گنڈہ پور یا گنڈا پور (Gandapur or Gadapore) ایک پشتون قبیلہ ہے جو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں آباد ہے گنڈہ پور کی اصلیت افغانستان سے ملتی ہے اور ان کی نسل بنیادی طور پر افغانستان سے ہجرت کرنے والے ایک خراسانی سید حضرت سید میر گیسو دراز کی اولاد ہے جنھوں نے براستہ قمر دین ژوب سے کوہ سلیمان کی جانب رخ کیا اور پھر یہیں سے سیدھا دامان یعنی خیبر پختونخوا کے جنوبی علاقوں کی جانب کوچ کیا چنانچہ اس قوم کا اولین مسکن ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی ٹھہرا اور یہ قوم یہیں پر ہی مستقل آباد ہو گئی۔ گنڈہ پور بنیادی طور پر دریائے سندھ کے معاون دریا گومل جسے مقامی طور پر لونی یا خوَڑہ کہتے ہیں، کے کنارے واقع قصبے کلاچی میں رہتے ہیں وہ 17ویں صدی عیسوی میں ڈیرہ اسماعیل خان کے اسی علاقے میں آباد ہوئے تھے یہ علاقہ پاکستان کے خیبر پختون خواہ صوبے کے جنوبی علاقے میں، جنوبی وزیرستان کے ساتھ سرحد کے قریب ہے۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ تحصیل کلاچی میں گنڈہ پور قوم سے قبل بلوچ نسل کی نہایت معتبر شاخ کلاچی آباد تھی جس کے سربراہ اُس وقت سردار محمد حسین خان کلاچی بلوچ تھے جو تحصیل کلاچی کے حقیقی زعماء میں سے تھے پس گنڈہ پور قوم نے یہاں کلاچی بلوچ قوم جو دراصل کلاچی کے حقیقی وارث تھے انگریز سرکار کی خصوصی اعانت سے بلوچ قوم سے گھمسان کا مقابلہ کیا یہ معرکہ غالباً اٹھارویں صدی کے وسط میں ہوا جب انگریز برصغیر پر اپنے قدم پوری طرح جما چکا تھا پس گنڈہ پور قوم نے کلاچی بلوچ قوم سے مقابلہ کرکے بلوچ قوم کا بے دردی سے قتلِ عام کیا اور پھر نتیجتاً یہ مہاجر قوم کلاچی میں مستقل آباد ہو کر مسندِ سربراہی کی حقدار ٹھہری- [1]

گنڈہ پور کے علاقے کلاچی میں واقع ایک تاریخی گیٹ

تاریخ ترمیم

گنڈہ پور قبیلے نے بہت سے دوسرے خانہ بدوش پشتون قبیلوں کی طرح ہر سال باقاعدگی سے افغانستان اور دامان کے میدانی علاقہ کے درمیان سفر کیا جو دریائے سندھ سے لے کر کوہ سلیمان کی پہاڑوں کی مشرقی ڈھلوانوں تک پھیلا ہوا تھا ۔ انھوں نے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان سامان کی نقل و حمل، تجارت اور فروخت کے ساتھ ساتھ چرواہی اور خانہ بدوشی کو بھی نہ چھوڑا۔ ان خانہ بدوش سرگرمیوں اور ان کے معاشرے کی تبدیلیاں، تجارت کی تال اور ارد گرد کی سیاسی معیشتوں کے ساتھ ان کے رابطوں کی نوعیت کے ساتھ پوری تاریخ میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں۔ 17ویں صدی کے دوران، زیادہ تر گنڈہ پور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں آباد ہو گئے تھے، جن کی بڑی تعداد ہندوستان اور خراسان کے درمیان تجارت کرتی تھی جو اگلی دو صدیوں میں کافی ترقی کر گئی۔ ایلفنسٹون، 373۔[2]

قبیلے کے اصل کے بارے میں  روایات ترمیم

گنڈہ پوروں کی ابتدا صرف ان روایات پر مبنی ہے جن کی ابھی تک صحیح تحقیق نہیں کی گئی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق گنڈہ پور کو سیَد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ایک روایت ہے کہ یہ سید محمد گیسو دراز کی اولاد ہیں جو سولہویں صدی عیسوی کے صوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ یہ روایت، جس کی تاریخ پشتون اور تاریخ گنڈہ پور نے بھی تائید کی ہے، گنڈہ پوروں کی اصل کا پتہ یوں دیتی ہے:

