پیلو (پیدائش: 1563ءوفات: 1606ء) عہد اکبر اعظم کے مشہور زمانہ پنجابی شاعر ہیں جن کا تعلق ضلع چکوال کے گاؤں پیلو سے ہے[1]۔ انھوں نے مشہور زمانہ داستان عشق و محبت مرزا صاحباں کو نظم کرکے غیر فانی شہرت حاصل کی۔

مختصر سوانح حیات

ترمیم

پیلو کی پیدائش کے حوالے سے مختلف اقوال مرقوم ہیں۔[1]

  • عبد الغفور قریشی ، پنجابی ادب دی کہانی اور پروفیسر انور بیگ پنجابی ادب و ثقافت، میں اس شاعر کو ضلع چکوال کے علاقہ پیلو سے منسوب کرتے ہیں۔[1] اسی طرح حافظ برخوردار نے اپنے کلام مرزا صاحباں میں اس کا ذکر کیا ہے جس کے مطابق یہ شاعر چکوال کے علاقہ پیلو میں دفن تھا۔(مرزا صاحباں از حافظ برخوردار صفحہ 6)[2]
  • ڈاکٹر محمد فقیر کے مطابق تحصیل ترنتارن ضلع امرتسر (مشرقی پنجاب) کے مطابق ایک قصبہ ویرووال میں پیدا ہوا۔ جوانی ہی میں درویشی اختیار کرکے گھر سے نکل گیا۔ لیکن اس پر اعتراض یہ ہے کہ اس کی شاعری ماجھی لہجے میں نہیں ہے۔[1]

بعض پیلو کو مسلمان اور بعض ہندو کہتے ہیں۔

نمونہ کلام

ترمیم

بھٹھ رناں دی دوستی ، کھُری جنہاں دی مت

ہس کے لاوندیِاں یاریِاں ، رو کے دیندیِاں دس

جس گھر لائے دوستی ، مول نہ گھتیے لت

سٹھیں ہتھ نہ آوندی ، دانشمنداں دی پت

صاحباں آئیں نہ چھڈ کے ، سر نہ رھوے ساڈی پت[3]

تصانیف

ترمیم

مرزا صاحباں

سررچرڈ ٹمپل نے اپنی کتاب دی لیجنڈز آف دی پنجاب میں مرزا صاحباں کی داستان کا کچھ حصہ شائع کیا ہے۔

مزید پڑھیے

ترمیم
  1. ^ ا ب پ ت ثناور چدھڑ (13-12-2022)۔ "پیلو جٹ - Punjnud.com"۔ Punjnud.com۔ Punjnud.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 دسمبر 2022 
  2. حافظ برخوردار (1984)۔ "حافظ برخوردار | ریختہ"۔ حافظ برخوردار | ریختہ۔ لوک ورثہ اشاعت گھر، پاکستان۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 دسمبر 2022 
  3. پیلو جٹ۔ "صفحہ ۴ – قصہ مرزا صاحباں – پیلو"۔ صفحہ ۴ – قصہ مرزا صاحباں – پیلو۔ Academy of Punjab in North America۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 دسمبر 2022