مُلا نصرالدین : (Nasreddin) ( عربی : جحا)

ملا نصرالدین۔

, البینین زبان میں نسترادین ہوکزا یا نصترادینی، ازیری زبان میں ملا نصردین، بوسنیہ زبان میں نصردین ہودزا، ازبک زبان میں نصردین آفندی یا صرف آفندی،قزاقی زبان میں حوزانصیر، ایگھر زبان میں ناصردین آفنتی [1][2][3] ) کے نام سے مشہور ہیں۔ ملا نصرالدین ایک صوفی بزرگ تھے۔ ان کا دور 13ویں سنہ عیسوی تھا۔ عہد وسطی کے سلجک دور میں، یہ شہر اکسیہیر اور قونیہ میں زندگہ بسر کی۔ ان کے القاب ملا، آفندی، حوجا وغیرہ تھے۔[4] بہت سارے ممالک مثلاَ افغانستان، ترکی،[4][5]،[6][7] ایران[4] ازبک [8])، کا یہ دعویٰ رہا کہ ملا ان کے ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔[7] . یہ اپنے مزاحیہ مزاج کے لیے مشہور تھے۔

یونیسکو نے 1996-1997 سال کو ملا نصرالدین کا سال اعلان کیا۔

ملا کے دیگر نام

ترمیم

نصرالدین کا نام مختلف تلفظات کے ساتھ استعمال میں دیکھا گیا ہے۔ نصردین، نصرالدین، نصریرالدین، نصرتین، نصرتن، وغیرہ۔ ان کا نام ان القاب کے ساتھ ساتھ ملتاہے، حوگزا، حودجا، حوجا، حودشا، حودزا، حوکا، حوگیا، وغیرہ عرب ممالک میں، جحا، ضوحا، غیوفا، گوہا، آفندی، ملاہ، ملا، مولانا، ایفندی، وغیرہ ناموں سے بھی پہچانے چاتے ہیں۔

سواہلی تۃذیب میں مانا جاتا ہے کہ ملا کو ابونواسی کے نام سے بھی جانا جاتاہے۔ لیکن ابہام یہ ہے کہ آیا یہ نام ملا سے تعلق رکھتا ہے یا چینی جدید شاعر ابونواس سے ۔

وسط ایشیا میں عام طور پر آفندی کے نام سے مشہور ہیں۔

نصرالدین کا نسب اور کہاوتیں

ترمیم

نصرالدین اناطولیہ میں زندگی بسر کی، 13ویں عیسوی میں، اسکسہر کے سوریہسار گاؤں میں پیدا ہوئے۔ اکسہر کو قیام گاہ بنا لیا۔ ان کی وفات جون 1275ء یا جون 1285ء کو ہوئی۔[8][9]

جیسے دور گذرتے گئے، نئی کہانیوں ک اندراج ہوتا گیا اور چند کہانیوں میں ردوبدل پیش آئے۔ یہ کہانیاں، دنیا کے کئی خطوں میں داخل ہوئیں۔ ان کہانیوں کا مرکزی خیال، علاقائی کہاوتوں، روایتوں، محاوروں میں مروج ہوتا گیا۔ ان کی کہانیاں مختلف تہذیبوں کا ایک حصہ بن گئیں۔ ملا نصرالدین کی کہانیوں کا سب سے قدیم مسودہ 1571ء میں دستیاب ہوا۔ آج کلا ملا کے لطیفے دنیا کے مختلف علاقوں میں عام ہیں اور بہت ساری زبانوں میں ترامیم ہوئی ہیں۔ ملا، اسلامی تہذیب یا مسلمانوں کی تہذیب کا ایک حصہ مانے جاتے ہیں اور ان کے قصے مسلمانی علاقوں کے ادبی گوشہ کا ایک حصہ بن چکی ہیں۔ صرف اسلامی تہذیب ہی نہیں بلکہ دیگر تہاذیب کے ادب میں بھی ان کے لطیفے، لطیفے، کہانیاں اور محاوروں کی شکل میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ان کے لطیفے عام انسان کی روزمرہ زندگی سے اچھا خاصہ رابطہ رکھنے کی وجہ سے مشہور ہوئے۔[10] ملا کا نام ایک اہم کردار کے روپ میں، البینین، ازیری، بنگالی، بوسنین، بلغاریہ، یونان، ہندی، اطالوی، پشتو، ایرانی، رومانی، سربی، ترکی، اردو دہقانی، وگنیٹی تہذیبوں میں مشہور ہے۔ اور گریک تہذیب میں بھی کافی مشہور ہے۔ چین میں ملا کے نام سے کے ی کارٹون، کارٹون فلمیں، فلمیں اور ناول وغیرہ عام ہیں۔ شہر اکسہیر میں ہر سال جولائی 5-10 تواریخ کو “بین الاقوامی نصرالدین حجا جلسہ“ منایا جاتا ہے۔[11]

