گنبد سلطانیہ ایران کے صوبہ زنجان کے تاریخ شہر سلطانیہ میں واقع ایک عمارت ہے جو اپنے خوبصورت گنبد اور اُس کے فن تعمیر کے لحاظ سے مشہور ہے۔2005ء سے یہ یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کا حصہ ہے۔

گنبد سلطانیہ
UNESCO World Heritage Site

تاریخترميم

یہ گنبد (دراصل عمارت) ایل خانی حکمران محمد خدابندہ اولجایتو کا مدفن ہے لیکن خوبصورت اور بے مثال گنبد کے باعث گنبدِ سلطانیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اِس مقبرہ نما عمارت کی بنیاد 703ھ/ 1302ء میں رکھی گئی اور یہ عمارت و گنبد 712ھ/ 1312ء میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ ایران میں اب تک کا یہ قدیمی گنبد موجود ہے جو اپنی ساخت کے اعتبار سے دوہرا ہے، یعنی اندرونی گنبد بیرونی گنبد کی نسبت دائروی و قطر کے لحاظ سے کم ہے۔ اِس مقبرہ کی تعمیر میں 10 سال صرف ہوئے جبکہ تین ہزار کاریگر و مزدور اِس کام میں مصروف رہے۔

 
گنبدِ سلطانیہ کی ایک قدیمی تصویر –1860ء

ہیئتِ عمارتترميم

مقبرہ ہشت پہلو ہے اور تمام عمارت خشتی ہے۔ ہشت پہلو دیواروں میں 8 دروازے تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ ہر گوشہ پر ایک مینار تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ عمارت تین حصوں میں منقسم ہے، پہلا حصہ وہ ہے جو مقبرہ کا تہ خانہ ہے جس میں محمد خدابندہ اولجایتو کی قبر ہے، دوسرا حصہ وہ ہے جس کی سطح زمین سے ملحق ہے یعنی ہشت پہلو دروازوں والی عمارت کی پہلی منزل جبکہ دوسری منزل اندرونی جانب سے دائروی انداز میں تعمیر کی گئی ہے اور اِسی پر گنبد اور مینار تعمیر کیے گئے ہیں۔ مقبرہ اور اِس سے ملحق زمین کا کل رقبہ 7.9014 مربع کلومیٹر ہے۔

عالمی ورثہ میں شمولیتترميم

15 جولائی 2005ء میں گنبد سلطانیہ کو یونیسکو نے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل کر لیا اور اِس کی مرمت و تعمیر سے اِس کی بحالی کا کام شروع ہوا اور اب یہ محفوظ ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

پیمائشترميم

 
گنبد سلطانیہ کی ایک قدیمی تصویر –1860ء

اِس گنبد کا وزن 200 ٹن (وزن) یعنی 181437 کلوگرام ہے اور یہ گنبد سطح زمین سے 48.5 میٹر (پیمائش) یعنی (161 فٹ) بلندی پر استوار کیا گیا ہے جبکہ گنبد کا قطر 25.5 میٹر (پیمائش) ہے۔

 
گنبد سلطانیہ کا نقشہ

نگارخانہترميم

مزید دیکھیےترميم

ایل خانی سلطنت