مرکزی مینیو کھولیں
دیگر استعمالات کے لیے، دیکھیے کعب (ضد ابہام)۔
ابو اسحاق کعب بن بن ماتع الحمیری الاحبار
معلومات شخصیت
پیدائش صدی 6  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
یمن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات ہجری 32 (652/653)
حمص  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان،  مفسر قرآن،  ربی،  مشیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل تفسیر قرآن،  اسرائیلیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

کعب احبار (عربی: كعب الأحبار) جن کا اصل نام ابو اسحاق كعب بن ماتع الحمیری تھا جبکہ احبار ان کو ربی ہونے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ کعب الاحبار یمن کے ممتاز ربی تھے جنہوں نے یہودیت کو ترک کر کے اسلام قبول کر لیا تھا۔[1] ان کا شمار تابعین میں کیا جاتا ہے اور انہوں نے متعدد اسرائیلی روایتوں کو بیان کیا۔[2] وہ خلیفہ عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان کے دورِ خلافت میں ایک با اثر شخصیت تھے۔ اہل سنت کے مطابق کعب نے کم حدیثیں روایت کیں، لوگ ان سے بنی اسرائیل کی معلومات حاصل کرتے تھے، کیونکہ ان کو یہودی تاریخ پہ کمال حاصل تھا۔ کعب احبار تابعین کے طبقہ اولیٰ میں سے ہیں، انہیں کعب حبر بھی کہا جاتا ہے۔

فہرست

نام و نسبترميم

کعب نام، ابو اسحاق کنیت، نسباً یمن کے مشہور حمیری خاندان کی شاخ آل ذی روعین سے تھے، نسب نامہ یہ ہے، کعب بن مانع بن ہینوع بن قیس بن معن بن جشم ابن وائل بن عوف بن جمہر بن عوف بن زہیر بن ایمن بن حمیر بن سبا بن حمیری۔

شخصیتترميم

کعب احبار ابن مانع حمیری ہیں۔ یہود کے سرکردہ اہل علم میں سے تھے اور کتب یہود کے بارے میں سب سے وسیع اطلاع رکھتے تھے۔ مخضرمین میں سے تھے جنہوں نے زمانۂ جاہلیت اور زمانۂ اسلام دونوں پائے۔ یمن میں پیدا ہوئے اور وہیں رہائش پزیر رہے، تا آنکہ وہاں سے ہجرت فرمائی دور صدیق اکبر میں اسلام لا ئے اور سن 12ھ عمر فاروق دور میں مدینہ میں آئے۔ ابن سعدنے اہل شام کے تابعین میں آپ کو طبقۂ اولیٰ میں ذکر کیا ہے اور مزید کہتے ہیں کہ :’’آپ دین یہود پر تھے، پھر اسلام لائے اور مدینہ منورہ ہجرت فرمائی، شام کی طرف روانہ ہو گئے اور تاحیات حمص ہی میں رہے۔[3]

قبول اسلامترميم

ابن سعد نے ابن مسیب کی روایت نقل کی ہے کہ ابن عباس نے کعب سے فرمایا : آپ کو عہد نبوی، میں اسلام لانے سے کیا چیز مانع تھی کہ آپ عہد فاروقی میں اسلام لائے؟ تو کعب نے جواب میں کہا: میرے والد نے میرے لیے تورات کے منتخبات سے ایک کتاب تیار کی تھی اور کہا تھا کہ : ’’بس! اس پر عمل کرو‘‘ اور باقی تمام کتب کو مہربند کر دیا تھا،اور مجھ سے باپ بیٹے کا عہد لیا تھا کہ میں ان کتب سے مہر کو نہ توڑوں، جب میں نے اسلام کے غلبے کو دیکھا تو میں نے سوچا کہ شاید میرے والد نے مجھ سے ان کتب میں کوئی علم چھپا کر رکھا ہے، چنانچہ میں نے اس مہر کو کھولا تو اس میں آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی امت کا تذکرہ موجود تھا، چنانچہ میں مسلمان ہو کر آ گیا۔

وفاتترميم

عثمان غنی کے عہد خلافت سنہ 32ھ میں شام میں وفات پائی۔ وفات کے وقت 104 سال کے تھے۔[4]

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ ت ٹ الاسلام ویب سائٹ۔ اسلامی دائرۃ المعارف۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 جولائی 2017ء
  2. ::: 'علوم القرآن #3 - تفسیر کی تاریخ مسلم ازبکستان۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 جولائی 2017ء
  3. الاعلام خیر الدین زرکلی
  4. ابن سعد:7/156