مرکزی مینیو کھولیں
نجم‌ الدین کبری
(عربی میں: نجم الدين الكبرى خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Najmeddin Kubra Mausoleum.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1145[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
خیوا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 2 جولا‎ئی 1221 (75–76 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
گرکانج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن ترکمانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فلسفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

شیخ نجم الدین احمدالکبریٰ سلسلہ کبرویہ کے بانی ایک صوفی بزرگ اور افسانوی شخصیت کے حامل ہیں

نامترميم

پورا نام احمد بن عمر بن محمّد الخوافی الخيوقی الخوارزمی ہے۔ آپ کو عبد اللہ الحموی بھی کہتے ہیں۔

ولادتترميم

نجم الدین کبریٰ کی ولادت 540ھ 1145ء میں خیوق میں ہوئی

کنیت اور القابترميم

ان کی کنیت ابوالجناب تھی شیخ ولی تراش سے مشہور تھے اور لقب نجم الدین الکبری اور طامۃ الکبری اورنجم الكبراءتھی لقب کبریٰ اس وجہ سے کہ آپ علمی مناظرہ میں ہمیشہ غالب آجاتے تھے۔ وہ عماریاسربدلیسی کے شاگرد تھے

علمی مقامترميم

آپ کاملین وقت اور اکابر اولیاء میں سے تھے اور وقت کے علما و اولیاء آپ کو اپنا سردار مانتے تھے۔ آپ تمام علوم مروجہ و علوم دین میں ظاہری و باطنی طور جامع تھے۔ آپ اکثر فنائے احدیت میں مستغرق رہتے تھے زبان مبارک سے جو دعا نکلتی دربار الٰہی میں اجابت ہو جاتی تھی۔ آپ نے کئی اولیاء واصحاب تکمیل سے تربیت اور خلافت حاصل کی۔ خاص طور پر شیخ عمارِ یاسر، شیخ اسماعیل قصریٰ اور شیخ روز بیہان بقلی سے آپ نے فیض حاصل کیا۔

بانی سلسلہترميم

آپ خوارزم کے قریب خیوق میں رہتے تھے آپ سلسلہ کبرویہیا ذہبیہ کے بانی تھے ان کے شیخ کا نام شیخ روز بہان الوزان المصری ہے

چنگیزی یلغارترميم

چنگیز خان نے 8لاکھ فوج کے ساتھ خوارزم پر حملہ کیا۔ شیخ نجم الدین احمدالکبریٰ کے کمالات اور مرتبہ دیکھ کر چنگیز خان کے بیٹے، جو جی خان اور حقتائے خان نے آپ کو کہلا بھیجا کہ آپ خوارزم سے چلے جائیں تاکہ آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ شیخ نے جواب بھجوایا کہ شہادت مقصود ِمومن ہوتی ہے ،میں اب تک ان لوگوں کو رشد و ہدایت کرتا رہا اب مشکل وقت میں بھی ان کی پیشوائی کرنا میرافرض ہے۔ اس کے بعد اپنے خلفاء کو جمع کیا اور فرمایا ترجمہ: اللہ کے حکم سے اٹھو اور کافروں کا مقابلہ کرو۔ پھر خود باہر نکلے اور ہاتھ میں نیزہ لیکر چنگیزوں پر حملہ کر دیا۔ آپ جہاد میں دلیری اور جوان مردی سے لڑتے رہے یہاں تک کہ ایک جسیم فوجی آپ کو شہید کرنے آیا۔ آپ نے اس کے سر کے بال اپنی مٹھی میں لیے اور مقابلہ کرتے ہوئے خوارزم شہر میں شہید ہوئے۔

وفاتترميم

آپ کی تاریخ وفات 10 جمادی الاول 618ھ بمطابق 2 جولائی 1221ء آپ تاتاری یلغار میں مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے

تصنیفاتترميم

  • منازل السائرين
  • فواتح الجمال
  • منہاج السالكين
  • ديوان شعر
  • الخائف الهائم عن لومۃ اللائم
  • طوالع التنوير
  • ہدايۃ الطالبين
  • رِسَالَۃ الطّرق۔
  • سر الحدس۔
  • طوالع التَّنْوِير۔
  • عين الْحَيَاة فِی تَفْسِير الْقُرْآن۔[2][3]

حوالہ جاتترميم

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/103110216 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 22 صفحہ148،جامعہ پنجاب لاہور
  3. http://kashmiruzma.net/full_story.asp?Date=21_1_2011&ItemID=1&cat=8#.WGmCW_l97IV