینہ ہدایات


مضامین کے قطعے
مضامین کو قابل مطالعہ بنائیں


تصویریں اور حوالے
مواد کو مزین کریں


ربط کاری
دائرۃ المعارف کو باہم مربوط کریں


اسلوب نگارش
دلکش اسلوب نگارش کا خیال رکھیں


خلاصہ
سابقہ ہدایات پر طائرانہ نظر ڈالیں





ایک مضمون کا عکس جس میں دیباچہ، تصویر، فہرست مندرجات، متعدد سرخیاں، حوالہ جات، بیرونی روابط اور زمرے نظر آرہے ہیں۔


مضمون کو سادہ اور آسان اسلوب میں لکھنا شروع کریں، موضوع کی اہمیت کو اجاگر کریں، ہلکے پھلکے لیکن طاقت ور اسلوب میں متعلقہ معلومات کا ایک جائزہ لیں۔ پھر بتدریج موضوع کو پھیلائیں، بال و پر نکالیں اور معلومات کو باحوالہ اور تفصیل سے پیش کریں، اِطنابِ مُمِل (اکتا دینے والی تفصیل) اور اِیجازِ مُخِل (خلل انداز اختصار) سے گریز کرتے ہوئے موضوع کے تمام اطراف کا احاطہ کریں اور ساتھ ہی مضمون کے مندرجات کو منطقی، مختصر اور جامع سرخیوں میں تقسیم کریں۔

دیباچہ

کسی مضمون کا دیباچہ اس کا پہلا حصہ ہے جو فہرست مندرجات اور سرخیوں کے اوپر موجود ہوتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ دیباچہ کا پہلا جملہ موضوع کے مختصر ترین تعارف اور اس کی اہمیت پر مشتمل ہو۔ جبکہ دیباچہ کے بقیہ جملے مضمون کے سیاق و سباق پر مشتمل اور اس کے کلیدی نکات کا احاطہ کرے۔


مضمون کا دیباچہ کم از کم ایک اور زیادہ سے زیادہ چار پیراگراف پر مشتمل ہو اور مندرجات کچھ اس انداز میں ترتیب دیے جائیں کہ قارئین کے سامنے مکمل مضمون کا جامع خاکہ آ جائے۔ دیباچہ میں مضمون اور اس کے موضوع کی اہمیت پر زور ہو، حوالے رکھیں اور حسن انشا کا یہ عالم ہو کہ قاری مکمل مضمون پڑھنے پر مجبور ہو جائے۔

قطعات اور سرخیاں

مضمون کے مندرجات مختلف قطعوں اور ذیلی قطعوں میں منقسم ہوں اور ہر قطعہ کو ایک مختصر سرخی سے مزین کیا جائے۔ قطعات کی یہ تمام سرخیاں فہرست مندرجات میں نظر آتی ہیں۔ قطعات یا ذیلی قطعات زیادہ طویل نہ ہوں، بہتر ہوگا کہ انہیں بھی چار پیراگراف تک محدود رکھا جائے۔


اردو میں سرخیوں کا مخصوص اسلوب ہے۔ ان میں عموماً فعل یا جملہ فعلیہ استعمال نہیں ہوتے بلکہ مصدری جملوں کا عام رواج ہے، مثلاً "زید آتا/آرہا ہے" کی بجائے "زید کی آمد"۔ چنانچہ سرخیاں لگانے میں اردو کے اس مزاج کا مکمل لحاظ رکھا جائے۔


ویکیپیڈیا کے مضامین میں سرخیوں کے مختلف درجات ہوتے ہیں۔ درجہ اول کی سرخی مضمون کا عنوان کہلاتی ہے جبکہ مضمون کے اندر نظر آنے والی سرخیاں درجہ دوم سے شروع ہو کر حسب ضرورت درجہ ششم تک جاتی ہیں۔ مضمون کی پہلی (یعنی درجہ دوم کی) سرخی آگے پیچھے دو برابر کی علامتوں پر مشتمل ہوتی ہے (== سرخی 2 ==)، بعد ازاں اس کی ذیلی سرخی برابر کی تین علامتیں (=== سرخی 3 ===) رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔ اسی طرح آپ حسب ضرورت چھٹے درجہ تک ذیلی سرخیاں بنا سکتے ہیں۔ اس امر کا خیال رکھیں کہ مضمون کی سرخیوں اور ذیلی سرخیوں کے مندرجات باہم مربوط ہوں اور ان میں تسلسل قائم رہے۔