ابو اسحاق ابراہیم الفزاری

حضرت ابو اسحاق ابراہیم الفزاریؒ
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 8ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 804 (3–4 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مورخ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام ونسبترميم

ابراہیم نام،ابو اسحاق کنیت،مکمل شجرۂ نسب یہ ہے،ابراہیم بن محمد بن ابی حصن الحارث بن اسماء بن خارجہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر [1]نام کے بجائے کنیت ہی سے زیادہ مشہور ہیں،قبیلہ بنو فزارہ سے نسبت ولاء رکھنے کی وجہ سے فزاری کہلائے۔ [2] مات ابو اسحاق الفزاری وما علیٰ وجہ الارض افضل منہ [3] ابو اسحاق الفزاری نے وفات پائی تو پورے روئے زمین پر ان سے بڑا فاضل کوئی نہ تھا۔ حافظ ابن کثیر رقمطراز ہیں: ابو اسحاق الفزاری امام اھل الشام بعد الاوزاعی فی المغازی والعلم والعبادۃ [4] امام اوزاعی کے بعد شام میں ابو اسحاق الفزاری مغازی،علم اور عبادت میں درجۂ امامت رکھتے تھے۔ علامہ ابن عساکر دمشقی ؒ لکھتے ہیں: احد ائمۃ المسلمین واعلام الدین [5]

شیوخ وتلامذہترميم

جن اساطین علم سے انہوں نے فیض حاصل کیا ان میں امام اعمش،ہشام بن عروہ،ابواسحاق السبیعی،حمید الطویل ،موسیٰ بن عقبہ،یحییٰ بن سعید،مالک بن انس،شعبہ،سفیان ثوری،عطاء بن السائب اور عبید اللہ بن عمر کے اسماء لائق ذکر ہیں۔ اور اسی طرح معاویہ بن عمر،زکریا بن عدی،عبداللہ بن مبارک،محمد بن کثیر،مسیب بن واضح،محمد بن سلام،عبداللہ بن عون،محمد بن عبید الرحمن اور علی بن بکاران کے نامور تلامذہ میں ہیں۔

حدیثترميم

یوں تو وہ جملہ اسلامی علوم میں کمال رکھتے تھے؛ لیکن حدیث نبوی ان کا خاص موضوع تھا،اسانید اوراسماء الرجال کی معرفت میں ان کی نظیر بہت کم ملتی ہے،ایک مرتبہ خلیفۂ وقت ہارون الرشید نے ایک بددین کے قتل کئے جانے کا حکم دیا، اس نے کہا اے امیر المومنین آخر آپ میرے قتل کا حکم کیوں دیتے ہیں،ہارون نے جواب دیا،اللہ کے بندوں کو تیرے فتنے سے بچانے کے لئے، اس پر وہ زندیق بولا،آپ مجھے قتل کرکے کیا کریں گے میں نے جو چار ہزار روایات وضع کرکے عوام میں پھیلادی ہیں،ان کا آپ کے پاس کیا علاج ہے؟ ہارون نے فوراً کہا: این انت یا عدواللہ من ابی اسحاق وعبداللہ ابن مبارک یخلافھا فیخرجا نھا حرفاً حرفاً[6] اے دشمنِ خدا تو ہے کس خیال میں !ابو اسحاق الفزاری اورعبداللہ بن مبارک ان تمام جعلی حدیثوں کو چھلنی میں چھانیں گے اوران کا ایک ایک حرف نکال باہر کریں گے۔ امام جرح وتعدیل عبدالرحمن بن مہدی فرماتے ہیں کہ ہر عالم کسی نہ کسی فن میں درجہ امتیاز رکھتا ہے؛چنانچہ میں نے بصرہ میں حماد بن زید، کوفہ میں زائدہ ومالک بن مغول،حجاز میں مالک بن انس،اورشام میں ابو اسحاق الفزاری واوزاعی سے بڑا حدیث کا نکتہ شناس کسی کو نہیں دیکھا،اگر کوئی راوی ان سے حدیث بیان کرے تو بلا ریب وشک وہ قابل اطمینان ہے؛کیونکہ یہ لوگ سنت کے امام ہیں۔[7]

