وحشی پن، وحشی جانور (وحش) انس کی ضد ہے اس کی جمع وحوش ہے۔
وحشی اطلاق ان تمام جانوروں پر ہوتا ہے جو انسان سے مانوس نہیں ہوتے اور خشکی پر بستے ہیں۔ ان جانوروں کی اکثر صفت بہت ہی خونخوار ہوتی ہے اسی وجہ سے انھیں وحشی کہا جاتا ہے۔ یہ جانور گوشت خوار تو ہوتے ہیں، تاہم کئی ایک بار آدم خوری پر بھی یہ اتر آتے ہیں۔ جنگلات اور پہاڑی علاقے میں شیرببر اور اس قبیل کے وحشی جانور انسانی آبادی میں گھس کر انھیں اپنا نوالہ بناتے ہیں۔[1]چنانچہ قرآن پاک میں ہے۔ وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ [ التکوير/ 5] اور جب وحشی جانور جمع کیے جائیں گے۔ اور مکان وحش اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی آبادی نہ ہو، وحش سے ارض موحشتہ ( ویران جگہ ) کا محاورہ ہے ا اور اس کی طرف نسبت کے وقت وحشی کہا جاتا ہے۔ اور وحشی انسی کے بالمقابل بھی آتا ہے اور کسی شے کی ہر وہ جہت جو انسان کی طرف ہو اسے انسی اور دوسری جانب کو وحشی کہا جاتا ہے ۔[2]

حوالہ جات

ترمیم
  1. نو آدم خور اور ایک پاگل ہاتھی[مردہ ربط]
  2. مفردات القرآن امام راغب اصفہانی