نصرالدین کے قصے

ترمیم

ملا نصرالدین کی کہانیاں، وسط مشرق اور دیگر ممالک میں کافی مشہور ہیں۔ ان کی کہانیاں کہانیوں، لطیفوں کے روپ میں کافی دلچسپی سے استعمال کی جاتی ہیں۔ یوں کہا جائے کہ حکایتوں اور اخلاقی محاوروں کی شکل میں بھی ان کے لطیفے عام ہیں۔ خودی کا شعور، فلسفہ، منطق اور معارفت سے بھرے ان کے لطیفے ادب کا ایک حصہ بنے ہوئے ہیں۔[12]

لطیفوں میں خیال تصوف

ترمیم

ملا کے لطیفوں اور کہانیوں سے یہ ظاہر ہوتاہے یہ ملا بذریعہ مزاح، طنز اور سنجیدگی پیدا کردیتے تھے۔ اور ان کے لطیفوں کی شہرت کا سہرا ان باغی خیالات کی طرف جاتاہے جو ہم عثری سلاطین کے خلاف تھے۔ یعنی ملا اس دور کے سلاطین اور ان کی پالیسیوں کے خلاف تھے۔ جن کو عوام خوب پسند کرتے تھے۔ ملا کے خیالات زمانے کی اکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے لطیفہ گوئی میں منطق، سیاسی رجحان اور مثبت رویہ نظر آتاہے۔ ان کے لطیفوں میں حکایات کی کثرت پائی جاتی ہے۔ اور ان حکایات میں صوفیانہ مزاج پایا جاتاہے۔ اسی نکتئہ نظر سے مشہور صوفی مصنف ملا کی کئی تصانیف کو یکجا کیا اور کئی متراجم بھی کیے۔

یورپ میں روایاتی کہانیوں اور ادب میں نصرالدین

ترمیم

عثمانیہ سلطنت کے کئی ممالک جسیے بلغاریہ، مقدونیہ اور سسلی میں بھی ملا نصرالدین جانے پہچانے جاتے ہیں۔ چند لوگوں کا خیال ہے کہ ملک سسلی میں ملا کو منفی نظریہ سے دیکھا جاتا ہے۔

ملا کے لطیفوں سے ان کی کردار نویسی کرتے ہوئے کئی کہانیاں اور ناول لکھے گئے۔ ایک اینی میشن فلم چور اور موچی|The Thief and the Cobbler بھی بنائی گئی۔

روس میں لیونید سولوویف کی ناول"Tale of Hodja Nasreddin" (English translation "The Beggar in the Harem: Impudent Adventures in Old Bukhara") کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔

ازبک نصرالدین آفندی

ترمیم

ازبک باشندوں کے لیے ملا نصرالدین ایک عام شخصیت ہیں۔ ان کی روز مرہ زندگی میں ملا کا کذکرہ عام ہے۔ ملا کی کہانیاں لطیفوں کے نام سے مشہور ہیں۔ بالخصوص آفندی لطیفوں کے نام سے مشہور ہیں ملا نصرالدین کی کہانیوں کی کتب دو دستیاب ہیں۔

  • آفنداننگ قرق بر پساہسی، تاشقند - (ملا کی 41 کہانیاں) - ظہیر عالم۔
  • آفندیننگ بیش زوتینی ( آفندی کی پانچ بیویاں )
  • نصرالدین بخسورودا (بخارا میں نصرالدین) نامی فلم، ازبکستان کے یس۔ یس۔ آر۔ نے بنوائی۔

مختصر لطیفے

ترمیم

خطبہ

ترمیم

ایک مرتبہ ملا نصرالدین کو خطبہ دینے کی دعوت دی گئی۔ مگر ملا اس خطبہ کے لیے دل سے راضی نہیں تھے۔ خیر، ممبر پہ کھڑے ہوکر ملا نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے پوچھا ‘‘ کیا آپ جانتے ہیں کہ میں اپنے خطبہ میں کیا کہنے والا ہوں؟‘‘ لوگوں نے جواب دیا ‘‘نہیں‘‘۔ ملا نے کہا ‘‘میں ان لوگوں سے خطاب کرنا نہیں چاہتا، جو یہ تک نہیں جانتے کہ میں کیا کہنے والا ہوں‘‘، یہ کہتے ہوئے ملا وہاں سے رخصت ہو گئے۔

