مرکزی مینیو کھولیں

پیدائشی بد نظمی یا پیدائشی نقص (انگریزی: Birth defect) ایسا نقص ہے جو اکثر بچوں میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ پیدائش سے متاثر ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ان کے ہونٹ اور ناک پھٹے ہوئے ہوتے ہیں ۔ایسے کچھ معمولی نقص کے آپریشن کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم کچھ نقص پیچیدہ بھی ہو سکتے ہیں، جیسے کہ جسم کے کچھ اعضا کا نہ ہونا یا ناقابل استعمال ہونا، پیدائش سے کوئی مرض کی کیفیت میں مبتلا ہونا یا پھر دماغ کے کوئی نقص کا شکار ہونا۔ ان میں سے کچھ تو لا علاج ہیں، کچھ کا دیر پا علاج موجود ہے اور کچھ کے لیے دوائیں تو موجود ہیں مگر مکمل شفا یابی تلاش کرنا مشکل ہے۔[1]

حقیقی عیب اور ظاہری عیبترميم

حقیقی عیب یا نقص کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی عضو سے محروم ہو یا اس کا استعمال نہ کر سکتا ہو یا استعمال میں دشواری ہو۔ امراض بھی اسی حقیقی عیب کے زمرے میں آتے ہیں۔ تاہم ظاہری بناوٹ میں عیب ہونا بھی لوگوں کو تکلیف پہنچاتا ہے اور لوگ انہیں بھی دور کرنے کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں۔

عام طور پر حمل کے پہلے تین مہینوں کے دوران ہونٹ اور تالو بنتے ہیں۔ اگر یہ اعضاء صحیح نہیں جڑ پاتے تو دو حصوں کے درمیان ایک خلء رہ جاتی ہے جس کو کلیفٹ کہتے ہیں۔ کلیفٹ اپنی اقسام اور شدّت کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ ہونٹ اور تالو کا کلیفٹ پیدائشی نقص کی عام اقسام ہیں جو ایک ہزار بچوں میں سے ایک بچے میں ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بچے جن کے تالو یا ہونٹ کٹے ہوئے ہوتے ہیں وہ صحت مند ہوتے ہیں اور ان میں کوئی اور پیدائشی نقص نہیں ہوتا۔ لیکن چند بچوں کو کلیفٹ کے ساتھ اور بھی طبی مسائل ہو سکتے ہیں۔[2]

وبائی امراض اور پیدائشی بد نظمی کا باہمی ربطترميم

طبی ادب میں یہ بات موضوع بحث بنی ہوئی ہے کہ یا وبائی امراض اور پیدائشی بد نظمی کا کوئی باہمی ربط ہے یا نہیں۔ اس تعلق سے متضاد دعوے کیے بھی گئے اور ایضًا متضاد شواہد بھی پیش کیے گئے ہیں۔

تاہم 2010ء کی دہائی کے وسطِ ثانی سے دنیا کے کچھ حصوں میں زیکا وائرس کا پھیلاؤ دیکھا گیا اور کئی ممالک میں سینکڑوں لوگ اس کی چپیٹ میں آگئے تھے۔ ایسے وقت میں برازیل کے محکمۂ صحت نے ملک میں مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والے زِیکا بخار اور بچوں میں پیدائشی نقص کے بڑھتے واقعات کے درمیان ربط کی تصدیق کی تھی۔ ان کا دعوٰی تھا کہ ہے کہ دوران حمل پہلے ماہ میں ہی رحمِ مادر میں مائیکرو اینسیفالائیٹس، یعنی دماغ کی سوزش کی بیماری کے واقعات تیزی سے بڑھنے کی وجہ زِیکا بخار ہے۔[3]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم