گجرات صوبہ پنجاب کا ایک شہر اور ضلع گجرات کا صدر مقام ہے۔ گجرات پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شمال میں واقع ہے۔ اس ضلع کے مشرق میں گرداسپور شمال مشرق میں جموں شمال میں بھمبر اور جہلم مغرب میں منڈی بہاؤالدین جنوب مغرب میں سرگودھا جنوب میں گوجرانوالہ اور جنوب مشرق میں سیالکوٹ واقع ہے۔ یہ شہر مشہور شاہرا ‎‎جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔ اس ضلع کے جنوب سے دریائے چناب اور شمال سے دریائے جہلم ‎ گزرتا ہے۔ اس ضلع کی تین تحصیلیں گجرات کھاریاں اور سرائے عالمگیر ہیں۔

گجرات (پاکستان)
انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دار الحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ تحصیل گجرات  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 32°34′25″N 74°04′44″E / 32.573611111111°N 74.078888888889°E / 32.573611111111; 74.078888888889  ویکی ڈیٹا پر (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی
آبادی
کل آبادی
مزید معلومات
رمزِ ڈاک
50700  ویکی ڈیٹا پر (P281) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فون کوڈ 053
قابل ذکر
جیو رمز 1166575  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

محل وقوع

گُجرات دریائے چناب کے کنارے آباد ہے۔ لاہور سے 120 کلومیٹر جنوب میں ہے۔ آس پاس کے مشہور شہروں میں وزیرآباد، گوجرانوالہ، لالہ موسیٰ، جہلم، کوٹلہ، منڈی بہاوالدین اور آزاد کشمیر شامل ہیں۔ شہر سینکڑوں دیہاتوں میں گھِرا ہوا ہے۔ جہاں سے لوگ کام کاج کے لیے شہر کا رخ کرتے ہیں۔ ضلع گُجرات کے زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔

جغرافیہ

یہ قدیمی شہر دریاؤں دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان واقع ہے۔ اسی وجہ سے یہاں کی زمین بہت ذرخیز ہے، زیادہ تر گندم، گنے اور چاول کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ گجرات کے شمال مشرق میں جموں کشمیر اور شمال مغرب میں دریائے جہلم واقع ہے جو گجرات کو ضلع جہلم سے علاحدہ کرتا ہے۔ مشرق اور جنوب مشرق میں دریائے چناب جو ضلع گجرات کو ضلع گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سے علاحدہ کرتا ہے اور جنوب میں منڈی بہاؤالدین واقع ہے- ضلع گجرات کا رقبہ تقریباً 3192 مربع کلومیٹر ہے اور یہ تین تحصیلوں،جن میں تحصیل گجرات، کھاریاں اور سرائے عالمگیر شامل ہیں۔

تاریخ

گجرات ایک قدیمی شہر ہے۔ برطانوی تاریخ دان Gen. Cunningham کے مطابق گجرات شہر 460 قبل مسیح میں گجر راجا بچن پال نے دریافت کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسکندر اعظم کی فوج کو ریاست کے راجا پورس سے دریائے جہلم کے کنارے زبردست مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ راجا پورس گجر گوت پوڑ یا پواڑ سے تھا۔ آج بھی گجرات میں پوڑ یا پواڑ گجر کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ اسی راجا کی اولاد ہوں۔ شہر کے محکمانہ نظام کی بنیاد 1900میں برطانوی سامراج نے ڈالی، جو علاقہ کے چوہدری دسوندھی خان، جو محلہ دسوندھی پورہ کے رہنے والے تھے، کی مدد سے شروع کی گئی۔ مغلیہ دور میں، مغل بادشاہوں کا کشمیر جانے کا راستہ گجرات ہی تھا۔ شاہ جہانگیر کا انتقال کشمیر سے واپسی پر راستے میں ہی ہو گیا، ریاست میں بے امنی سے بچنے کے لیے انتقال کی خبر کو چھپایا گیا اور اس کے پیٹ کی انتڑیاں نکال کر گجرات میں ہی دفنا دی گئی، جہاں اب ہر سال شاہ جہانگیر کے نام سے ایک میلہ لگتا ہے۔ انگریزوں اور سکھوں کے درمیان دو بڑی لڑائیاں اسی ضلع میں لڑیں گئیں، جن میں چیلیانوالہ اور گجرات کی لڑائی شامل ہیں۔ اور گجرات کی لڑائی جیتنے کے فورا بعد انگریزوں نے 22فروری 1849 کو پنجاب کی جیت کا اعلان کر دیا۔

تاریخی باقیات

ایسی کئی تاریخی عمارتیں اور باقیات کھنڈروں کی شکل میں گجرات کے آس پاس موجود ہیں۔ گرینڈ ٹرنک روڈ جسے "جی ٹی روڈ" بھی کہا جاتا ہے، شیر شاہ سوری نے بنوائی تھی جو گجرات کے پاس سے گزرتی ہے، ابھی تک جوں کی توں موجود ہے- یہاں کے زیادہ تر لوگ گجر آرائیں مہر ،جٹ وڑائچ ہیں۔ قریبی قصبوں میں شادیوال، کالرہ کلاں، کنجاہ، ڈنگہ، کوٹلہ کری شریف، کڑیانوالہ اورجلالپور جٹاں شامل ہیں۔

وجہ شہرت

اس ضلع کے تین فوجی جوان نشان حیدر حاصل کر چکے ہیں۔ جن میں راجہ عزیز بھٹی،میجر شبیر شریف شہید اور میجر محمد اکرم شہید شامل ہیں۔ جبکہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا تعلق بھی گجرات سے ہی ہے۔ پاکستان کے مشہور سیاست دانوں چوہدری ظہور الٰہی فضل الہی چوہدری(سابق صدر پاکستان) چوہدری شجاعت حسین (سابق وزیر اعظم،سربراہ مسلم لیگ ق) ,چوہدری پرویز الٰہی (سابق وزیر اعلے،مسلم لیگ ق) چوہدری احمد مختار(پی پی پی) قمر زمان کائرہ(پی پی پی) چوھدری عابد رضا کوٹلہ (مسلم لیگ ن) کا تعلق اسی ضلع سے ہے۔

صنعت

گجرات بجلى كے پنكھوں فرنیچر سازی برتن سازی اور جوتوں كی صنعت ميں ايك نام ركھتا ہے

ايكسپورٹ

گجرات جو آج بجلى كے پنكھوں اور جوتوں كی صنعت ميں ايك نام ركھتا ہے- مشرقِ وُسطٰی يورپ اور امریکا كے كسى بھى شہر ميں چلے جائيں آپ كو ضلع گُجرات کے لوگ مل جائيں گے۔ پنجاب كا ايك ایسا ضلع جہاں كے بہت سے لوگ بیرونِ مُلک كام كرتے ہيں اور وطنِ عزیز کو قیمتی زرِمبادلہ کما کر بھیجتے ہیں-

شخصیات

اخبارات و رسائل

  • روزنامہ شانہ بشانہ (مدیر وقار گیلانی)
  • روزنامہ خاموش (ایڈیٹر محمد تنویر کھوکھر)
  • روزنامہ ٹھنڈی آگ (چیف ایڈیٹر گلزار احمد نوشی)

فہرست گنجان شہر بلحاظ آبادی

 
Rawalpindi
درجہ شہر آبادی
(مردم شماری 2017ء)[3][4][5]
آبادی
(1998 کی مردم شماری)[3][6][5]
تبدیلی صوبہ
1 کراچی 14,916,456 9,339,023 &10000000000000059721803+59.72%   سندھ
2 لاہور 11,126,285 5,209,088 &10000000000000113593723+113.59%   پنجاب، پاکستان
3 فیصل آباد 3,204,726 2,008,861 &10000000000000059529504+59.53%   پنجاب، پاکستان
4 راولپنڈی 2,098,231 1,409,768 &10000000000000048835198+48.84%   پنجاب، پاکستان
5 گوجرانوالہ 2,027,001 1,132,509 &10000000000000078983213+78.98%   پنجاب، پاکستان
6 پشاور 1,970,042 982,816 &10000000000000100448710+100.45%   خیبر پختونخوا
7 ملتان 1,871,843 1,197,384 &10000000000000056327711+56.33%   پنجاب، پاکستان
8 حیدرآباد 1,734,309 1,166,894 &10000000000000048626096+48.63%   سندھ
9 اسلام آباد 1,009,832 529,180 &10000000000000090829585+90.83%   وفاقی دارالحکومت،اسلام آباد
10 کوئٹہ 1,001,205 565,137 &10000000000000077161467+77.16%   بلوچستان
11 بہاولپور 762,111 408,395 &10000000000000086611246+86.61%   پنجاب، پاکستان
12 سرگودھا 659,862 458,440 &10000000000000043936392+43.94%   پنجاب، پاکستان
13 سیالکوٹ 655,852 421,502 &10000000000000055598787+55.60%   پنجاب، پاکستان
14 سکھر 499,900 335,551 &10000000000000048978843+48.98%   سندھ
15 لاڑکانہ 490,508 270,283 &10000000000000081479412+81.48%   سندھ
16 شیخوپورہ 473,129 280,263 &10000000000000068816076+68.82%   پنجاب، پاکستان
17 رحیم یار خان 420,419 233,537 &10000000000000080224370+80.02%   پنجاب، پاکستان
18 جھنگ 414,131 293,366 &10000000000000041165302+41.17%   پنجاب، پاکستان
19 ڈیرہ غازی خان 399,064 190,542 &10000000000000109436239+109.44%   پنجاب، پاکستان
20 گجرات 390,533 251,792 &10000000000000055101432+55.10%   پنجاب، پاکستان

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1.    "صفحہ گجرات (پاکستان) في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 28 نومبر 2022ء. 
  2. "Tehsils & Unions in the District of Gujrat – Government of Pakistan". 14 فروری 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  3. ^ ا ب
  4. ^ ا ب "PAKISTAN: Provinces and Major Cities". PAKISTAN: Provinces and Major Cities. citypopulation.de. اخذ شدہ بتاریخ 04 مئی 2020. 
  5. "AZAD JAMMU & KASHMIR AT A GLANCE 2014" (PDF). AJK at a glance 2014.pdf. AZAD GOVERNMENT OF THE STATE OF JAMMU & KASHMIR. 11 February 2017. 30 جون 2020 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 جون 2020.