*سید محمد گیسو دراز =>> ستورے (پشتو میں ستارہ ) =>> ٹیری خان یا تری خان (ترکئ) یا گنڈہ پور۔

تاریخ گنڈہ پور کے مطابق، گنڈہ پور ستوری بن سید محمد گیسو دراز کا چوتھا بیٹا تھا اور اس کی ماں شیرانی قبیلہ سے تھی اپ کی پیدائش بمطابق تاریخِ گنڈہ پور 1422ء میں تخت سلیمان کے علاقہ شیرانی میں ہوئی آپ اپنے سب بھائیوں سے زیادہ سمجھدار، شجاع اور وجیہہ تھے۔ بچپن میں آپ نے دوسرے بھائیوں کی طرح شمشیر زنی اور تیراندازی میں مہارت حاصل کی۔ چوبیس سال کی عمر میں آپ کی شادی آپ کے والد نے شیرانی قبیلہ کی ایک خاتون سے کی۔ اس خاتون سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام یعقوب خان رکھا گیا 1451ء میں جب آپ کی عمر 29 سال تھی اپ نے اپنے والد کی معییت میں تمام قبیلہ کے ساتھ تخت سلیمان سے ہجرت کی اور قندھار سے دو تین منزل جنوب مشرق کو وادئ ارغستان میں جو اج کل چاہ ستوری کے نام سے مشہور ہے، آباد ہو گیا۔ جس زمانہ میں ستوری کا قبیلہ چاہ ستوری میں آباد تھا اس زمانہ میں کٹی خیل قبیلہ وانہ کے نواح میں آباد تھا۔ کٹی خیل سردار کی ایک لڑکی جس کا نام امیرہ بی بی تھا بے حد حسین اور بہترین گُھڑ سوار تھی۔ ایک دن ایک سہیلی نے اُسے کہا کہ اگر تم تری بن ستوری سے شادی کر کے دکھاؤ تو ہم تمھیں مانیں۔ چنانچہ 1466ء میں ایک رات کو امیرہ بی بی اپنے گھر سے نکلی اور منزلیں طے کرتی ہوئی آخر کار دور دراز چاہ ستوری میں تری خان کے گھر پہنچی۔ تری خان کا والد ستوری خان یہ دیکھ کر سخت پریشان ہو گیا کیونکہ اس کا مختصر قبیلہ کٹی خیل قبیلہ کی دشمنی مول نہیں لے سکتا تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے بیٹے تری خان کو بولا کہ اس لڑکی کو عزت کے ساتھ گھر چھوڑ آو لیکن تری خان اس کے ساتھ شادی کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ باپ نے تری خان کے سامنے شرط رکھی کہ یا اس گھر میں تم رہو گے یا یہ لڑکی۔ یہ سن کر تری خان نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ جاتے جاتے والد نے اسے پشتو میں دعا (یا بدعا) دی کہ" پہ گنڈہ پُر اوسے (یعنی تیری اولاد کثیر ہو)، سر دَ لہ بدئ مہ اوخیزہ (یعنی دشمنی سے تجھے چھٹکارا نہ ملے) پہ دولس تُمنہ کښے دَ طُرہ اوچتہ اوسہ (یعنی بارہ قبیلوں میں تیری شان نمایاں ہو)"۔ اسے اپنے والد کی یہ بات اتنی پسند آئی کہ اس نے اپنا نام تری خان سے تبدیل کرکے "گنڈہ پور" رکھ لیا۔ چنانچہ اسی دن سے یہ گنڈہ پور مشہور ہو گیا۔ وہ چاہ ستوری سے ہجرت کر کے اپنے ننھیال کے علاقہ شیرانی میں آباد ہو گیا۔

