مچھلیاں فقاری آبی جانور ہیں، جنہیں سرد خون والا جانور بھی کہا جاتا ہے۔ چھلکوں سے دھکا ہوا اور پانی میں تیرنے کے لیے بنے خصوصی پر اور گلپھڑوں سے لیس۔ مچھلیاں کھلے سمندر، تازے پانی، دریاؤں،جھیلوں سے لے کر پہاڑی جھرنوں سمندر کی اتھاہ گہرائیوں تک میں پائی جاتی ہے۔ مچھلی دنیا بھر میں انسانوں کی سمندری غذائی ضرورت پورا کرنے کے لیے نہایت اہم گردانی جاتی ہے، خواہ وہ سمندروں یا کھلے آبی مقامات سے شکار کی جائیں یا اُن کی پرورش انسان کے بنائے ہوئے ماہی خانوں میں کی جائے، جیسا کہ مرغیوں کی افزائش کے لیے مرغی خانے یا دیگر جانوروں کے لیے باڑے بنائے جاتے ہیں۔ مچھلیوں کا شکار یا افزائش تفریحء طبع یا محظوظ ہونے کے لیے بھی کیا جاتا ہے، جیسا کہ شوقین لوگوں کا ڈنڈیوں پر ڈور لگا کر مچھلی کا شکار کرنا یا لوگوں کا گھروں کے باغیچہ میں تالابوں یا مہمان خانوں میں شیشے سے بنے ماہی پروری کے بڑے مچھلی گھر (Aquarium) رکھنا، جو عموماً لوگوں کو دکھانے اور محظوظ کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ مچھلی مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں میں بھی صدیوں سے نہایت اہمیت کی حامل ہے، دیوتاؤں سے لے کر مذہبی علامات، کتابوں کے موضوعات سے لے کر فلموں تک ہر جگہ مچھلی کا کردار و ذکر نظر آتا ہے۔

آبی مخلوق - مچھلی

پاکستان کی قومی مچھلی مہاشیر ہے۔

پرانھا مچھلی کے بارے میں کچھ دلچسپ معلومات

ترمیم

پر نہا مچھلی کا نام برازیلی مقامی ٹوپی زبان سے مچھلی (پری اور دانت (رینا) سے نکلا ہے۔ قدوقامت کے لحاظ سے یہ ڈیڑھ فٹ تک لمبی ہوتی ہے۔ جنوبی امریکا کے دریاؤں اور جھیلوں میں ان کی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ان کی تقریباً ساٹھ سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں لیکن ان میں سے سب سے زیادہ خطرناک ریجڈ (wreged) پرنہا ہے۔ یہ مچھلیاں ایک جھنڈ کی صورت میں رہتی ہیں، جنھیں مقامی زبان میں شول (shoal) کہتے ہیں۔ مزید جانیں آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ dailyread1.com (Error: unknown archive URL)۔