شام کا ایک قدیم اور تاریخی شہر۔ دمشق سے 300کلومیٹر شمال کی جانب دریائے عاصی کے مشرقی کنارے واقع ہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام اپنے مولد بابل سے ہجرت کرکے حمص کے راستے فلسطین کے شہر الخلیل پہنچے اور وہاں سے مصر کے شہر ممفس پہنچے حمص کو حمص بن مہر عملیکی نے آباد کیا تھااور اسی کے نام سے منسوب ہے۔ بہت بڑا تجارتی مرکز ہے۔ یہاں ریشمی اور سوتی کپڑے کے کارخانے ہیں۔ قدیم زمانے میں حمص سورج دیوتا کے مندر کی وجہ سے مشہور تھا۔ 272ء میں اورلین نے حمص پر قبضہ کر لیا۔ رومیوں کے بعد حمص بازنطینی حکومت کا بڑا مرکز رہا۔ یہ شہر خلافت فاروقی 14ھ 635ء میں خالد بن ولید اور عبیدہ بن الجراح کے ہاتھوں سے فتح ہوا۔ یہاں خالد بن ولید ان کی زوجہ ان کے بیٹے عبد الرحمن،عیاض بن غنم،عبید اللہ بن عمرو،سفینہ مولیٰ رسول اللہ ﷺ،ابو درداء اور ابوذر غفاری کی قبریں ہیں۔[2]

حمص
Homs

حمص
Ḥimṣ
حمص
حمص
عرفیت: شہرخالد بن ولید
ملکFlag of Syria.svg سوریہ
محافظہمحافظہ حمص
ضلعحمص ضلع
ناحیہحمص
قیام2000 ق م
حکومت
 • گورنرGhassan Mustafa Abdul-Aal[1]
 • سٹی کونسل صدرNadia Kseibi
رقبہ
 • شہر48 کلو میٹر2 (19 مربع میل)
 • شہری76 کلو میٹر2 (29 مربع میل)
 • میٹرو104 کلو میٹر2 (40 مربع میل)
بلندی501 میل (1,644 فٹ)
آبادی (2016)
 • شہر200,000
منطقۂ وقتمشرقی یورپی وقت (UTC+2)
 • گرما (گرمائی وقت)مشرقی یورپی گرما وقت (UTC+3)
ٹیلی فون کوڈ031

نگار خانہترميم

حوالہ جاتترميم

  1. H. Zain/ H.Said / Al-Ibrahim (21 April 2011). "President al-Assad Swears in Homs New Governor". Syrian Arab News Agency. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 اپریل 2011. 
  2. اٹلس فتوحات اسلامیہ ،احمد عادل کمال ،صفحہ 170،دارالسلام الریاض