ایک اور روایت بتاتی ہے کہ ٹیری خان یا تری خان عُرف گنڈہ پور نے ایک لڑکی گل اندامہ سے شادی کی۔ گل اندامہ کا تعلق ایک مخالف قبیلے سے تھا اور اس لیے ٹیری خان کو اپنی بیوی کے قبیلے سے انتقام سے بچنے کے لیے ہجرت کرنا پڑی۔ اس کے والد ستوری خان نے اس شادی کی مخالفت کی لیکن کافی سمجھانے کے باوجود جب وہ نہ مانا تو والد نے اسے الوداع کہا اور اس کے لیے "گنڈہ پورہ" یا گنڈا پور (پشتو الفاظ جس کے معنی "گنڈہ" یعنی بیگ یا نیفہ اور "پور" بمعنی مکمل یا بھرا ہوا) کے طور پر دعا کی اور اس کا مطلب تھا "تیری خان کو ہمیشہ ہر طرح کی نعمتیں حاصل ہوں اور اس کی اولاد کثیر ہو" اور اس لیے یہ اس کی خصوصیت بن گیا۔ اس وجہ سے تیری خان بعد میں گنڈہ پور کے نام سے مشہور ہوا۔ گنڈہ پور کا اصل نام ٹیری خان یا تری خان تھا۔ ان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ بیٹوں اور بیٹیوں کے نام درج ذیل ہیں۔

#یعقوب خان (ان کی اولاد یعقوب زئی کے نام سے مشہور ہے)

#ابراہیم خان (ان کی اولاد ابراہیم زئی کے نام سے مشہور ہے)

گنڈہ پور کے علاقے کا مشہور کلاچی وال خربوزہ

#حسین خان (ان کی اولاد حسین زئی کے نام سے مشہور ہے)

#درے پلارہ (اس کی اولاد معلوم نہیں ہے)

#خوبائی، گنڈہ پور کی بیٹی۔ (اس کی اولاد خوبی زئی اور خوبائی کے بیٹے کمال خان کی اولاد کمال خیل کے نام سے مشہور ہے)۔[3]

خڈل لووان کا واقعہ ترمیم

لووان ایک چھوٹا سا پشتون قبیلہ ہے جو شمال مغربی بلوچستان کے ضلع ژوب کے مغرب میں قمردین کاریز اور اس کے آس پاس رہتا ہے۔ گنڈہ پور اپنے خانہ بدوش زندگی کے معمول کے سالانہ چکر میں غزنی سے ڈیرہ اسماعیل خان جاتے ہوئے اس علاقے سے گزرتے تھے۔

خڈل لووان 16ویں صدی عیسوی میں لووان قبیلے کا سردار تھا اس نے اپنے علاقہ میں خانہ بدوش قبائل کے راستے میں ایک تنگ درے میں لیٹ گیا اور مطالبہ کیا کہ اس درے سے گزرنے والے مختلف قبائل کی جوان لڑکیاں آئیں اور اسے اپنی شالوں میں اٹھائیں۔ یہ بہت ذلت آمیز مطالبہ تھا اور کوئی بھی قبیلہ اس کو مان نہیں سکتا تھا۔ جب گنڈا پور تنگ درے پر پہنچے تو انھوں نے خڈل لووان کو پاس میں پڑا پایا۔ جب طویل مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہ نکلا تو گنڈا پور کے کچھ نوجوان لڑکیوں کا بھیس بدل کر خواتین کی شالیں پہن کر خڈل کے پاس پہنچے۔ بظاہر وہ اسے اپنی شالوں میں اٹھانے آئے تھے لیکن انھوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔

خڈل لووان کی موت کی وجہ سے لووان قبیلے سے ان کی دشمنی ہوگئ اور غزنی سے ڈیرہ اسماعیل خان تک کا راستہ اب محفوظ نہیں رہا۔ جس کی وجہ سے قبیلہ دو حصوں میں بٹ گیا۔ قبیلے کا ایک حصہ دامان، تحصیل کلاچی، ڈیرہ اسماعیل خان میں آباد ہوا اور دوسرا حصہ افغانستان کے شہر غزنی میں اپنے اصل ٹھکانے میں رہا۔ دونوں مقامات کے درمیان 450 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ اور راستے میں آباد دشمن قبیلے نے قبیلے کو تقسیم کر دیا۔ تقریباً ساڑھے چار صدیوں کے عرصے میں گنڈا پور قبیلے کے دونوں حصوں کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں ہے۔[4]

