ابو الحسن اشعری

علم الکلام کے بانی

ابو الحسن اشعری عباسی دور کے مشہور مسلمان عالم دین اور علم کلام کے بانی تھے۔ 873ء میں بصرہ میں پیدا ہوئے۔ چالیس برس تک معتزلی عقائد کے حامی رہے۔ پھر مسئلہ قدر کے بارے میں معتزلہ سے اختلاف ہو گیا۔ اور اس کے خلاف کئی کتب لکھیں۔ اسلام کے علمی عروج کے زمانے میں فلسفے کے دو مکاتب فکر کو بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ ایک مکتب فکر معتزلہ کے نام سے مشہور ہوا۔ دوسرا اشاعرہ یا اشعرئیین کے نام سے۔ آخرالذکر مکتب فکر اپنے بانی ابوالحسن اشعری کی طرف منسوب ہے۔ اشعری نے تقریباً اپنی تمام تصانیف میں معتزلہ کا جواب دیا ہے اور ان کے دلائل کو بے بنیاد ثابت کیا ہے۔ ان کی تصانیف بے شمار تھیں مگر بیشتر ضائع ہوگئیں۔

ابو الحسن اشعری
(عربی میں: أبو الحسن الأشعري ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الأشعري.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 873[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 935 (61–62 سال)[2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد[1]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان،  متکلم،  فلسفی،  مفسر قرآن،  فقیہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[8]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل اسلامی الٰہیات،  علم کلام  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

آپ نے پہلی مرتبہ دلائل سے اور عقلی بنیاد پر اسلامی عقائد اور نظریات کی صداقت ثابت کی اور ایک نئے علم کی بنیاد ڈالی جو علم کلام کہلاتا ہے۔ جس کا مقصد عقلی دلائل سے اسلام کی سچائی ثابت کرنا ہے۔ وہ تقریباًً ڈھائی سو کتب کے مصنف تھے جن میں اَلاِبَانہ عن اصول الدیانۃ، مقالات الاسلامیین اور کتاب اللمع فی الرد علی الزیع والبدع مشہور ہیں۔ آخری کتاب کا ترجمہ 1953ء میں انگریزی میں شائع ہوا۔ اشعری مکتب فکر کے مبلغین میں امام غزالی کا نام سرفہرست ہے۔ آپ نے 935ء میں بغداد میں وفات پائی۔

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب پ عنوان : Новая философская энциклопедия
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12184603x — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب ربط : کتب خانہ کانگریس اتھارٹی آئی ڈی  — اخذ شدہ بتاریخ: 9 نومبر 2017 — ناشر: کتب خانہ کانگریس
  4. NE.se ID: https://www.ne.se/uppslagsverk/encyklopedi/lång/abu-al-hasan-al-ashari — بنام: Abu al-Hasan al-Ashari — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Nationalencyklopedin
  5. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6sz0hkf — بنام: Abu al-Hasan al-Ash'ari — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/aschari-abu-l-hasan-al- — بنام: Abu l-Hasan al- Aschari
  7. گرین انسائکلوپیڈیا کیٹلینا آئی ڈی: https://www.enciclopedia.cat/EC-GEC-0005569.xml — بنام: al-Aš’arī — عنوان : Gran Enciclopèdia Catalana
  8. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12184603x — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