فقہترميم

حدیث کے ساتھ فقہ میں بھی کمال حاصل تھا،علی بن بکار کہتے ہیں کہ میں جن ائمہ علم وفن سے مل سکا ہوں ان میں ابو اسحاق الفزاری سے بڑا فقیہ میری نظر سے نہیں گزرا، [8] عجلی کابیان ہے کہ وہ کثرت حدیث کے ساتھ صاحب فقہ بھی تھے۔ [9]

جرح وتعدیلترميم

اکثر علماء نے ان کی ثقاہت وعدالت کو تسلیم کیا ہے، عجلی بیان کرتے ہیں کہ وہ ثقہ، فاضل اورصاحبِ سنت تھے [10] امام نسائی اور ابو حاتم انہیں امام معتبر قرار دیتےہیں [11]علاوہ ازیں یحییٰ بن معین اورابنِ حبان وغیرہ نے بھی ان کی توثیق کی ہے [12]امام اوزاعی ان کے شیوخ میں شامل ہیں،لیکن اس کے باوجود ان سے روایت کرتے ہیں ،جب ان سے پوچھا جاتا کہ آپ سے یہ روایت کس نے بیان کی ہے تو فرماتے: حدثنی الصادق المصدوق ابو اسحان الفزاری [13] مجھ سے صادق اورمصدوق،ابو اسحاق الفزاری نے یہ حدیث روایت کی ہے۔

سرحد شام کی پاسبانیترميم

مصیصہ شام کا ایک نہایت خوبصورت شہر ہے جس کی حفاظت ونگرانی کے فرائض علماء اسلام کی ایک بڑی جماعت نے انجام دئے ہیں،ابو اسحاق الفزاری بھی اس شرف سے بہرہ ور ہوئے تھے، انہوں نے وہاں نہ صرف اپنے ایک لائق محافظ ہونے کا ثبوت دیا ؛بلکہ اس سرحدی علاقہ کو قال اللہ وقال الرسول کے سرمدی نغموں سے بھی معمور کردیا،عجلی کا بیان ہے کہ ھوالذی ادب التضر وعلمھم بالسنۃ [14] ان ہی نے سرحدی لوگوں کو با ادب بنایا اورانہیں حدیث کی تعلیم دی۔

پاکیز گی عقائدترميم

عقائد کے بارے میں وہ نہایت متشدد تھے؛چونکہ خود ان کا آئینہ قلب شفاف تھا، اس لئے وہ اسی کا پرتو دوسروں میں بھی دیکھنے کے متمنی رہا کرتے تھے،اہل بدعت سے ملنا تک گوارا نہ فرماتے،ابو مسہر بیان کرتے ہیں کہ ابو اسحاق الفزاری ومشق میں آ ئے تو تشنگان علم گروہ درگروہ ان سے سماع حاصل کرنے کے لئے ٹوٹ پڑے،شیخ نے مجھ سے فرمایا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ جو شخص قدریہ کے عقائد رکھتا ہو وہ ہماری مجلس میں نہ آئے، جو فلاں فلاں غلط عقائد کا حامل ہو وہ بھی ہماری مجلس میں شریک نہ ہوا، اسی طرح جو شخص حکمرانِ وقت کے یہاں آمد رفت رکھتا ہو وہ ہمارے پاس نہ آئے، راوی کا بیان ہے کہ میں نے حسب الحکم یہ بات لوگوں کے گوش گزار کردی۔[15] مصیصہ ہی کے دورانِ قیام میں ایک دن امام فزاری کو خبر ملی کہ فرقہ قدریہ کا کوئی شخص ان سے ملاقات کا خواہاں ہے،امام صاحب نے کہلا بھیجا کہ وہ فوراً یہاں سے چلا جائے[16] عقائد کے بارے میں ان کی شدت کا اندازہ اس سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ جب انہیں علم ہوتا کہ سرحد میں کوئی بدعتی شخص داخل ہوا ہے فوراً اسے شہر بدرکرادیتے۔[17]

امر بالمعروف ونہی عن المنکرترميم

دوسرے علماء سلف کی طرح امر بالمعروف ونہی عن المنکر ان کا خاص شیوہ تھا اور اس میں وہ کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے،اس تبلیغ ودعوت کے اثر سے اس وقت شہر مصیصہ میں شعائرِ اسلام کا بہت رواج ہوگیا تھا۔

