ملا حامد جونپوری فتاویٰ عالمگیری کی مجلس مؤلفین کے حصہ دار تھے
ان کے والد شیخ عبد الرحیم جونپوری جو بہت ہی صاحب علم و فضل تھے ملا حامد جونپوری عین عالم شباب میں وطن سے دہلی آگئے جہاں ملا شفیعائے یزدی اور مرزا زاہد ہروی جیسے باکمال لوگوں سے تعلیم حاصل کی شاہجہاں کے زمانے میں شاہی روزینہ داروں میں داخل ہوئے اور منصب سے سرفراز ہوئےاورنگزیب کے عہد میں مغل شہزادہ کے معلم مقرر ہوئے۔ ان کا علمی یادگار حاشیہ تفسیر بیضاوی ہے ۔

زندگی کے آخری سالوں میں جونپور میں ہی رہے اور جونپور میں وفات پائی اور اپنی تعمیر کردہ مسجد کے صحن میں مدفون ہوئے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے والد شاہ عبد الرحیم تالیف فتاویٰ میں ان کے مددگار تھے[1]

حوالہ جاتترميم

  1. اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 15 صفحہ 148 دانش گاہ پنجاب لاہور