کانواں والی سرکار

سائیں کرم الٰہی المعروف کانواں والی سرکار گجرات شہر کی پہچان اور ایک مرد درویش ہیں۔

ولادتترميم

سائیں کرم الٰہی کی پیدائش 3 اپریل 1838ء کو گجرات شہر کے اندرونی محلہ کانیانوالی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام غلام محمد اور خاندان ارائیں تھا۔

تعلیمترميم

بچپن میں تعلیم کے لیے مدرسہ میں بٹھایا گیا۔ موجودہ پاکستان میں چوک کے قریب چشتی بادشاہ کے مزار کے ساتھ ایک درسگاہ تھی جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی۔ چشتی بادشاہ کے دربار کے مجاور اور درس کے معلم میاں نتھا آپ کے استاد تھے۔ تمام عمر مجرد رہے کوئی اولاد نہ تھی نہ کسی کو مرید کیا۔

باطنی تربیتترميم

سولہ سال کی عمر میں ظاہری تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوا اور مرشد کی تلاش شروع کی موضع چنڈالہ کے ایک بزرگ امام شاہ سے سلسلہ قادریہ رزاقیہ میں بیعت کی مرشد کے حکم سے پیادہ کشمیر اور دہلی کی سیاحت اور بزرگوں سے فیض حاصل کیا اس دوران دریائے جہل کے پل کی تعمیر میں ٹوکری ڈھونے اور چوکیداری کا کام کیا ۔

ملامتی رنگترميم

کچھ عرصے بعد انہوں نے ملامتی رنگ اختیار کیا اور شہر سے باہر ڈیرہ جما لیا۔ ہاتھوں میں سرکنڈے کے مٹھے( کانے ) اور دنیا سے بے رغبتی، ان کانوں کو گنتے رہنا اور چرخہ چلاتے رہنا مرتے دم تک یہی مشغلہ رہا ۔

کووں سے تعلقترميم

اپنا سارا کھانا کووں کو کھلا دیتے جو اس قدر آپ سے مانوس ہو گئے تھے کہ آپ کے کندھے پر آ بیٹھتے یہ آپ کی وجہ تسمیہ اور شہرت بن گئی۔ بقیہ تمام عمر وہیں گزاری جہاں آپ کا مزار ہے۔

وفاتترميم

20 جولائی 1930ء بمطابق 22 صفر 1349ھ کو وفات پائی۔ نماز جنازہ پیر ولایت شاہ نے پڑھائی مزار گجرات سے شمال جانب واقع ہے[1]

حوالہ جاتترميم

  1. خفتگان خاک گجرات،ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ،صفحہ 187،سلیچ پبلیکیشنز گجرات