لوگ تعجب میں پڑ گئے، دوسرے ہفتہ پھر ملا کو خطبہ کے لیے طلب کیا گیا۔ اس مرتبہ ملا منبر پر کھڑے ہوکر پھر یہی سوال کیا، تو لوگوں جواب میں ‘‘ہاں‘‘ کہا۔ نصرالدین نے کہا ‘‘اچھا، تو آپ جانتے ہیں کہ میں کیا کہنے والا ہوں، تو میں میرا قیمتی وقت برباد کرنا نہیں چاہتا‘‘ اور پھر نکل پڑے۔

اس بار لوگ تذبذب میں پڑ گئے اور فیصلہ کیا کہ ملا کے پھرسے خطبہ کے لیے مدعوکیا جائے۔ تیسرے ہفتے ملا پھر تشریف لائے، حذب مطابق وہی سوال پوچھا۔ اس بار لوگ تیار تھے کہ جواب میں کیا کہناہے، نصف لوگوں نے کہا ‘‘ہاں‘‘ تو بقیہ لوگوں نے ‘‘نہیں‘‘ کہا ‘‘وہ لوگ جو یہ جانتے ہیں کہ میں کیا کہنے والا ہوں، بقیہ لوگوں کو بتادیں‘‘ یہ کہہ کر لوٹ گئے۔

دریا کے دو کنارے

ترمیم

نصرالدین ایک ندی کے ایک کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ دوسرے کنارے پر کھڑے ایک شخص نے زور سے ملا سے پوچھا، مجھے اُس کنارے پر آنا ہے، کیا کروں؟

- تو ملا نے جواب دیا "تم کو اس کنارے پر آنے کے لیے اُس کنارے پر رہنا ہوگا ! "

آپ کس پہ یقین رکھتے ہیں؟

ترمیم
ایک مرتبہ ملا اپنے گھر کے آنگن میں بیٹھے تھے، ان کے ایک دوست نے ان آکر پوچھا کہ، ملا مجھے ضروری کام سے پاس کے گاؤں جانا ہے اور کچھ سامان لے جانا ہے، براہ کرم، آپ کا گدھا دیں گے تو، میں اسے لے جاؤں گا اور شام تک لوٹا دوں گا۔

ملا چوں کہ دوست کو گدھا دینا نہیں چاہتے تھے، ٹالنے کے خیال سے یہ کہہ دیا کہ، گدھا کوئی اور لے گیا ہے۔ اتنے میں سحن سے، گدھے کے چیخ سنائی دی۔ دوست نے کہا کہ، ملا گدھا تو یہیں پر موجود ہے! تو ملا نے جواب میں پوچھا کہ، ایں کہ آپ مجھ پر یقین کریں گے کہ گدھے پہ؟

ذائقہ ایک ہی ہے

ترمیم

ایک مرتبہ ملا اپنے گدھے پر انگور سے بھری دو ٹوکریوں کو لادے، انگور کے باغ سے آ رہے تھے۔ چند بچے ملا کے اطراف گھیر لیے اور انگور مانگنے لگے۔ ملا تھوڑے انگور نکالے اور بچوں میں تقسیم کیے۔ بچوں نے ملا سے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ‘ آپ کے پاس ڈھیر سارے انگور ہیں، مگر ہمیں تھوڑے ہی دئے!‘ تو ملا نے جواب دیا، ‘ بچو انگور جتنے بھی ہوں مزہ تو ایک ہی جیسا ہوتا ہے!‘[13]

اسٹیج پر خطاب

ترمیم

ایک مرتبہ ملانصرالدین ایک محفل میں پکڑ لیے گئے اور ان سے کہا گیا کہ کچھ نصیحت فرمائیں،ملا نصیرالدین اسٹیچ پر آئے اور سامعین سے پوچھا:جو کچھ میں کہنے جا رہاہوں کیاآپ لوگوں کومعلوم ہے؟