استغناءترميم

امام فزاری کے پاس اگرچہ مال و دولت کی بڑی فراوانی تھی،لیکن ان کی بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ اس میں سے اپنی ذات پر کبھی ایک حبہ بھی صرف نہیں کیا،جو کچھ ملتا وہ یا تو معذور اوراپاہج لوگوں میں تقسیم کردیتے یا اہل طرطوس پر خرچ کردیتے، ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید نے ان کو تین ہزار دینار دیئے، فرمایا میں اس سے مستغنی ہوں اورکل رقم فوراً ہی خیرات کردی۔ [18]

بشارتترميم

حضرت فضیل بن عیاض بیان کرتے ہیں کہ ایک شب مجھے عالم ر ویا میں رسول اکرم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی میں نے آپ ﷺکے پہلو میں کافی جگہ دیکھی اور وہاں بیٹھنے کے ارادہ سے آگے بڑھا، رسول اللہ ﷺنے مجھے روک کر ارشاد فرمایا :ھذا مجلس الفزاری [19]یہ ابو اسحاق الفزاری کی نشست گاہ ہے۔

وفاتترميم

185ھ 186ھ یا 188 ھ میں بمقام مصیصہ رحلت فرمائی،علامہ یاقوت حموی نے مؤخرالذکر سالِ وفات کو اصح قرار دیا ہے،لیکن اکثر روایات سے 185ھ کی تائید ہوتی ہے [20]اس وقت ہارون الرشید کی خلافت کا زمانہ تھا،بیان کیا جاتا ہے کہ ان کی وفات کی خبر سُن کر یہوو ونصاریٰ تک فرط رنج والم سے اپنے سروں پر خاک اڑانے لگے،عطا کو جب ان کے انتقال کی اطلاع ملی تو روپڑے اور فرمایا: ما دخل اھل الاسلام من موت احد مادخل علیھم من موت ابی اسحاق [21] ابو اسحاق الفزاری کی موت سے مسلمانوں کے دلوں پر جو کچھ گزرگئی وہ کسی اور کے مرنے سے نہیں گزری۔

تصنیفترميم

تدریس حدیث کے ساتھ وہ صاحبِ تصنیف بھی تھے،ابن ندیم نے فہرست میں ان کی تصنیف کتاب السیر فی الاخبار والاحداث کا ذکر کیا ہے [22] اس کتاب کے متعلق حمیدی امام شافعی کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ اس کے قبل سیرت میں کسی نے کتاب تصنیف نہیں کی،ابن ندیم نے یہ بھی لکھا ہے کہ ابو اسحاق الفرازی اسلام کی پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے آلہ فلکی ایجاد کیا،اس فن میں ان کی تصنیف بھی ہے۔ [23]

حوالہ جاتترميم

  1. (تہذیب التہذیب:1/151،وطبقات ابن سعد:7/185)
  2. (اللباب فی تہذیب الانساب :2/213)
  3. (شذرات الذہب:1/130)
  4. (البدایہ والنہایہ:10/186)
  5. (التاریخ الکبیر:2/252)
  6. (معجم الادباء:1/285،وکتاب الموضوعات ملا علی قاری:13)
  7. (التاریخ الکبیر:2/254)
  8. (تذکرۃ الحفاظ:1/249)
  9. (تہذیب التہذیب:1/152)
  10. (طبقات ابن سعد:7/185)
  11. (تہذیب التہذیب:1152)
  12. (تہذیب التہذیب:1/153)
  13. (تہذیب التہذیب:1/153)
  14. (شذرات الذہب:1/ )
  15. (تذکرۃ الحفاظ:1/248)
  16. (التاریخ الکبیر:2/255)
  17. (معجم الادباء:1/284)
  18. (ایضاً:1/286)
  19. (تذکرۃ الحفاظ:1/248)
  20. (طبقاتِ ابن سعد:7/185، شذرات الذہب:1/307)
  21. (تاریخ ابن عساکر:2/255)
  22. (فہرست ابن ندیم:135)
  23. (الفہرست بحوالہ تہذیب التہذیب:1/152)