نفسیاتی جنگ، جس کو پروپیگنڈا بھی کہتے ہیں، ایک اصطلاح ہے جو "کسی بھی عمل کی نشان دہی کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو بنیادی طور پر نفسیاتی طریقوں سے دوسرے لوگوں میں ایک منصوبہ بند نفسیاتی رد عمل کو جنم دینے کے مقصد سے کی جاتی ہے۔[1] مختلف حربوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور ان کا مقصد ہدف والے سامعین کے اقدر، عقائد، جذبات، استدلال یا رویے اور مقاصد کو متاثر کرنا ہے۔ اس کا استعمال ایسے ہتھکنڈوں کے ذریعے دشمنوں کے حوصلے کو تباہ کرنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے جن کا مقصد فوجیوں کی نفسیاتی حالتوں کو دبانا ہے۔[2][3]

حوالہ جات

ترمیم
  1. Béla Szunyogh (1955)۔ Psychological warfare; an introduction to ideological propaganda and the techniques of psychological warfare۔ United States: William-Frederick Press۔ صفحہ: 13۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 فروری 2015 
  2. S. C. Chekinov، S. A. Bogdanov۔ "The Nature and Content of a New-Generation War" (PDF)۔ Military Theory Monthly = Voennaya Mysl۔ United States: Military Thought: 16۔ ISSN 0869-5636۔ 20 فروری 2015 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 فروری 2015 
  3. Doob, Leonard W. "The Strategies Of Psychological Warfare." Public Opinion Quarterly 13.4 (1949): 635–644. SocINDEX with Full Text. Web. 20 February 2015.


جنگ
عسکری تاریخ
ادوار
قبل از تاریخقدیم تاریخقرون وسطیاسلامی
بارودصنعتی انقلابزمانہ جدید
میدان کارزار
ہوازمینسمندرفضاءاطلاعات
اسلحہ
بکتر بند جنگتوپحیاتیاتی ہتھیاررسالہ
کیمیائی ہتھیاربرقیاتی جنگپیادہ فوج
نویاتی اسلحہنفسیاتی جنگ
مصافیات

استنزافچھاپہ مار جنگعسکری نقل و حرکت
ناکہ بندیہمہ گیر جنگمورچہ بند جنگ

عسکری حکمت عملی

معاشیعظیم حکمت عملیعسکری کارروائیاں

عسکری تنظیم

دستےعہدےاکائیاں

عسکریات

آلاتضروریاتخط رسد

فہارس

معرکےقائدینکارروائیاں
ناکہ بندیاںمصنفینجنگیں
جنگی جرائماسلحہ