گنڈہ پور یا افغان پور ترمیم

جب عظیم افغان بادشاہ اور جنگجو احمد شاہ ابدالی نے تمام پشتون قبائل کو اکٹھا کیا اور اس وقت افغانستان اور پاکستان پر مشتمل علاقے کا ایک بڑا حصہ فتح کیا تو گنڈہ پور بھی اس کی فوج کا حصہ تھے۔ روایت ہے کہ فوج میں شامل فارسی بولنے والے سپاہی لفظ گنڈہ پور میں حرف "ڈ" کا تلفظ "د" کے طور پر کرتے تھے جس سے لفظ "گنڈہ" لفظ "گندہ" بن جاتا تھا۔ (کیونکہ فارسی میں حرف "ڈ" نہیں ہے) جب احمد شاہ ابدالی کو اس حقیقت کا علم ہوا تو اس نے گنڈہ پور کا نام بدل کر ’’افغان پور‘‘ رکھ دیا۔ لیکن اس وقت کے گنڈہ پوروں کو یہ نام پسند نہ آیا اور اپنا نام گنڈہ پور ہی رہنے دیا۔ احمد شاہ ابدالی کے دور میں گنڈہ پور کو بہت عزت دی جاتی تھی۔

قبیلے کا سائز ترمیم

پاکستان میں رہنے والے گنڈہ پور زیادہ تعداد میں نہیں ہیں۔ وہ تحصیل کلاچی کے شمالی حصے میں آباد ہیں۔ گنڈہ پور کے زیر قبضہ علاقہ مروت قبائل کے زیر قبضہ علاقے کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ گنڈہ پور کی آبادی 70,000 سے لے کر 90000 کے درمیان ہو سکتی ہے۔ لیکن ان کا اثر و رسوخ ان کی آبادی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

اندازوں کے مطابق افغانستان میں رہنے والے گنڈاپور کی تعداد بھی 30000 سے 40000 کے درمیان ہو سکتی ہے۔ وہ افغانستان کے ضلع غزنی میں رہتے ہیں جہاں وہ اپنے آپ کو ترہ کئی قبیلے سے جوڑتے ہیں۔

افغانستان اور پاکستان میں رہنے والے گنڈا پوروں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے۔[5]

ذیلی شاخیں ترمیم

قبیلے کو مزید ذیلی شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ پتہ لگانا ممکن نہیں ہے کہ یہ ذیلی شاخیں ایک دوسرے سے کس طرح جُڑے ہوئے ہیں۔ یہ وہ ذیلی قبائل ہیں جو اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے تحصیل کلاچی میں آباد ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان ذیلی قبائل میں سے کچھ گنڈہ پور کے اصل نسب کا حصہ نہ ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ گنڈہ پوروں کے ساتھ ایک مدت تک رہنے کے بعد میں شامل ہو گئے ہوں۔

شاخوں کی فہرست

*علی زئی (انھیں ڈیرہ اسماعیل خان کے علی زئی سے نہ ملایا جائے)

*اللہ داد خیل

*بہادر خیل

*برہ خیل

*بہلول خیل

*بازید خیل

*حافظ خیل

ہمڑ (یہ گنڈا پور کے بھائی یا کزن ہیں)

*حسین زئی

*ابراہیم زئی

مڈی گیٹ کلاچی

*اختیار خیل

*کمال خیل

*خدر خیل

*خواجی خیل

* مانی خیل

*ملنگ خیل

*موسیٰ زئی

مریڑہ (گنڈا پور کے بھائی یا کزن)

*نکندر زئی

*نتھو زئی

*صفر زئی

*شخی (شخی ترائی یا گنڈہ پور کا بھائی تھا)

*شہزاد خیل

*عثمان خیل

یاخیل (یا یحییٰ خیل)

*یعقوب زئی

*جعفر زئی

*ضحاک زئی

کچھ ذیلی قبائل اگرچہ گنڈا پور کے ساتھ رہتے ہیں لیکن اصل شاخ کا حصہ نہیں سمجھے جاتے، وہ درج ذیل ہیں:

*غورَنی

*مڑہیل

*رانہ زئی

افغانستان میں گنڈا پور کو ترہ کئی قبیلے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔[6]

