منو بھنڈاری (پیدائش 3 اپریل، 1931–2021) ہندی کی مشہور معروف کہانی کار تھیں۔ مدھیہ پردیش میں مندسورضلع کے بھانپورا گاؤں میں جنمی منوکا بچپن کا نام مہیندرا کماری تھا۔ تخلیق کے لیے انھوں نے منونام کا انتخاب کیا۔ انھوں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی اور سالوں دہلیی کے میرنڈا ہاؤس میں پروفیسر رہیں۔ دھرم یگ میں سیریل انداز میں مطبوعہ ناولی آپ کا بنٹی سے مقبولیت حاصل کرنے والی منو بھنڈاری اجین میں پریم چند سرجن پیٹھ کی صدر بھی رہیں۔ ادب کی روایت ان کو وراثت میں ملی تھی۔ ان کے والد سکھ سمپت رائے بھی مشہور و معروف مصنف تھے۔

منو بھنڈاری
 

معلومات شخصیت
پیدائش 3 اپریل 1931ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہانپورا   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 نومبر 2021ء (90 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گڑگاؤں   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت بھارت
برطانوی ہند
ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات راجیندر یادو   ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کلکتہ
بنارس ہندو یونیورسٹی   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ناول نگار ،  مصنفہ ،  ڈراما نگار [1]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندی [2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کلیدی تخلیقات

ترمیم

کہانی

ترمیم
  • ایک پلیٹ سیلاب (1932)
  • میں ہار گئی (1957)،
  • تین نگاہوں کی ایک تصویر،
  • یہی سچ ہے (1966)،
  • ترشنکو
  • آنکھوں دیکھا جھوٹ
  • اکیلا - یہ کہانی سوما بوا کے نام کے کردار کو مرکز ميں رکھکر لکھی گئی ہے۔ سوما اپنے پاس پڑوس سے گھلنے ملنے کی کوششوں کے باوجود اکیلی پڑجاتی ہے۔ وہ اکیلی اس لیے ہے کہ اسے چھوڑ دیا گیا ہے۔ وہ بوڑھی ہوچلی ہے اور اس کا لڑکا بھی اس کو چھوڑکر جا چکا ہے۔ اپنے ماحول کے ساتھ گھلنے ملنے کی اس کی کوششیں بھی یک طرفہ ہیں۔

ناول

ترمیم
  • آپ کا بنٹی (1971) - یہ ناول طلاق کے المیہ ميں پس رہے ایک بچے کو مرکز ميں رکھکر لکھا گیا ہے۔
  • ایک انچ مسکان (1962) - مصنف اور شوہر راجندرا یادو کے ساتھ لکھا گیا اُن کا ناول ایک انچ مسکان پڑھے لکھے جدید لوگوں کی ایک المیاتی داستان محبت ہے جس کے ہر ایک حصے کو دونوں ادیبوں نے ترتیب سے لکھا ہے۔ [4]
  • مہابھوج (1971) - یہ ناول نوکرشاہی اور سیاست ميں پائی جانے والی بدعنوانی کے درمیان میں عام آدمی کی پیڑا کو ظاہر کرتا ہے۔ اس ناول پرمبنی ناٹک انتہائی مقبول ہوا تھا۔ اسی طرح یہی سچ ہے پر مبنی رجناگندھا نامی فلم بہت مقبول ہوئی تھی اور اُسے 1974 کی بہترین فلم ایوارڈ بھی ملا تھا۔ [5]

حوالہ جات

ترمیم
  1. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=xx0116250 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 دسمبر 2022
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb123262518 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=xx0116250 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مارچ 2022
  4. R.S. Singh (1973)۔ "Mannu Bhandari"۔ Indian Literature۔ 16 (1/2): 133–142 
  5. "मन्नू भंडारी" (بزبان हिन्दी)۔ अभिव्यक्ति۔ 3 फ़रवरी 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ २३ दिसंबर २००९