محمد باقر

زین العابدین کے فرزند

محمد باقر، زین العابدین کے فرزند اور اہل تشیع کے پانچویں امام ہیں۔ آپ کا نام اپنے جد بزرگوار حضرت رسول خدا کے نام پر محمد تھا اور باقر لقب۔ اسی وجہ سے محمد باقر کے نام سے مشہور ہوئے۔

محمد باقر
(عربی میں: مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ الباقر ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 8 مئی 677ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 26 جنوری 733ء (56 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات زہر  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاتل ہشام بن عبدالملک  ویکی ڈیٹا پر (P157) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت امویہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ ام فروہ  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد جعفر الصادق[1]،  سلطان علی بن محمد باقر  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد زین العابدین[2]  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ فاطمہ بنت حسن  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
مناصب
بارہ امام (5 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
712  – 733 
زین العابدین 
جعفر الصادق 
عملی زندگی
استاذ زین العابدین  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص عبد الرحمٰن اوزاعی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ امام  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[3]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بارہ اماموں میں سے یہ آپ ہی کو خصوصیت تھی کہ آپ کا سلسلہ نسب ماں اور باپ دونوں طرف حضرت رسول خدا تک پہنچتا ہے۔ دادا آپ کے سید الشہداء حضرت امام حسین تھے جو حضرت رسول خدا محمد مصطفے ٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے چھوٹے نواسے تھے اور والدہ آپ کی ام عبد اللہ فاطمہ حضرت امام حسن کی صاحبزادی تھیں جو حضرت رسول کے بڑے نواسے تھے۔

اس طرح امام محمد باقر رسول کے بلند کمالات اور علی و فاطمہ کی نسل کے پاک خصوصیات کے باپ اور ماں دونوں سے وارث ہوئے۔

نام ونسب

محمد نام، ابو جعفر کنیت، باقر لقب،حضرت امام زین العابدین کے فرزند ارجمند تھے،ان کی ماں ام محمد حضرت امام حسن ؓ کی صاحبزادی تھیں، اس لیے آپ کی ذات گویا ریاض نبوی کے پھولوں کا وہ آتشہ عطر تھی۔

پیدائش

صفر 57 ھ میں مدینہ میں پیدا ہوئے،اس حساب سے ان کے جدبزرگوار حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کے وقت ان کی عمر تین سال کی تھی۔ [4]

فضل وکمال

باقر اس معدن کے گوہر شب چراغ تھے،جس کے فیض سے ساری دنیا میں علم وعمل کی روشنی پھیلی،پھر حضرت امام زین العابدین جیسے مجمع البحرین باپ کے آغوش میں پرورش پائی تھی،ان موروثی اثرات کے علاوہ خود آپ میں فطرۃتحصیلِ علم کا ذوق تھا، ان اسباب نے مل کر آپ کو اس عہد کا ممتاز ترین عالم بنادیا تھا، وہ اپنے وفور علم کی وجہ سے باقر کے لقب سے ملقب ہو گئے تھے بقر کے معنی عربی میں پھاڑنے کے ہیں اسی سے البقرا لعلم ہے،یعنی وہ علم کو پھاڑ کر اس کی جڑ اوراندرونی اسرار سے واقف ہو گئے تھے [5]بعض علما ان کا علم ان کے والد بزرگوار سے بھی زیادہ وسیع سمجھتے تھے، محمد بن منکدر کا بیان ہے کہ میری نظر میں کوئی ایسا صاحب علم نہ تھا،جسے علی ابن حسین پر ترجیح دی جا سکتی ہے،یہاں تک کہ ان کے صاحبزادے محمد کو دیکھا [6] وہ اپنے عہد میں اپنے خاندان بھر کے سردار تھے،علامہ ذہبی لکھتے ہیں، کان سید بنی ھاشم فی زمانہ امام نووی لکھتے ہیں کہ وہ جلیل القدر تابعی اورامام بارع تھے، ان کی جلالت پر سب کا اتفاق ہے ان کا شمار مدینہ کے فقہا اور ائمہ میں تھا۔ [7]