گنڈہ پور کی موجودہ ریاست ترمیم

گنڈہ پور دوسرے پشتون قبائل کے مقابلے میں ایک چھوٹا قبیلہ ہے۔ ان کا بنیادی مرکز تحصیل کلاچی کے شمالی حصے میں ہے جہاں ہر ذیلی قبیلے کو زمینوں کا بڑا حصہ الاٹ کیا گیا تھا۔ گنڈا پوروں کی ایک بڑی تعداد ڈیرہ اسماعیل خان، ژوب اور لورالائی میں بھی رہتی ہے۔ پشاور، اسلام آباد اور کوئٹہ میں کچھ پڑھے لکھے اور امیر گھرانے بھی آباد ہیں۔ چونکہ ان کی زمینیں زیادہ تر بنجر ہیں، وہ زیادہ امیر لوگ نہیں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ غربت کے چنگل سے نجات کا واحد ذریعہ تعلیم ہے۔ ان کا شمار پشتونوں کے باصلاحیت قبیلوں میں ہوتا ہے۔[7]

گنڈہ پور کے دیہات ترمیم

گنڈہ پوروں کے بڑے دیہات میں کلاچی کے علاوہ لونی، روڑی، مڈی، ٹکواڑہ، ملنگ، کنوڑی، کوٹ ظفر بالادستی (کوٹ کنڈیاں)، سلطان کوٹ، ، کوٹ اٹل، ہتھالہ وغیرہ شامل ہیں۔

قابل ذکر لوگ ترمیم

چونکہ گنڈہ پور پانی کی کمی کی وجہ سے سب سے زیادہ بنجر زمینوں پر کلاچی میں رہتے ہیں، اس لیے تعلیم ہی ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن ہونے کا واحد ذریعہ ہے۔ گنڈہ پوروں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی شناخت بنائی ہے اور تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد کا تناسب ان کی کل آبادی کے مقابلے جنوبی سرحد کے کسی بھی قبیلے سے زیادہ ہے۔ چند اہم شخصیات درج ذیل ہیں؛

ذہانت ترمیم

  • مامون طارق خان: مواصلاتی ٹیکنالوجی کے موجد Moonitinآرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ moonitin.com (Error: unknown archive URL) 1993 میں، اس نے بغیر کسی غلطی کے 52 تجریدوں کو یاد کرنے کا تیز ترین وقت کا رفتار کا ریکارڈ توڑا۔ ایسا کرتے ہوئے، وہ 52 سیکنڈ (44.62 سیکنڈ) سے بھی کم وقت میں 52 تجریدات حفظ کرنے والے پہلے شخص تھے۔ ویب گاہ کا حوالہ دیتے ہوئے چونکہ عالمی ریکارڈ گنیز بک میں صرف وقت پر مبنی دماغ/یادداشت کی افادیت کا ریکارڈ ہے، اس لیے اس کا عالمی ریکارڈ تمام انفرادی انسانی کامیابیوں کے ریکارڈز میں سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اس طرح اسے "دنیا میں بہترین برقرار رکھنے والا دماغ والا آدمی" کا اعزاز دیا جاتا ہے۔

سیاست ترمیم

* نور محمد تراکئی: کمیونسٹ انقلاب کے بعد افغانستان کے صدر رہے۔ انھوں نے افغان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ وہ ایک عظیم ادبی شخصیت بھی تھے۔ اس کا تعلق تراکئی کے شبی خیل قبیلے سے تھا جو درحقیقت گنڈہ پور ہیں جو خدال لوان کی موت کے بعد افغانستان میں ہی رہے۔

*نورنگ خان: وہ 19ویں صدی عیسوی کے دوسرے نصف میں ابراہیم زیس کا سردار تھا ڈیرہ اسماعیل خان ضلع 1882-83 کے گزٹیئر کے مطابق، نورنگ خان نے " کئی خدمات انجام دی" اور ہندوستان میں ملتان کے مقام پر برطانوی افواج کو بچایا۔ جنگ آزادی 1875 میں بنوں کے قریب مروت کے علاقے میں انھیں جاگیر سے نوازا گیا اور اس گاؤں کا نام سرائے نورنگ رکھا گیا۔ ان کی مسلم دشمن خدمات اور برطانوی سلطنت کے ساتھ وفاداری کے باعث مسلمان متقی لوگوں نے ان پر لعنت بھیجی۔ لعنت اب بھی جاری ہے اور اس کے خاندان کا ہر فرد تمام نسلوں میں بے گناہ ہے۔

