ہارون الرشید
(عربی میں: هَارُون الرَشِيد ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Harun Al-Rashid and the World of the Thousand and One Nights.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 17 مارچ 766  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رے  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 24 مارچ 809 (43 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طوس  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن عراق  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ زبیدہ بنت جعفر  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد امین الرشید، مامون الرشید، المعتصم باللہ  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد محمد المہدی  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ملکہ خیزران  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
خاندان خلیفہ خلافت عباسیہ (بغداد)  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
عباسی خلیفہ   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
14 ستمبر 786  – 24 مارچ 809 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png موسیٰ الہادی 
امین الرشید  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
استاذ شعبہ بن حجاج، معمر بن المثنى[1]  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہارون الرشید
Harun Al-Rashid and the World of the Thousand and One Nights.jpg
فارسی تصویر، ہارون رشید کی خیالی تصویر۔

ہارون الرشید (پیدائش: 763ء - انتقال: 24 مارچ 809ء) پانچویں اور مشہور ترین عباسی خلیفہ تھے۔ وہ 786ء سے 24 مارچ 809ء تک مسند خلافت پر فائز رہے اور ان کا دور سائنسی، ثقافتی اور مذہبی رواداری کا دور کہلاتا ہے۔ ان کے دور حکومت میں فن و حرفت اور موسیقی نے بھی عروج حاصل کیا۔ ان کا دربار اتنا شاندار تھا کہ معروف کتاب "الف لیلیٰ" شاید انہی کے دربار سے متاثر ہوکر لکھی گئی۔

ان کا دور ایک جائزہترميم

ہارون رشید تیسرے عباسی خلیفہ المہدی کے صاحبزادے تھے جنہوں نے 775ء سے 785ء تک خلافت کی۔ ہارون اس وقت خلیفہ بنے جب وہ عمر کے 22 ویں سال کے اوائل میں تھے۔ جس دن انہوں نے مسند خلافت سنبھالی اسی دن ان کی اہلیہ نے مامون الرشید کو جنم دیا۔ ہارون رشید کے دور میں عباسی خلافت کا دار الحکومت بغداد اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ انہوں نے بغداد میں نیا محل تعمیر کرایا جو اس سے قبل کے تمام محلات سے زیادہ بڑا اور خوبصورت تھا جس میں ان کا معروف دربار بھی تھا جس سے ہزاروں درباری وابستہ تھے۔ بعد ازاں انہوں نے شام کے حالات کے پیش نظر دربار الرقہ، شام منتقل کر دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ بغداد دنیا کے کسی بھی مقام سے زیادہ بہتر ہے۔ ہارون ایک عادل بادشاہ تھا جو راتوں کو بھیس بدل کر دار الحکومت کی گلیوں میں چکر لگاکر عوام کے مسائل معلوم کرتا تھا۔

ادب اور فنونترميم

ہارون علم، شاعری اور موسیقی سے شغف رکھنے کے علاوہ خود ایک عالم اور شاعر تھا اور اسے جب بھی اپنی سلطنت یا پڑوسی سلطنتوں میں کسی عالم کا پتہ چلتا تو وہ اسے اپنے دربار میں ضرور طلب کرتا۔ اس کے دور میں خلافت عباسیہ کے چین اور فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

