ابوالحسن علی غزنوی

ابو الحسن علی غزنوی سلطنت غزنویہ کے دسویں سلطان تھے۔ یہ سلطان مسعود غزنوی کے بیٹے تھے۔ ان کی مدت حکومت دو سال ہے۔ ان کا اقتدار ان کے چچا عبد الرشید نے ختم کیا تھا جس کے بعد وہ خود سلطان بن گیا تھا۔


ابوالحسن علی غزنوی
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 1050  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد مسعود غزنوی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
سلطان سلطنت غزنویہ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
1048  – 1049 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png مسعود ثانی 
عزالدولہ عبدالرشید غزنوی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

تخت نشینیترميم

باستگین حاجب جو سلطان محمود غزنوی کے امرا میں سے تھا وہ چار سالہ سلطان ابو جعفر مسعود غزنوی کی جانشینی کو نا پسند کیا اور علی بن ربیع سے اختلاف کیا۔ اس اختلاف کی وجہ سے باستگین حاجب اور علی بن ربیع کے درمیان جنگ ٹھن گئی۔ غزنی کے قریب سبھی لوگ مسلح ہو کر باستگین حاجب کے دروازے پر جمع ہو گئے۔ اس زمانے میں سلطان مسعود غزنوی کا بیٹا ابو الحسن علی غزنوی ہی غزنی میں موجود تھا۔ علی بن ربیع نے یہ سوچ کر کے ابو الحسن علی ہی اپنے بھتیجے سلطان ابو جعفر مسعود کا دشمن بن کر اس کی بنائی ہوئی حکومت کو تہ و بالا کر سکتا ہے۔ اس لیے اس نے ابو الحسن علی غزنوی کو تباہ و برباد کرنے کا پروگرام بنایا۔ جب ابو الحسن علی کو علی بن ربیع کے ارادوں کی خبر ہوئی تو اس نے جان بچانے کے لیے باستگین حاجب کے ہاں پناہ لے لی۔ جب ابو الحسن علی غزنوی باستگین حاجب کے پاس چلا گیا تو باستگین نے تمام امرا سلطنت سے مشورہ کر چار سالہ سلطان کو معزول کر دیا اور اس کی جگہ اس کے چچا ابو الحسن علی غزنوی کو سلطان بنا دیا۔ [1] بعض مورخین کے نزدیک مسعود دوم کو معزول نہیں کیا گیا بلکہ ان کی والدہ سے امرائے سلطنت سے مشورہ کر کے اسے تخت سے دستبردار کر کے اس کے چچا ابو الحسن علی غزنوی کو سلطان بنا دیا گیا کیونکہ مودود کی بیوہ نے اپنے دیور ابو الحسن علی سے نکاح کر لیا تھا۔ [2] ابو الحسن علی غزنوی نے یکم شعبان بروز جمعہ غزنی کی عنان حکومت سنبھال لی تھی اور اسی دن سلطان مودود غزنوی کی بیوہ سے نکاح کر لیا تھا۔

رعایا پر نوازشاتترميم

ابو الحسن علی غزنوی بر سر اقتدار آنے کے بعد اپنے دو بھائیوں مروان غزنوی اور ایزد غزنوی کو جو نائی قلعہ میں قید تھے وہاں سے بڑی عزت و احترام سے رہا کیا اور اپنے پاس عزنی میں رکھ لیا۔ عبد الرشید بن سلطان محمود غزنوی کے خروج کی وجہ سے سلطان ابو الحسن علی غزنوی نے خزانے کے دروازے رعایا کے لیے کھول دیے تھے۔ سپاہیوں پر لطف و کرم کی بارش کر دی۔

معزولیترميم

ابو الحسن کو غزنی میں اپنے چچا عبد الرشید بن سلطان محمود غزنوی کے خروج کی خبریں برابر آ رہی تھی۔ سلطان کو اپنی جان اور اپنی حکومت کا خطرہ تھا۔ آخر کار عبد الرشید غزنی میں آیا تو اس نے سلطان ابو الحسن علی کو شکست دے کر خود سلطان بن گیا۔ کچھ عرصہ تک عیش و عشرت کرنے والا سلطان ابوالحسن علی غزنوی نے دو سال تک حکومت کرنے کے بعد فقیری اختیار کر لی تھی۔ [3]

حوالہ جاتترميم

  1. تاریخ فرشتہ تالیف محمد قاسم فرشتہ اردو متراجم عبد الحئی خواجہ جلد اول صفحہ 114
  2. ہندوستان کے مسلمان فاتح و تاجدار مولف سید محمد عمر شاہ صفحہ 51 اور 52
  3. تاریخ فرشتہ تالیف محمد قاسم فرشتہ اردو متراجم عبد الحئی خواجہ جلد اول صفحہ 114