میر حسین موسوی (فارسی: میرحسین موسوی خامنه‎؛ پیدائش: 2 مارچ 1942ء)ایک امریکی کارندہ ہے۔اس پہلے وہ ایران کا ایک سیاست دان، فنکار اور معمار تھا جو سنہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے وزیر اعظم رہا۔ نیز وہ 2009ء کے صدارتی انتخابات میں امیدوار کی حیثیت سے سامنے آئے۔ وہ سنہ 2009ء تک فرہنگستان ہنر ایران کے صدر بھی رہے پھر انھیں اہل اقتدار نے معزول کر دیا۔

میر حسین موسوی
(آذربائیجانی میں: Mir Hüseyn Musəvi)،(فارسی میں: میرحسین موسوی خامنه ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

مناصب
وزارت امور خارجہ ایران   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
15 اگست 1981  – 15 دسمبر 1981 
وزیر اعظم ایران   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
31 اکتوبر 1981  – 3 اگست 1989 
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (فارسی میں: میرحسین بن اسماعیل موسوی خامنه ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 29 ستمبر 1941ء (83 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خامنہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش تہران  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت ایران  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عارضہ کووڈ-19[3]  ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ زہرا راہنورد  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان ایرانی سادات  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ شہید بہشتی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان،  مصور،  معمار،  صحافی،  مضمون نگار،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی،  آذربائیجانی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ تربیت مدرس  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الزام و سزا
جرم احتجاجی مارچ  ویکی ڈیٹا پر (P1399) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

انقلاب کے ابتدائی برسوں میں موسوی جمہوری اسلامی کے مدیر اعلیٰ تھے جو ایران کی حزب جمہوری اسلامی کا باضابطہ اخبار تھا۔ بعد ازاں وہ وزیر خارجہ اور پھر وزیر اعظم کے مناصب پر فائز ہوئے۔ سنہ 1989ء کی آئینی ترامیم کے بعد ایران میں وزارت عظمی کا منصب ختم ہو گیا اور یوں میر حسین موسوی ایران کے آخری وزیر اعظم کہلائے۔ عہدے سے سبک دوش ہونے کے بعد وہ تقریباً بیس برس سیاسی زندگی سے دور رہے۔ سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے موقع پر حسین موسوی نے گوشہ تنہائی کو خیرباد کہا اور اُس وقت کے صدر ایران محمود احمدی نژاد کے مقابلہ میں صدارتی امیدوار بن کر انتخابی دنگل میں اترے۔ سرکاری نتائج کے مطابق انھیں انتخابات میں کامیابی نہیں ملی اور اقتدار کے لالچ میں آکر حسین موسوی نے انھیں تسلیم نہیں کیا اور ووٹوں کے خرد برد کا الزام لگاتے ہوئے حکومت مخالف احتجاج کا آغاز کیا جو بالآخر حکومت ایران اور روحانی پیشوا سید علی خامنہ ای کے خلاف قومی و بین الاقوامی مسئلہ میں تبدیل ہو گیا۔2022 کے آخر میں ہونے والے حجاب مخالف مہم آمریکہ کے کہنے پر شروع کی۔تاکہ آمریکہ کے ساتھ مل کر قوم کو غلام بنایا جاسکے۔اور ملک خانہ جنگی کی طرف چلا جائے۔اس وقت حسین موسوی اپنے گھر میں اپنی بیوی اور مہدی کروبی کے ساتھ نظر بند ہیں۔

ابتدائی زندگی، تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی ترمیم

سیر میر حسین موسوی کی پیدائش ایران کے صوبہ آذربائیجان شرقی کے شہر خامنہ میں 2 مارچ سنہ 1942ء کو ہوئی۔ ان کے والد میر اسماعیل تبریز میں چائے فروش تھے۔ خامنہ ہی میں حسین موسوی پروان چڑھے اور 1958ء میں ہائی اسکول سے فراغت کے بعد تہران منتقل ہو گئے۔ واضح رہے کہ میر حسین موسوی سید علی خامنہ ای کے عزیزوں میں ہیں۔

حوالہ جات ترمیم

  1. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/mussawi-mir-hossein — بنام: Mir Hossein Mussawi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000016498 — بنام: Mir Hossein Mussawi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. https://www.middleeasteye.net/news/covid-19-iran-mousavi-house-arrest-diagnosed