1946 میں کلکتہ میں یوم راست اقدام کے موقع پر ہلاک اور زخمی ، اس کے بعد کلکتہ میں بڑے پیمارے پر فسادات پھوٹ پڑے

یوم راست اقدام (بنگالی: প্রত্যক্ষ সংগ্রাম দিবস16 اگست 1946ء) کو کلکتہ کے بے تحاشا قتل و غارت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس دن کلکتہ، جسے اب کولکتہ کہا جاتا ہے، میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم بنگال کی وجہ سے خونریز فسادات پھوٹ پڑے تھے۔[1]۔ مسلم لیگ کی کونسل نے اپنے مقاصد کے حصول یعنی قیام پاکستان کے لیے یوم راست اقدام کا اعلان کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان کی تاریخ کے بدترین فسادات شروع ہوئے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Burrows، Frederick (1946). Report to Viceroy Lord Wavell. The British Library IOR: L/P&J/8/655 f.f. 95, 96–107.