* سردار اورنگ زیب خان: وہ 1947 کی مسلم حکومت سے پہلے شمال مغربی سرحدی صوبے کے وزیر اعلیٰ تھے۔یہ وہی تھے جنھوں نے 23 مارچ 1940 کو شمال مغربی سرحدی صوبہ مسلم لیگ کی نمائندگی کرتے ہوئے قرارداد پاکستان کی توثیق کی۔

*سردارعنایت اللہ خان: 27 اگست 1919 کو کلاچی میں پیدا ہوئے، اپنے ٹیکسن لباس کے لیے مشہور، 1973 سے 1975 تک شمال مغربی سرحدی صوبے کے وزیر اعلیٰ رہے اور ریونیو، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، ٹرانسپورٹ، کے مختلف محکموں پر فائز رہے۔ 1970 سے 2005 تک قانون اور پارلیمانی امور، مواصلات اور کام، آبپاشی، خزانہ، زراعت۔ وہ اپنے سیاسی کیرئیر میں ہمیشہ آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہوتے تھے۔ وہ اپنی سیاسی دیانتداری کے لیے مشہور تھے اور ان کے پاس وراثت میں ملنے والی جائداد، خاندانی گھر اور 1970 کی لینڈ کروزر جیپ 4 وہیلر کے علاوہ کوئی دوسرا اثاثہ نہیں تھا، جس کی ایک خصوصی نمبر پلیٹ تھی اس پر پشاور کا پہلا نمبر تھا (PR-1) جس کے ذریعے اس نے کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اپنے آبائی شہر کلاچی سے مکہ تک سڑک کے ذریعے حج کیا۔ وہ شمال مغربی سرحدی صوبے کی پارلیمنٹ کے سب سے معمر رکن تھے اور 28 اپریل 2005 کو 86 سال کی عمر میں پارلیمنٹ کے رکن ہوتے ہوئے انتقال کر گئے، اپنے پیچھے 6 بیٹیاں اور 3 بیٹے چھوڑ گئے۔

ادب ترمیم

  • عطا اللہ خان: 20ویں صدی کے فارسی شاعر اور عالم۔ ان کا تعلق گنڈہ پور کے ذیلی قبیلے بہادر خیل سے ہے۔ وہ علی گڑھ میں تعلیم یافتہ تھے اور ڈی آئی خان کے علاقے میں پریکٹس کرنے والے مشہور وکیل تھے۔ صدر غلام اسحاق خان نے ان کے ماتحت لا اپرنٹس شپ کی۔
  • شیر محمد خان: 19ویں صدی کے نصف آخر میں "پشتون کی تاریخ" کے مصنف۔ شیر محمد خان گنڈا پور محمد جمیل حنفی انسائیکلوپیڈیا ایرانیکاآرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ khyber.org (Error: unknown archive URL)

فقیر نور محمد رحمۃ اللہ علیہ: حضرت فقیر نور محمدآرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ bahu.co.za (Error: unknown archive URL) عظیم صوفی اور مختلف کتابوں کے مصنف۔ وہ معروف صوفی حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کی تشریح کے ماہر تھے۔ انھوں نے حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی تحریر کردہ اہم تحریر رسالہ روحی کا اردو میں ترجمہ کیا۔ روح کی کتاب از حضور سلطان باہو (رضی اللہ عنہ) طاہر کلاچوی: فقیر نور محمد کا بیٹا۔ اہم پشتو شاعر۔ ان کی ادبی خدمات پر پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔

کھیل ترمیم

* امان اللہ خان گنڈہ پور: عطا اللہ خان کے بیٹے (ادب میں اوپر دیکھیں)، پنجاب یونیورسٹی، علی گڑھ یونیورسٹی، محمڈن اسپورٹنگ کے لیے فٹ بال/ساکر کھیلا اور آل انڈیا فٹ بال ٹیم کا ایک اہم فل بیک تھا۔