لوگوں نے کہا :نہیں
ملانے کہاکہ آپ کوبتانے سے کیا فائدہ جب آپ جانتے ہی نہیں۔
کچھ عرصے بعد پھر ایک محفل میں ملا پکڑے گئے پھر ان سے نصیحت کرنے کی التجا کی گئی۔ اسٹیچ پر آکر وہی پراناسوال دہرایا۔
لوگوں نے سوچاکہ پچھلی بار نہ جاننے کی وجہ سے نصیحت سے محروم رہ گئے تھے اس لیے سب نے بیک زبان جواب دیا:ہاں۔
ملا نے جواب دیا: جب آپ لوگوں کومعلوم ہے کہ میں کیاکہنے والاہوں تو پھر بتانے سے کیافائدہ۔
تیسری بار ملا شومئی قسمت پھر پکڑ میں آ گئے اور انھیں نصیحت کرنے کوکہاگیا۔
ملانے پھر اپناسوال دہرایا۔
عقلمندی دکھاتے ہوئے سامعین کے آدھے لوگوں نے انکار میں اور آدھے لوگوں نے اقرار میں جواب دیا۔
ملا نے کہا:جن لوگوں کومعلوم ہے کہ میں کیاکہنے والاہوں وہ ان لوگوں کو بتادیں جو نہیں جانتے۔
اور یہ کہہ کر اسٹیچ پر سے اتر گئے۔

حضرت نے اپنے بیٹے کو گھڑا دیا‘ پانی لانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی زوردار تھپڑ مار کر کہا ’’خبردار گھڑا ٹوٹنا نہیں چاہیے‘‘ بیٹا روتا روتا گھڑا اٹھا کر چلا گیا‘ دیکھنے والے نے کہا ’’حضرت بیٹے نے گھڑا نہیں توڑا لیکن آپ نے اسے سزا دے دی‘ یہ کیا منطق ہے‘‘ وہ مسکرا کر بولے ’’یہ اگر گھڑا توڑ دے گا تو مجھے اسے تھپڑ مارنے کا کیا فائدہ ہو گا‘ میرا نقصان تو ہو چکا ہو گا‘‘ سننے والے مسکرانے پر مجبور ہو گئے۔

کتابیات

ترمیم
  • ملا نصرالدین کی کہانیاں (* 600 Mulla Nasreddin Tales) - محمد رمضانی، فارسی زبان۔
  • دی ایکسپلائٹس آف دی انکمپیربل ملا نصرالدین - The Exploits of the Incomparable Mulla Nasrudin - ادریس شاہ۔
  • دی سبٹلٹیز آف دی انمٹبل ملا نصرالدین - The Subtleties of the Inimitable Mulla Nasrudin - ادریس شاہ۔
  • دی پلیزنٹریس آف دی انکریڈیبل ملا نصرالدین (The Pleasantries of the Incredible Mullah Nasrudin) - ادریس شاہ۔
  • ملا نصرالدین گولپو (بنگالی زبان) - (ملا نصرالدین کی کہانیاں) - ستیہ جت رے بنگالی زبان۔
  • دی وزڈم آف ملا نصرالدین - The Wisdom of Mulla Nasruddin - شاہ رخ حسین۔

مزید دیکھیے

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. "Afanti de gu shi" (A collection of the Uighur people's folktales as well as information about their customs and life styles) ISBN 957-691-004-8
  2. J.C. Yang, Xenophobes Guide to the Chinese, Oval Books, ISBN 1-902825-22-5
  3. "The Effendi And The Pregnant Pot - Uygur Tales from China"; New World Press; Beijing, China
  4. ^ ا ب پ The outrageous Wisdom of Nasruddin, Mullah Nasruddin; accessed February 19, 2007.
  5. "NASRETTİN HOCA"۔ Republic of Turkey Ministry of Culture and Tourism۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 دسمبر 2006 
  6. "TURKIC HERO - NASREDDIN HOJA"۔ 12 مئی 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 جولا‎ئی 2009 
  7. ^ ا ب Mulla Nasruddin Stories آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ sysindia.com (Error: unknown archive URL), accessed February 20, 2007.
  8. ^ ا ب Gianpaolo Fiorentini (2004)۔ "Nasreddin, una biografia possibile"۔ Storie di Nasreddin۔ Torino: Libreria Editrice Psiche۔ ISBN 8885142710۔ 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 دسمبر 2006 
  9. "NASREDDİN HOCA"۔ Republic of Turkey Ministry of Culture and Tourism۔ 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 دسمبر 2006 
  10. Ohebsion, Rodney (2004) A Collection of Wisdom, Immediex Publishing, ISBN 1-932968-19-9.
  11. "Akşehir's International Nasreddin Hoca Festival and Aviation Festival - Turkish Daily News Jun 27, 2005"۔ 30 ستمبر 2007 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 جولا‎ئی 2009 
  12. Idris Shah (1964), The Sufis, London: W. H. Allen ISBN 0-385-07966-4. :D
  13. "A szőlőskertek meséiből"۔ 19 مئی 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 جولا‎ئی 2009