ابن دَرُستَویہابو محمد عبداللہ بن جعفر بن دَرُستَویہ بن معرزبان الفارسی الفَسَوِی (پیدائش: 872ء— وفات: 16 مئی 958ءّ) چوتھی صدی ہجری میں عربی زبان کے عالم، مصنف ، محدث، لغوی اور نحوی تھے۔

ابن درستویہ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 872  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فسا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 958 (85–86 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Iran.svg ایران  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فرہنگ نویس  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانحترميم

نام و نسبترميم

ابن درستویہ کا نام عبداللہ بن جعفر، کنیت ابو محمد اور شہرت ابن درستویہ سے ہے۔ والد کا نام جعفر بھی درستویہ بن معرزبان ہے۔ شہر فسا سے تعلق کی بناء پر فَسَوِی کہلاتے ہیں جبکہ نسلاً فارسی ہیں۔ نام درستویہ دو فارسی الفاظ ’’درست‘‘ اور ’’ویہ‘‘ کا مرکب ہے اور نسبت فارسی اور فَسَوِی مولد و مسکن کی بناء پر ہے۔ ابن درستویہ کے والد جعفر اپنے زمانہ کے نامور اور معروف محدثین میں سے تھے [1]۔ جعفر نے علی بن محمد المدائنی اور اُس زمانے کے دوسرے محدثین سے روایت کی ہے۔

پیدائشترميم

ابن درستویہ کی پیدائش 258ھ مطابق 872ء میں شہر فسا میں ہوئی جو اُس وقت شیراز سے بھی بڑا اور خوشگوار آب و ہوا والا شہر تھا۔[2]

تحصیل علمترميم

ابن درستویہ ابھی کم عمر ہی تھے کہ اُنہوں نے اپنے والد گرامی کے ساتھ مختلف محدثین کی خدمت میں حاضری دینے اور تحصیل علم حدیث کا سلسلہ شروع کردیا۔ [3] جب پندرہ سال عمر ہوئی تو اپنے والد کے ہمراہ بغداد آگئے اور وہاں کے محدثین عباس بن محمد الدوزی، یحییٰ بن ابی طالب، عبدالرحمٰن بن محمد کریزان اور محمد بن الحسین الحسینی سے ملاقات کی اور اُن سے حدیث پڑھی۔ علاوہ ازیں اُنہوں نے اُس دور کے ماہرین لغت و ادب ثعلب نحوی (متوفی 291ھ) ، محمد بن یزید المبرد (متوفی 210ھ) اور ابن قتیبہ دینوری کو دیکھا اور اُن سے استفادہ کیا۔ ابن درستویہ نے ابن قتیبہ دینوری سے باقاعدہ تعلیم تو حاصل نہیں کی مگر اُن کی ذات ابن درستویہ کے لیے دلچسپی کا باعث ضرور بنی۔[4]

وفاتترميم

ابن درستویہ بچپن ہی میں اپنے والد کے ساتھ اپنے آبائی شہر فسا سے نقل مکانی کرکے بغداد چلے گئے تھے اور تا دمِ آخر اُنہوں نے وہیں 24 صفر 347ھ مطابق 16 مئی 958ء کو وفات پائی۔

حوالہ جاتترميم

  1. ابن خلکان: تاریخ ابن خلکان، جلد 3، صفحہ 44۔
  2. خطیب بغدادی: تاریخ بغداد، جلد 9، صفحہ 428۔
  3. شمس الدین ذہبی: سیر اعلام النبلاء، جلد 15، صفحہ 531/532۔
  4. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد 1 تکملہ، صفحہ 143۔