حکومتترميم

عسکری شعبے میں ہارون ایک جانباز سپاہی تھا جس نے اسی وقت اپنی بہادری کے جوہر دکھادیئے تھے جب اس کے والد خلیفہ تھے۔ انہوں نے بعد ازاں بازنطینی سلطنت کے خلاف 95 ہزار کی فوج کی کمان سنبھالی جو اس وقت ملکہ ایرین کے زیرسربراہی تھی۔ ایرین کے معروف جنرل نیکٹس کو شکست دینے کے بعد ہارون کی فوج نے کریسوپولس (موجودہ اوسکودار، ترکی) میں پڑاو ڈالا جو قسطنطنیہ کے بالکل سامنے ایشیائی حصے میں قائم تھا۔ جب ملکہ نے دیکھا کہ مسلم افواج شہر پر قبضہ کرنے والی ہیں تو اس نے معاہدے کے لیے سفیروں کو بھیجا لیکن ہارون نے فوری ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام شرائط منظور کرنے سے انکار کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک سفیر نے کہا کہ ملکہ نے بطور جنرل آپ کی صلاحیتوں کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے حالانکہ آپ ان کے دشمن ہیں لیکن وہ بطور ایک سپاہی آپ کی قدر کرتی ہیں۔ ہارون ان کلمات سے خوش ہوا اور سفیروں کو کہا کہ اپنی ملکہ سے کہہ دو کہ وہ ہمیں سالانہ 70 ہزار اشرفیاں عطا کرتی رہے تو کوئی مسلم فوج قسطنطنیہ کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ ملکہ نے اس شرط کو تسلیم کر لیا اور پہلے سال کا خراج عطا کیا جس پر مسلم افواج واپس گھروں کو لوٹ گئیں۔ کئی سال تک خراج کی ادائیگی کے بعد 802 نائسیفورس نے خراج کی ادائیگی سے انکار کرتے ہوئے جنگ کا اعلان کیا۔ ہارون ایک عظیم فوج لے کر نائسیفورس کے مقابلے پر آیا اور بحیرہ اسود کے کنارے شہر ہراکلیا کامحاصرہ کرکے نائسیفورس کو دوبارہ خراج کی ادائیگی پر رضامند کیا۔ لیکن خلیفہ کے بغداد پہنچتے ہی وہ ایک مرتبہ پھر مکر گیا جس پر ہارون 15 ہزار افراد کے ساتھ ایشیائے کوچک پر ایک مرتبہ پھر حملہ آور ہوا جبکہ رومیوں کی تعداد ایک لاکھ 25 ہزار تھی لیکن ہارون نے اسے زبردست شکست دی اور نائسیفورس زخمی ہوا اوراس کے 40 ہزار فوجی مارے گئے۔ خراج کی ادائیگی پر رضامندی کے اظہار کے باوجود رومی بادشاہ ایک مرتبہ پھر مکر گیا جس پر ہارون رشید نے اس کے قتل کا حکم جاری کیا اور ایک مرتبہ پھر رومی سلطنت پر چڑھائی کی لیکن اسی وقت سلطنت عباسیہ کے ایک شہر میں بغاوت شروع ہو گئی جسے کچلنے کے لیے وہ اس جانب روانہ ہوا لیکن بیماری کے باعث انتقال کرگیا۔ اسے طوس میں دفنایا گیا۔

ہارون رشید سنین کے آئینے میںترميم

  • 763ء یا 766ء : ہارون کی پیدائش
  • 780ء: ہارون کی زیر قیادت بازنطینی سلطنت کے خلاف جنگ
  • 782ء: ہارون کی زیر قیادت بازنطینی سلطنت کے خلاف ایک اور جنگ جس میں مسلم افواج آبنائے باسفورس تک پہنچ گئیں تاہم معاہدہ امن طے پایا۔ ہارون کو الرشید کے خطاب سے نوازا گیا اور وہ خلافت کے لیے دوسرا امیدوار قرار دیا گیا۔ علاوہ ازیں اسے تیونس، مصر، شام، آرمینیا اور آذربائیجان کا گورنر بھی مقرر کیا گیا۔
  • 14 ستمبر 786ء: ہارون کے بھائی الہادی کی پراسرار موت۔ ہارون کو خلیفہ قرار دیا گیا۔
  • 791ء: ہارون کی بازنطینی سلطنت کے خلاف جنگ
  • 800ء: ہارون نے تیونس میں ابراہیم ابن الاغلب کو نیم خود مختار گورنر مقرر کر دیا۔
  • 803ء: یحیی کا انتقال، ہارون کو مزید کئی اختیارات مل گئے۔
  • 807ء: ہارون کی افواج نے قبرص پر قبضہ کر لیا۔
  • 809ء: سلطنت کے مشرقی حصے میں سفر کے دوران انتقال، الامین نے خلافت سنبھالی۔

مزید دیکھیےترميم

بیرونی روابطترميم


ہارون الرشید
پیدائش: 763ء وفات: 809ء
مناصب سنت
ماقبل 
الہادی
خلیفۃ الاسلام
786ء   –   809ء
مابعد 
امین الرشید
  1. عنوان : Абу-Обеида — شائع شدہ از: Entsiklopedicheskiy Leksikon. Tom 1, 1835