* عبد الرشید جونیئر: 1960 میکسیکو اولمپکس کا سب سے زیادہ ہاکی گول اسکورر اور تینوں اولمپک تمغوں کا فاتح: گولڈ، سلور اور برونز۔

* عبد الحمید حمیدی: 1960 میں پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان، پاکستان کا پہلا اولمپک گولڈ میڈل جیتنے والے۔ 4 اولمپک کھیلوں کا تجربہ کار۔

* انعام اللہ خان گنڈا پور: 1993 کے ڈھاکہ SAF گیمز کے فری پسٹل ایونٹ میں دو گولڈ میڈل جیتنے والا۔ [http://jang.com.pk/thenews/jul2008-weekly/nos-27-07-2008/spo.htm][8]

قبیلے کا مستقبل[9] ترمیم

اس قبیلے کا مستقبل آس پاس رہنے والے دیگر قبائل سے زیادہ روشن ہے۔ ان کی عدم پیشی کی بنیادی وجوہات میں غربت، تجارت، اندرونی جھگڑے اور قبیلے کی سیاسی چالبازیاں ہیں۔

حوالہ جات ترمیم

مزید پڑھنے

گنڈہ پور کے علاقوں کی تاریخ کے حوالے سے اہم ترین ذرائع درج ذیل ہیں۔

  • "تاریخ پشتون (پشتون کی تاریخ)" از شیر محمد خان ابراہیم زئی گنڈا پور۔ یہ اصل میں بھوپال کی بیگم کے لیے "خورشید جہاں" (دنیا کا سورج) کے عنوان سے فارسی میں لکھی گئی کتاب ہے۔ یہ کتاب 80 کی دہائی میں شیر محمد خان کے پڑپوتے علاؤ الدین خان گنڈہ پور نے اردو کے تحقیقی مصنف جمیل جالبی کے ساتھ مل کر شائع کی تھی جنھوں نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ سراج الدین علوی نے کیا تھا۔ یہ کتاب 19ویں صدی کے نصف آخر میں لکھی گئی۔
  • "تاریخ گنڈہ پور (گنڈہ پور کی تاریخ)" از قادر داد خان گنڈہ پور۔ یہ کتاب بنیادی طور پر شیر محمد خان کی تاریخ پشتون (پشتون کی تاریخ) سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ یہ کتاب 70 کی دہائی میں لکھی گئی تھی اور بیسویں صدی کے وسط میں گنڈہ پور اور ان کے قصبے کلاچی کے بارے میں بھی قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے۔
  • "ضلع ڈیرہ اسماعیل خان (1882-83) کا گزٹیئر" گنڈہ پوروں اور ان کے علاقوں کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرتا ہے۔ یہ 19ویں صدی کے نصف آخر کے گنڈا پوروں کے بارے میں سب سے مستند ماخذ میں سے ایک ہے۔ یہ گنڈہ پور کی آبادی اور ان کے علاقے کے حوالے سے مختلف اعدادوشمار فراہم کرتا ہے۔

بیرونی روابط

٭

وکیمیڈیا فاؤنڈیشن۔ 2010.

Нужно решить контрольную؟

  1. "Academic"۔ Academic Dictionaries And Encyclopedia۔ Academic۔ اخذ شدہ بتاریخ 22.10.2022 
  2. "Gandapur" [مردہ ربط]
  3. Rana Zai Qadir Dad Khan (1975)۔ Tarikhe Gandapur۔ Hameedia Press Peshawar۔ صفحہ: 23 & 58 
  4. Rana Zai Qadir Dad Khan (1975)۔ تاریخ گنڈہ پور۔ Hameedia Press Peshawar۔ صفحہ: 66 67 
  5. Rana Zai Qadir Dad Khan (1975)۔ Tarikh e Gandapur۔ Hameedia Press Peshawar۔ صفحہ: 85–86 
  6. "School & College Listing"۔ صفحہ: 1 
  7. Gandpar Aminullah Khan Gandpar۔ Aminullah Khan Gandpar, Tarikh-i-Sar Zamin-i-Gomal, National Book Foundation Islamabad, page 45.۔ National Book Foundation Pakistan 
  8. Rahman MIr Khali۔ "Sports"۔ The Daily Jang۔ Jang Group 
  9. Dervi Misri Khan (2007)۔ Gandapurs۔ Boos Books