تلامذہ

اس عہد کے بڑے ائمہ امام اوزاعی،اعمش،ابن جریج،امام زہری ،عمرو بن دینار اورابو اسحٰق،سبیعی وغیرہ کا برتابعین اورتبع تابعین کی بڑی جماعت آپ کے خرمن کمال کی خوشہ چین تھی۔ [8]

فقہ

فقہ میں آپ کو خاص دستگاہ حاصل تھی،ابن برتی آپ کو فقیہ وفاضل کہتے ہیں امام نسائی فقہائے تابعین میں [9] اور امام نووی مدینہ کے فقہا اورآئمہ میں شمار کرتے ہیں۔ [10]

زہد وعبادت

آپ نے ان بزرگوں کے دامن میں پرورش پائی تھی جن کا مشغلہ ہی عبادت تھا اورایسے ماحول میں آپ کی نشو و نما ہوئی تھی جو ہر وقت خدا کے ذاکر اوراس کی تسبیح وتمحید سے گونجا کرتا تھا، اس لیے عبادت کی وہی روح آپ کے رگ وپے میں سرایت کر گئی تھی،عبادت وریاضت آپ کا محبوب مشغلہ تھا،شبانہ یوم میں ڈیڑھ سورکعتیں نماز پڑھتے [11]مسجدوں کی کثرت سے پیشانی پر نشان سجدہ تاباں تھا،لیکن زیادہ گہرانہ تھا۔ [12]

شیخین کے ساتھ عقیدت

اپنے اسلاف کرام اور بزرگان عظام کی طرح شیخین کے ساتھ قلبی عقیدت رکھتے تھے،جابر کا بیان ہے کہ میں نے ایک مرتبہ محمد بن علی سے پوچھا کہ آپ کے اہل بیت میں کوئی ابوبکرؓوعمرؓ کو گالیان بھی دیتا تھا، فرمایا نہیں میں انھیں دوست رکھتا ہوں اوران کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہوں۔ [13] سالم بن ابی حفصہ کا بیان ہے کہ میں نے امام باقر اوران کے صاحبزادے جعفر صادق سے ابوبکرؓ وعمرؓ کے بارہ میں پوچھا،انھوں نے فرمایا سالم میں انھیں دوست رکھتا ہوں اوران کے دشمنوں سے تبری کرتا ہوں، یہ دونوں امام ہدی تھے میں نے اپنے اہل بیت میں سے ہر شخص کو ان کے ساتھ تو لا ہی کرتے پایا۔ [14]

صحت عقیدہ

بعض جماعتوں نے بہت سے ایسے غلط عقائد ان بزرگوں کی طرف منسوب کر دیے ہیں، جن سے ان کا دامن بالکل پاک تھاوہ امور دین میں خالص اور بے آمیز اسلامی عقائد کے علاوہ کوئی جدید عقیدہ نہ رکھتے تھے،جائز روایت کرتے ہیں کہ میں نے محمد بن علی سے پوچھا کیا اہل بیت کرام میں سے کسی کا یہ خیال تھا کہ کوئی گناہ شرک ہے،فرمایا نہیں میں نے دوسرا سوال کیا،ان میں کوئی رجعت کا قائل تھا فرمایا نہیں۔ [15]

وفات

مقام حمیمہ میں انتقال فرمایا، لاش مدینہ لاکر جنت البقیع میں دفن کی گئی [16] سنہ وفات کے بارہ میں بیانات مختلف ہیں،بعض 114ھ، بعض 117ھ اور بعض 118ھ بتاتے ہیں، [17]عمر کے بارہ میں وہ روایتیں ہیں ایک یہ کہ وہ 58 سال کے تھے، دوسری یہ کہ وہ 73 سال کے تھے، لیکن دوسری روایت قطعاً غلط ہے، پہلی اقرب الصحۃ ہے، اس لیے کہ ان کی پیدائش بالاتفاق 57 میں ہوئی، اس حساب سے آپ کی عمر پہلے سنہ وفات کے مطابق 61 سال سے زیادہ ہو گی۔

