چاند رات رمضان کے اختتام پر شوال کا ہلال دیکھنے پر منائی جاتی ہے۔ یہ عام طور پر بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں منائی جاتی ہے۔

حیدرآباد، دکن میں جشن چاندرات

جشنترميم

چاند دیکھنے کے لیے عام طور پر اعزہ واقارب جمع ہوتے ہیں، چراغاں کیا جاتا ہے اور عید کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ بازاروں میں غیر معمولی ازدحام ہوتا ہے۔ بعض جگہ آپس میں چاندرات مبارک کہنے کا بھی رواج ہے۔

شیعہ نقطہ نظرترميم

محمد بن قیس نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا جب امام کے سامنے تیس (30) تاریخ کو دو آدمی گواہی دے دیں کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے تو امام اسی دن روزہ توڑنے کا حکم دے گا اگر ان دونوں گواہوں نے قبل زوال گواہی دی ہے۔ اور اگر ان دونوں گواہوں نے بعد زوال گواہی دی ہے تو امام اس دن افطار کا یعنی روزہ توڑنے کا حکم دے گا اور نماز عید کو دوسرے دن کے لیے موخر کر دے گا اور سب لوگوں کے ساتھ نماز عید پڑھے گا۔[1]

اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپ(محمد باقر) علیہ السلام نے فرمایا کہ جب چاند نظر نہ آئے لوگ صبح کو روزہ رکھے ہوئے اٹھیں اتنے میں چند عادل لوگ آئیں اور رویت ہلال کی گواہی دیں تو افطار کر لیں اور دوسرے دن اول وقت میں اپنی عید کے لیے نکلیں۔ اور شوال کے چاند کی رویت دن میں قبل زوال ثابت ہو تو وہ دن شوال میں شمار ہو گا اور اگر بعد زوال رویت ہو تو وہ دن ماہ رمضان میں شمار ہو گا۔[2]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. من لا یحضرہ الفقیہ جلد دوم صفحہ 119 حدیث نمبر 2037
  2. من لا یحضرہ الفقیہ جلد دوم صفحہ 119،120 حدیث نمبر 2038