ابو الحسن کرخی یہ حنفی فقیہ اور عراق میں حنفیہ کے امام و شیخ ہیں۔ عبید اللہ کرخی سے بھی معروف ہیں۔

پورا نام عبيدالله ابن الحسین بن دلال بن دلہم المكنی الکرخی ہے۔ فقہ حنفی کے معتبر ائمہ میں سے ہیں۔

ولادت

ترمیم

پیدائش کرخ (260ھ) میں ہوئی۔ پھر عراق منتقل ہوئے۔

تعلیم

ترمیم

امام کرخی جس زمانہ میں پڑھنے کے قابل ہوئے اس زمانہ میں شہر بغداد مرکز علم و ادب تھا۔ خود محلہ کرخ میں اور دریائے دجلہ کے دوسری طرف شہر بغداد میں بڑے بڑے علما اور ادبا کا جمگھٹا تھا ۔ انھوں نے اپنی تعلیم کے دوران تقریبا ان تمام علما فقہا اور محدثین سے استفادہ کیا جو اس زمانہ میں وہاں موجود تھے ۔ ان کے اساتذہ کرم میں سب سے زیادہ اہم شخصیت ابوسعید البردعی کی تھی جو امام ابوحنیفہ کے پوتے اسماعیل بن حماد بن ابی حنیفہ کے شاگرد تھے اور اسی سلسلہ سند سے امام ابو حنیفہ کی روایت کردہ احادیث اور خود امام صاحب کے فتادی روایت کرتے تھے۔دیگر اساتذہ میں اسماعيل بن اسحاق القاضی، احمد ابن يحی الحلوانی، اورمحمد بن عبد الله بن سليمان المصری شامل تھے۔[1]

وفات

ترمیم

ان کی وفات بغداد (340ھ بمطابق 951ء)میں ہوئی۔

کرخی نسبت

ترمیم

جب صرف کرخی نام بولا جائے تو اس سے مراد ابو الحسن کرخی ہوتے ہیں معروف کرخی جو اس پہلے گذرے وہ مراد نہیں ہوتے[2]

علمی مقام

ترمیم

امام ابو الحسن الکرخی امام طحاوی کے ہم عصر اور ان کے شیوخ واساتذہ سے علم حاصل کیا۔

امام عبدالرحمٰن بن علی بن الجوزی نے ’’مناقب معروف الکرخی واخبارہ‘‘ کے نام سے جو کتاب لکھی ہے وہ مشہور صوفی معروف کرخی ؒ کے حالات میں ہے ۔

تصنیفات

ترمیم

ان کی تصنیفات بڑی اہم ہیں۔

حوالہ جات

ترمیم
  1. اصول الکرخی، امام عبید اللہ بن الحسین الکرخی،صفحہ 11 ادارہ تحقیقات اسلامی اسلام آباد
  2. فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 83 مکتبہ رحمانیہ لاہور
  3. موسوعہ فقہیہ، جلد اول صفحہ 486، وزارت اوقاف کویت، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
  4. الفوائد البہية 107