منو بھنڈاری (پیدائش 3 اپریل، 1931) अप्रैल ہندی کی مشہور معروف کہانی کار ہیں۔ مدھیہ پردیش میں مندسورضلع کے بھانپورا گاؤں میں جنمی منوکا بچپن کا نام مہیندرا کماری تھا۔ تخلیق کے لیے انہوں نے منونام کا انتخاب کیا۔ انہوں نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی اور سالوں دہلیی کے میرنڈا ہاؤس میں پروفیسر رہیں۔ دھرم یگ میں سیریل انداز میں مطبوعہ ناولی آپ کا بنٹی سے مقبولیت حاصل کرنے والی منو بھنڈاری اجین میں پریم چند سرجن پیٹھ کی صدر بھی رہیں۔ ادب کی روایت ان کو وراثت میں ملی تھی۔ ان کے والد سکھ سمپت رائے بھی مشہور و معروف مصنف تھے۔

منو بھنڈاری
Manu Bhandari bharat-s-tiwari-photography-IMG 7163 December 27, 2015.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 3 اپریل 1931 (90 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہانپورا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات راجیندر یادو  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کلکتہ
بنارس ہندو یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ناول نگار،  مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندی[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کلیدی تخلیقاتترميم

کہانیترميم

  • ایک پلیٹ سیلاب (1932)
  • میں ہار گئی (1957)،
  • تین نگاہوں کی ایک تصویر،
  • یہی سچ ہے (1966)،
  • ترشنکو
  • آنکھوں دیکھا جھوٹ
  • اکیلا - یہ کہانی سوما بوا کے نام کے کردار کو مرکز ميں رکھکر لکھی گئی ہے۔ سوما اپنے پاس پڑوس سے گھلنے ملنے کی کوششوں کے باوجود اکیلی پڑجاتی ہے۔ وہ اکیلی اس لیے ہے کہ اسے چھوڑ دیا گیا ہے۔ وہ بوڑھی ہوچلی ہے اور اس کا لڑکا بھی اس کو چھوڑکر جا چکا ہے۔ اپنے ماحول کے ساتھ گھلنے ملنے کی اس کی کوششیں بھی یک طرفہ ہیں۔

ناولترميم

  • آپکا بنٹی (1971) - یہ ناول طلاق کے المیہ ميں پس رہے ایک بچے کو مرکز ميں رکھکر لکھا گیا ہے۔
  • ایک انچ مسکان (1962) - مصنف اور شوہر راجندرا یادو کے ساتھ لکھا گیا اُن کا ناول ایک انچ مسکان پڑھے لکھے جدید لوگوں کی ایک المیاتی داستان محبت ہے جس کے ہر ایک حصے کو دونوں ادیبوں نے ترتیب سے لکھا ہے۔ [2]
  • مہابھوج (1971) - یہ ناول نوکرشاہی اور سیاست ميں پائی جانے والی بدعنوانی کے درمیان عام آدمی کی پیڑا کو ظاہر کرتا ہے۔ اس ناول پرمبنی ناٹک انتہائی مقبول ہوا تھا۔ اسی طرح یہی سچ ہے پر مبنی رجناگندھا نامی فلم بہت مقبول ہوئی تھی اور اُسے 1974 کی بہترین فلم ایوارڈ بھی ملا تھا۔ [3]
  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb123262518 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. Singh، R.S. (1973). "Mannu Bhandari". Indian Literature. 16 (1/2): 133–142. 
  3. "मन्नू भंडारी" (بزبان हिन्दी). अभिव्यक्ति. 3 फ़रवरी 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ २३ दिसंबर २००९.