اولاد

امام باقر کی کئی اولادیں تھیں، جعفر،عبد اللہ،یہ دونوں حضرت ابوبکر صدیق کی پوتی ام فروہ کے بطن سے تھے، ابراہیم یہ ام حکیم بنت اسید کے بطن سے تھے، علی اور زینب یہ دونوں ام ولد سے تھے، ام سلمہ یہ بھی ام ولد سے تھیں، ان میں جعفر المقلب بہ صادق سب میں نامور ہیں اور آپ کے جانشین تھے۔ [18]

لباس

امام باقر نہایت خوش لباس تھے،خز جو ایک بیش قیمت کپڑا ہے اور سادہ اوررنگین دونوں طرح کا لباس استعمال کرتے تھے،ابریشم کے بوٹے دار کپڑے بھی پہنتے تھے اور وسمہ اورکثم کا خضاب لگاتے تھے۔ [19]

اقوال

  • ہر شے کی ایک آفت ہوتی ہے اور علم کی آفت نسیان (بھولنے کا مرض) ہے۔
  • اپنے فرزند کو نصحیت کرتے ہوئے فرمایا: بیٹا! ہمیشہ سستی اور اُکتاہٹ سے بچو کیونکہ یہ دونوں چیزیں محرومی کی کنجی ہیں۔ جب تم کسی کام میں سستی کرو گے تو اُس کا حق اداء نہ کرسکو گے اور اگر اُکتا جاؤ گے تو حق پر صبر نہ کرسکو گے۔
  • تین اعمال سب سے سخت ہیں: ہر حال میں ذِکر الہیٰ کرنا، اپنے نفس کے ساتھ اِنصاف کرنا اور مال میں بھائی کے ساتھ مؤاخات کرنا۔
  • بطن یا شرم گاہ کی عفت و حفاظت سے زیادہ افضل و بہتر کوئی عبادت نہیں ہے۔
  • اللہ کو سائل کے سوال سے زیادہ کوئی شے محبوب تر نہیں۔
  • قضاء قدر کو دعا ہی رَد کرسکتی ہے۔
  • کسی کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی کرنا بااعتبارِ ثواب جلد خیر کو پہنچاتا ہے اور با اعتبارِ عقوبت زناء سے زیادہ اور کوئی شے عذاب و غضبِ الہیٰ کو جلد دعوت دینے والی نہیں۔
  • آدمی کے عیب کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ دوسروں کے عیب کھولتا پھرے ، جن کو اپنی ذات میں پا کر چشم پوشی کرتا ہے اور دوسروں کو اِن کاموں کے کرنے کا حکم دے جن کو خود نہیں کر پاتا۔
  • ابلیس کو ہزار عابدوں کی موت سے زیادہ ایک عالم کی موت زیادہ محبوب ہے۔[20]

حوالہ جات

  1. عنوان : Джафар ас-Садик
  2. عنوان : Мухаммад Бакир
  3. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb15008600f — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. (ابن خلکان،جلد اول،ص 450)
  5. (تذکرۃ الحفاظ،جلد اول،صفحہ111 وتہذیب الاسماء نووی جلد اول ،ق اول ص 187)
  6. (تہذیب التہذیب،ج 9،ص350)
  7. (تذکرۃ الحفاظ:1/111)
  8. (تہذیب التہذیب:9/350)
  9. (تہذیب التہذیب ایضاً)
  10. (تہذیب التہذیب ایضاً)
  11. (تذکرۃ الحفاظ:1/111)
  12. (ابن سعد،ج5،ص236)
  13. (ایضاً:236)
  14. (تہذیب التہذیب،ج 9،ص 351)
  15. (ابن سعد:5/236)
  16. (ابن سعد:5/236)
  17. (ابن سعد:5/238)
  18. (ابن سعد،ج 5،ص235)
  19. (ابن سعد ایضاً)
  20. ابن کثیر: البدایہ والنہایہ معروف بہ تاریخ ابن کثیر، جلد 9، ص 27-268۔