ہانی بن نیار بلوی غزوہ بدر میں شریک انصار کے حلیف صحابی تھے۔ کنیت کی وجہ سے ابو بردہ بن نیار مشہور ہیں۔

ہانی بن نیار
معلومات شخصیت

نام و نسبترميم

ہانی نام، ابوبردہ کنیت، قبیلۂ بلی سے ہیں۔ سلسلۂ نسب یہ ہے ہانی بن نیار ابن عمرو بن عبید بن کلاب بن دہمان بن غنم بن ذبیان بن ہمیم بن کاہل بن ذہل بن بلی۔ قوم بلی اور بنو قضاعہ سے ہیں۔ آپ براء بن عازب کے ماموں ہیں۔

اسلامترميم

عقبۂ ثانیہ میں مسلمان ہوئے۔

غزواتترميم

بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں شرکت کی، غزوہ احد میں مسلمانوں کے پاس صرف دو گھوڑے تھے جن میں ایک ابو بردہ کا تھا، فتح مکہ میں بنو حارثہ کا جھنڈا انہی کے پاس تھا۔

عہد نبوت کے بعد علی بن ابی طالب کی تمام لڑائیوں میں شریک رہے۔

وفاتترميم

امیر معاویہ کے زمانۂ خلافت میں 45ھ میں وفات پائی۔[1][2]

حدیثترميم

براء بن عازب فرماتے ہیں: میرے ماموں نے رسولِ اکرم ﷺ کے نماز پڑھانے سے پہلے ہی قربانی کر لی تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: تمہاری بکری صرف گوشت ہے۔ انہوں نے عرض کی : میرے پاس بکری کا بچہ ہے جو بکری سے بہتر ہے کیا اس کی قربانی کر دوں؟ ارشاد فرمایا: ہاں اور تمہاری یہ چھوٹی قربانی بہتر ہے اور تمہارے بعد کسی کو بھی ”جَذَعَہ“ (ایک سال سے کمر عُمْر بکری کا بچہ) کفایت نہ کرے گا۔[3]

اولادترميم

کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔

فضل وکمالترميم

البتہ معنوی اولاد بہت سی ہیں اور ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں، براء بن عازب، (بھانجے تھے) جابر بن عبد اللہؓ، عبدالرحمن بن جابر، کعب بن عمیر بن عقبہ بن نیار، نصر بن یسار، بشیر بن یسار روایتوں کی تعداد 20 ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 333حصہ نہم مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور
  2. اصحاب بدر،صفحہ 206،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور
  3. نسائی، کتاب الضحایہ، باب ذبیحہ الضحيہ قبل الامام