معاہدۂ ورسائے (انگریزی: Treaty of Versailles) پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر طے پانے والے معاہدوں میں سے ایک تھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں جرمنی اور اتحادی قوتوں کے درمیان جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔ اس معاہدے پر 28 جون 1919ء کو آرک ڈیوک فرانز فرڈیننڈ کے قتل کے عین پانچ سال بعد دستخط کیے گئے۔ جنگ میں جرمنی کی حلیف دیگر ریاستوں کے ساتھ الگ معاہدے طے پائے۔ حالانکہ 11 نومبر 1918ء کو جنگ بندی کے بعد لڑائی کا خاتمہ ہو گیا تھا لیکن معاہدۂ امن کو حتمی شکل دینے کے لیے پیرس امن اجلاس میں چھ ماہ تک گفت و شنید ہوئی۔

معاہدے کے انگریزی نسخے کا سرورق
The Signing of the Peace Treaty of Versailles

معاہدے کی اہم، مگر متنازع شرائط میں، جرمنی کا جنگ کے آغاز کی مکمل ذمہ داری قبول کرنا، غیر مسلح ہونا، کئی علاقوں سے دستبردار ہونا اور متعدد ممالک کو تاوانِ جنگ ادا کرنا شامل ہے۔ اس زر تلافی کی کل رقم 1921ء میں 132 ارب مارک (31.5 ارب ڈالر یا 6.6 ارب پاؤنڈ) تھی۔

تاہم اس معاہدے کی کئی شرائط پر عمل نہیں ہوا جن میں اہم جرمنی کا غیر مسلح اور صلح پر رضامند نہ ہونا تھا اور نہ ہی وہ اس معاہدے کے نتیجے میں کمزور پڑا۔ یہی وجہ دوسری جنگ عظیم کے آغاز کی وجوہات میں سے ایک تھی۔

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ لائیڈ جارج، فرانس کے صدر جارج کلیمانسو اور امریکا کے صدر ووڈرو ولسن تھے۔ اطالیہ کے وزیر اعظم وتوریو اورلاندو نے بھی مذاکرات میں اپنا کردار ادا کیا۔

جرمنی نے 28 جون 1919ء کو معاہدے پر دستخط پر رضامندی ظاہر کی اور 10 جنوری 1920ء کو جمعیت اقوام نے اس معاہدے کی منظوری دی۔

اس ذلت آمیز معاہدے پر دستخط کے نتیجے ہی میں 1933ء میں جرمنی کی ویمار جمہوریہ کا خاتمہ ہوا کیونکہ جرمن عوام نے جنگ کی ذمہ داری تن تنہا اٹھانے اور معاہدے کی دیگر متنازع شقوں کو قبول نہیں کیا تھا۔
اس معاہدے کے تحت جرمنی کو اپنے 13 فیصد علاقے، 12 فیصد آبادی، 48 فیصد لوہے کی کانوں اور دس فیصد کوئلے کی کانوں سے دستبردار ہونا پڑا۔ تاوان جنگ کی رقم (132 ارب سونے کے مارک) اس کے علاوہ تھی۔ جرمنی کی فوج کم کر کے ایک لاکھ افراد پر مشتمل کر دی گئی۔ اس کی نیوی میں صرف 36 جہاز رہ گئے۔ آبدوز رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ فضائیہ بھی سرے سے ختم کر دی گئی۔ جرمنی کے 8000 ریلوے انجن اور دو لاکھ پچیس ہزار بوگیاں بھی چھین لی گئیں۔[1]

متعلقہ مضامین

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم